
ریزرویشن، سماجی انصاف اور او بی سی اتحاد کے علمبردار شبیر احمد انصاری کا انتقال، طویل جدوجہد کا خاتمہ
مہاراشٹر کے ضلع جالنہ سے تعلق رکھنے والے معروف او بی سی رہنما اور آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے بانی صدر شبیر احمد انصاری کا 22 مارچ 2026 کو انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر تقریباً 70 سے 75 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہے اور وہ گزشتہ 45 برس سے زائد عرصے سے او بی سی خصوصاً مسلم او بی سی (پسماندہ) طبقے کے حقوق کے لیے سرگرم رہے۔ ان کے پسماندگان میں بیوی، 3 بیٹے اور 6 بیٹاں شامل ہیں۔ ان کی تدفین جالنہ میں رات 9 بجے ادا کی جائے گی۔
شبیر احمد انصاری ایک کسان خاندان میں پیدا ہوئے اور محدود تعلیمی مواقع کے باوجود انہوں نے سماجی ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے دیہی اور پسماندہ مسلم طبقات جیسے جولاہا، قریشی، نائی، تیلی، مالی اور دیگر پیشہ ور برادریوں کو منظم کیا، جو مسلم ہونے کے باوجود سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار تھے۔
انہوں نے 1978 میں ولاس سونونے اور حسن کمال کے ساتھ مل کر آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے انہوں نے ریاست اور ملک بھر میں ایک مضبوط تحریک کھڑی کی۔ ان کی قیادت میں 100 سے زائد بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں اورنگ آباد اور لکھنؤ کی ریلیاں خاص طور پر اہم رہیں، جب کہ 5 فروری 1984/1986 کی بڑی ریلی کو تحریک کا اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔
ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں 7 دسمبر 1994 کو مہاراشٹر حکومت نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 57 سے زائد سرکاری قراردادیں( جی آر) جاری کی گئیں، جن کے ذریعے مسلم او بی سی طبقات کے لیے سرٹیفکیٹ اور دیگر سہولتیں آسان بنائی گئیں۔
شبیر انصاری نے منڈل کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لیے سرگرم کردار ادا کیا اور مذہب سے بالاتر ہو کر ریزرویشن کے اصول کی حمایت کی۔ انہوں نے 27 فی صد او بی سی کوٹے میں سے اقلیتی ذیلی کوٹہ دینے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندو اور مسلم او بی سی کے درمیان تقسیم پیدا ہوگی اور پسماندہ طبقات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کے مکمل نفاذ کی بھی وکالت کی۔
ان کی جدوجہد کے دوران انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اشراف طبقے کے بعض حلقوں اور تنظیموں نے ان پر تنقید کی اور پر کمیونٹی کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا، جبکہ بعض مواقع پر انہیں ذاتی حملوں اور دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک موقع پر ان پر چاقو سے حملے کی کوشش بھی شامل تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی تحریک جاری رکھی۔
معروف فلم اداکار دلیپ کمار نے بھی ان کی تحریک کی بھرپور حمایت کی۔ 1990 میں دلیپ کمار نے ان کی تنظیم کی سرپرستی قبول کی اور متعدد اجتماعات میں شرکت کی۔ انصاری کے مطابق دلیپ کمار خود کو اس تحریک کا "باغبان" کہتے تھے اور انہوں نے ذات پات کے خلاف شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیاسی طور پر شبیر انصاری کے تعلقات سینئر او بی سی رہنما چھگن بھجبل اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے قریبی رہے۔ دونوں رہنماؤں نے او بی سی حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی۔ 17 نومبر 2023 کو جالنہ کے امبڑ میں منعقدہ "او بی سی مہا ایلغار" اجلاس میں بھی وہ ایک ساتھ شریک ہوئے تھے۔
2024 میں جب مہاراشٹر حکومت نے مراٹھا برادری کو کنبی سرٹیفکیٹ کے ذریعے او بی سی زمرے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، تو شبیر انصاری نے چھگن بھجبل، پرکاش شینڈگے اور وجے وڈیٹیوار کے ساتھ مل کر اس کی مخالفت کی اور اسے او بی سی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا۔
ان کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی کتاب "منڈل نامہ" بھی 2024 میں ممبئی کے خلافت ہاؤس میں جاری کی گئی، جس میں انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا جو محدود وسائل کے باوجود سماجی انقلاب کا باعث بنے۔
شبیر انصاری نے کبھی ذاتی مفادات کے لیے سیاست نہیں کی اور نہ ہی کسی بڑے عہدے یا فائدے کی خواہش ظاہر کی، جس کی وجہ سے انہیں مختلف سیاسی جماعتوں میں احترام حاصل رہا۔ 2025 میں ان کی صحت خراب ہونے پر انہیں ٹاٹا اسپتال، ممبئی میں داخل کیا گیا تھا، جہاں مختلف رہنماؤں نے ان کی عیادت کی۔
