
ریفارمز ایکسپریس کے راستے پر حکومت، عوام کی آمدنی میں اضافہ ہوا: صدر جمہوریہ مرمو
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں حالیہ اصلاحات، نئے لیبر کوڈز اور کم مہنگائی کی شرح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 'ریفارمز ایکسپریس‘ کے راستے پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ مرمو نے کہا کہ گزشتہ 11 سال میں ملک کی اقتصادی بنیادیں نہایت مضبوط ہوئی ہیں۔ مختلف عالمی بحرانوں کے باوجود ہندستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ افراطِ زر کی شرح کو کم رکھنے کا ریکارڈ مزید بہتر ہوا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک کے باشندوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، بچت بڑھی ہے اور خریداری کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے ملک کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے اسے ہندستان کے مینوفیکچرنگ اور سروس شعبے کو رفتار دینے والا ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔محترمہ مرمونے کہا کہ حکومت 'ریفارمز ایکسپریس' کے راستے پر گامزن ہے اور پرانے قوانین و التزامات کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مسلسل بدلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں عوام کو ایک لاکھ کروڑ روپے کی بچت یقینی ہوئی ہے۔ جی ایس ٹی میں کمی کے بعد سال 2025 میں دو پہیہ گاڑیوں کا رجسٹریشن دو کروڑ سے تجاوز کر گیا، جو اپنے آپ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ حکومت نے 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس صفر کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اصلاحی اقدامات سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو بے مثال فائدہ ہوا ہے اور ملک کی معیشت کو نئی رفتار ملی ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک نے نئے شعبوں کے ابھرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے لیبر قوانین نافذ کیے ہیں۔ طویل عرصے تک ملک کی محنت کش قوت درجنوں قوانین میں الجھی ہوئی تھی، جسے اب صرف چار ضابطوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس سے مزدوروں کو مناسب اجرت، الاؤنسز اور دیگر فلاحی فوائد حاصل کرنا آسان ہوا ہے۔ ملک کے نوجوانوں اور خواتین کو اس کا خاص فائدہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پیداوار پر مبنی ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت اب تک تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئی ہے اور 11 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی پیداوار ہوئی ہے۔ ملک کا الیکٹرانکس شعبہ غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں الیکٹرانکس پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 11 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔
سرمایہ کاری اور برآمدات میں ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں ملک میں تقریباً 750 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ہے۔ حکومت نئے شعبوں کو فروغ دے رہی ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے مائیکرو چِپ میں خود کفالت حاصل کرنے کے مقصد سے سال 2025 میں مزید چار سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی گئی ہے۔ آئندہ وقت میں ایسی 10 فیکٹریاں پیداوار شروع کرنے والی ہیں۔ ہندستان اب نینو چِپ مینوفیکچرنگ کے لیے بھی بڑے اقدامات کر رہا ہے۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ چِپ کے علاوہ حکومت نے اہم معدنیات پر بھی مشن موڈ میں کام شروع کیا ہے۔ نیشنل کریٹیکل منرلز مشن کے ذریعے ضروری معدنیات کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کو کم کیا جا رہا ہے۔
ملک میں جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہندستان سمندری تجارت کی ایک بڑی طاقت ہوا کرتا تھا، لیکن غلامی کے بعد دہائیوں کی نظراندازی کے سبب آج ملک کی 95 فیصد تجارت غیر ملکی جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے، جس پر ہر سال چھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے اس صورتحال سے ملک کو باہر نکالنے کے لیے جہاز رانی کے شعبے کے لیے تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے کے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ بڑے جہازوں کو بنیادی ڈھانچے کا درجہ دیا گیا ہے اور جہاز رانی سے متعلق پرانے قوانین کو بھی موجودہ ضروریات کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔
خود روزگار کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ مدرا یوجنا کے تحت اب تک 38 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا فنڈ، چھوٹے کاروباریوں کو ملا ہے۔ تقریباً 12 کروڑ سے زائد قرض پہلی بار خود روزگار شروع کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔
اسی طرح، پی ایم وشوکرما یوجنا کے تحت ملک کے 20 لاکھ سے زیادہ کاریگروں کو ٹریننگ اور بینکنگ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ پی ایم سونِدھی یوجنا کے تحت بھی ریہڑی اور فٹ پاتھ پر کام کرنے والے 72 لاکھ افراد کو 16 ہزار کروڑ روپے کی مدد دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا پروگرام کی بدولت گزشتہ 10 برسوں میں ہندستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن گیا ہے۔ ایک دہائی قبل تک ملک میں 500 سے بھی کم اسٹارٹ اپ تھے۔ آج تقریباً دو لاکھ اسٹارٹ اپ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ صرف گزشتہ سال ہی تقریباً 50 ہزار نئے اسٹارٹ اپ رجسٹر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹارٹ اپ نیٹ ورک میں 20 لاکھ سے زیادہ نوجوان کام کر رہے ہیں۔ ان اسٹارٹ اپ میں سے 45 فیصد میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر شامل ہے۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران دنیا نے ہندستان کی مسلح افواج کی بہادری اور شجاعت کا مشاہدہ کیا ہے اور حکومت ملک کی سلامتی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے 'مشن سدرشن چکر' پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سندھو آبی معاہدے کو معطل کیا جانا بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔محترمہ مرمو نے بدھ کو یہاں پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان نہ کسی کو ڈراتا ہے اور نہ ہی کسی سے ڈرتا ہے۔انہوں نے کہا، 'ری گرو تیغ بہادر جی نے ہمیں سکھایا ہے - بھَے کاہو کو دیت نے، نے بھَے مانت آن - یعنی ہم نہ کسی کو ڈرائیں اور نہ ہی ڈر کر جئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی بے خوف جذبے کے ساتھ ہندستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ طاقت کا استعمال ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، آپریشن سندور کے ذریعے دنیا نے ہندستانی فوج کی جرأت اور پراکرم کو دیکھا ہے۔ ہمارے ملک نے اپنے وسائل کے بل پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ میری حکومت نے سخت پیغام دیا ہے کہ ہندستان پر کسی بھی دہشت گرد حملے کا جواب مضبوط اور فیصلہ کن ہوگا۔ سندھو آبی معاہدے کو معطل کرنا بھی دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کا حصہ ہے۔ ملک کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشن سدرشن چکر پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ حکومت ملک کو ہر شعبے میں، خاص طور پر دفاعی شعبے میں، خود کفیل بنانے کی سمت میں مسلسل اور ٹھوس کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ''آج میک ان انڈیا کے وژن کے تحت تیار کی جانے والی مصنوعات دنیا کی مختلف منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ سوَدیشی کو لے کربھی ملک کے عوام میں زبردست جوش وخروش ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں ہندستان کی دفاعی پیداوار ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اور دفاعی برآمدات بھی ریکارڈ 23 ہزار کروڑ روپے سے اوپر چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد 'میڈ اِن انڈیا ڈیفنس پلیٹ فارمز' پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ حکومت دلتوں، پسماندہ، محروم طبقات طبقات اور قبائلی سماج سمیت سبھی کے لیے پوری حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے اور آج تقریباً 95 کروڑ ہندوستانیوں کو سماجی تحفظ کی کوَچ ملا ہے۔