ان کے انتقال کے بعد جالنہ، اورنگ آباد، ممبئی اور دیگر علاقوں میں تعزیتی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ چھگن بھجبل، وجے وڈیٹیوار، ابو عاصم اعظمی ، محمد عارف نسیم خاں، اور اورنگ آباد کے مولانا عبدالقیوم ندوی کے علاوہ اور دیگر او بی سی رہنماؤں نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات او بی سی تحریک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
شبیر احمد انصاری نے اپنی پوری زندگی مسلم او بی سی ریزرویشن، پسماندہ طبقات کے اتحاد اور سماجی انصاف کے لیے وقف رکھی۔ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچا اور ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
شبیر احمد انصاری کو مسلم او بی سی تحریک کا معمار تصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے 1984 میں مہاراشٹر مسلم او بی سی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھ کر پسماندہ مسلم طبقات کو منظم کیا اور ان کے حقوق کے لیے ایک مضبوط تحریک چلائی۔ ان کی قیادت میں بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے ہوئے، جس کے نتیجے میں مہاراشٹر میں مسلم او بی سی طبقات کو ریزرویشن حاصل ہوا۔ وہمندل کمیشن
کی سفارشات کو نافذ کرانے کی جدوجہد میں بھی سرگرم رہے اورشردیادو،رام عکاس پاسوان اور کرپوری ٹھاکر جیسے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا۔
جالنہ کے ایک سادہ بنکر خاندان سے تعلق رکھنے والے شبیر انصاری نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پوری زندگی پسماندہ مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے مسلم سماج کے دستکار طبقات کو آئینی حقوق دلانے کے لیے منظم جدوجہد کی اور انہیں سماجی و سیاسی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خودنوشت "منڈل نامہ" ان کی جدوجہد اور او بی سی تحریک کی ایک اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔
ان کے انتقال پر مختلف سماجی و سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ معروف سماجی و تعلیمی شخصیت سعید احمد خان، جو ان کی عیادت کے لیے جالنہ پہنچے تھے، نے کہا کہ شبیر انصاری کی وفات سے تاریخ کا ایک روشن باب بند ہوگیا۔ انہوں نے انہیں ایک نڈر سماجی رہنما، اینٹی کاسٹ ایکٹیوسٹ اور پسماندہ طبقات کا سچا ترجمان قرار دیا۔
کانگریس کے قومی ترجمان نظام الدین راعین نے کہا کہ شبیر انصاری نے پسماندہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد نے مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں او بی سی تحریک کو تقویت دی، اورولاس راؤ دیشمکھ کے دور میں ان کی تحریک کو مزید مضبوطی ملی۔
اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی نے، جو ان کے آخری وقت میں جالنہ میں موجود تھے، کہا کہ شبیر انصاری ایک مخلص اور بااصول رہنما تھے جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے یاد کیا کہ اپنی تحریک کے دوران شبیر انصاری نے ممبئی میں اپنے دفتر کے استعمال کی اجازت دی اور ہر قدم پر تعاون کیا۔
آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قومی ترجمان مرزا عبد القیوم ندوی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شبیر انصاری کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شبیر انصاری کا نظریہ تھا کہ "حق کی لڑائی سڑکوں سے شروع ہو کر ذہنوں تک پہنچنی چاہیے"، اور اسی فکر کے تحت انہوں نے پسماندہ طبقات کو ایک نئی پہچان دی۔ انہوں نے 1970 اور 80 کی دہائی میں حاشیے پر موجود برادریوں کو منظم کیا اور ان کے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
مرزا عبد القیوم ندوی نے مزید کہا کہ شبیر انصاری نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو مسلم پسماندگان تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور مہاراشٹر میں مسلم او بی سی ریزرویشن کی کامیابی ان کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ آخری وقت تک ذات پات پر مبنی مردم شماری اور دستورِ ہند کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔
شبیر احمد انصاری کو سماجی حلقوں میں "مسلم سماج کا جیوتیبا پھولے" بھی کہا جاتا تھا۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا، تاہم ان کی جدوجہد اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