محترمہ مرمو نے بدھ کے روز بجٹ اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت دلتوں، پسماندہ، محروم طبقات اور قبائلی سماج سمیت سبھی کے لیے مکمل حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا وژن ملک کے ہر شہری کی زندگی میں مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ سال 2014 کے آغاز میں سماجی تحفظ کی اسکیمیں صرف 25 کروڑ شہریوں تک ہی محدود تھیں، لیکن حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں آج تقریباً 95 کروڑ ہندوستانیوں کو سماجی تحفظ کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔"انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کے لیے شروع کی گئی آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت گزشتہ برس تک ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں 11 کروڑ سے زائد افراد کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔ اس اسکیم کے تحت صرف گزشتہ برس ڈھائی کروڑ غریبوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال میں قریب ایک کروڑ بزرگ شہریوں کو وئے وندنا کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تقریباً آٹھ لاکھ بزرگوں نے اسپتال میں داخل رہتے ہوئے مفت علاج حاصل کیا۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ آج ملک میں قائم ایک لاکھ 80 ہزار آیوشمان آروگیہ مندروں کی بدولت مریضوں کو گھر کے قریب علاج کی سہولت یقینی ہوئی ہے۔ حکومت نے بڑی بیماریوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی ہے۔ سِکل سیل اینیمیا کے خاتمے کے مشن کے تحت ساڑھے چھ کروڑ سے زائد شہریوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جس سے کئی قبائلی علاقوں میں اس بیماری کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مشن موڈ میں چلائے گئے اقدامات کے باعث جاپانی انسیفلائٹس جیسی بیماریوں پر مؤثر قابو پایا گیا ہے۔ اتر پردیش کے کئی پسماندہ اور دیہی علاقوں میں اس بیماری کی مؤثر روک تھام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے ہندوستان کو آنکھوں کے انفیکشن ٹریکوما سے پاک ملک قرار دیا ہے۔محترمہ مرمو نے کہا کہ حکومت ہر شہری کو بیمہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور پی ایم سرکشا بیمہ یوجنا کا اس میں اہم رول ہے۔ ان اسکیموں کے ذریعے کروڑوں ضرورت مند شہریوں کو بیمہ کوریج فراہم کیا گئی ہے اور ان کے تحت 24 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے دعوؤں کی ادائیگی بھی کی جا چکی ہے۔ یہ اسکیمیں بحران کے وقت کروڑوں غریبوں کے لیے سہارا ثابت ہوئی ہیں۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ حکومت کی تیسری مدت کار میں غریبوں کو بااختیار بنانے کی مہم مزید تیزی سے آگے بڑھی ہے اور اسی کے تحت گزشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ ملک کے باشندے محرومی کو شکست دے کر غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔ بدھ کے روز بجٹ اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ مرمو نے کہا، ''بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہمیشہ مساوات اور سماجی انصاف پر زور دیا۔ ہمارا آئین بھی ہمیں یہی ترغیب دیتا ہے۔ حقیقی سماجی انصاف کا مطلب ہے کہ ملک کے ہر شہری کو اس کا پورا حق ملے، بغیر کسی امتیاز کے۔ میری حکومت حقیقی سماجی انصاف کے لیے وقف ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ ملک کے باشندے غربت کو شکست دے کر اس سے باہر نکلے ہیں۔
حکومت کے تیسرے دور میں غریبوں کو بااختیار بنانے کی مہم مزید رفتار پکڑ چکی ہے۔''
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران غریبوں کے لیے چار کروڑ پکے مکانات تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک سال میں 32 لاکھ نئے مکانات غریب خاندانوں کو فراہم کیے گئے۔ جل جیون مشن کے پانچ برسوں میں ساڑھے بارہ کروڑ نئے خاندانوں تک پائپ کے ذریعے پینے کا پانی پہنچایا گیا۔ گزشتہ ایک سال میں تقریباً ایک کروڑ نئے خاندانوں تک نل سے جل کی سہولت فراہم کی گئی۔ اجولا یوجنا کے تحت اب تک 10 کروڑ سے زائد خاندانوں کو ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں اور گزشتہ برس بھی یہ مہم تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفاف اور ایماندار نظام کو مستقل شکل دے رہی ہے۔ اسی ایک سال کے دوران حکومت نے پونے سات لاکھ سے زیادہ فوائد ڈی بی ٹی کے ذریعہ براہِ راست مستحقین تک پہنچائی ہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



