
اقتصادی ترقی کے سفر میں خود انحصاری و سودیشی بنیادی اصول: صدر جمہوریہ
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک کی مسلسل اقتصادی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے خود انحصاری اور سودیشی کو ملک کی ترقی کا بنیادی اصول قرار دیا ہے۔
محترمہ مرمو نے یوم جمہوریہ کی ماقبل شام اتوار کو قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیز رفتار سے بڑھنے والی بڑی معیشت ہے۔ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں مسلسل معاشی ترقی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم مستقبل قریب میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر کے ملک اپنے معاشی ڈھانچے کی اعلیٰ سطح پر تعمیرِ نو کر رہا ہے۔ معاشی تقدیر کی تعمیر کے سفر میں خود انحصاری اور سودیشی ہمارے بنیادی اصول ہیں۔ صدرجمہوریہ نے اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو آزادی کے بعد ملک کے معاشی انضمام کے لیے سب سے اہم فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ’’ایک ملک، ایک مارکیٹ‘‘ کا نظام قائم ہوا ہے۔ جی ایس ٹی میں گزشتہ سال ستمبر میں کی گئی اگلی نسل کی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، جی ایس ٹی نظام کو مزید موثر بنانے کے حالیہ فیصلے سے ہماری معیشت کو مزید طاقت ملے گی۔ محترمہ مرمو نے لیبر ریفارمس کے میدان میں چار نئے کوڈز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مزدور طبقہ مستفید ہوگا اور صنعتی ترقی کو بھی رفتار ملے گی۔ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے صدر مرمو نے نوجوانوں کو قوم کے ترقیاتی سفر کا علمبردار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے والا ایک تجربہ کار تعلیمی نظام 'میرا یوا بھارت‘ نوجوانوں کو قیادت اور ہنر مندی سمیت کئی شعبوں میں دستیاب مواقع سے جوڑتا ہے۔ ملک میں اسٹارٹ اپس کی کامیابی کا سہرا نوجوان کاروباریوں کے سر باندھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی امنگوں پر مبنی پالیسیوں اور پروگراموں کی بدولت ملک کی ترقی کو رفتار ملے گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سال 2047 تک 'وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کی تعمیر میں نوجوانوں کی طاقت کا کلیدی کردار رہے گا۔ صدر جمہوریہ نے ملک میں دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کی ’’لامحدود صلاحیتوں’’ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے نوجوان کاروباری، کھلاڑی، سائنسداں اور پیشہ ور افراد ملک میں نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد پر مبنی گڈ گورننس پر زور دے کر حکومت اور عام عوام کے درمیان فاصلے کو مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔
بہت سے غیر ضروری قوانین کو منسوخ کر دیا گیا ہے، تعمیل سے متعلق کئی رکاوٹیں ختم کر دی گئی ہیں اور عام لوگوں کے مفاد میں نظام کو سادہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کے مقصد کے ساتھ گذر بسر میں آسانی کو ترجیح دے رہی ہے۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قومی اہداف کو جن بھاگیداری کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اہم قومی مہمات کو عوامی تحریکوں کی شکل دی گئی ہے۔ گاؤں گاؤں اور شہر شہر میں مقامی اداروں کو ترقی پسند تبدیلی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے ترقی یافتہ قوم کی تعمیر کو تمام ہم وطنوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں لامحدود طاقت ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو جب معاشرے کی فعال حمایت حاصل ہوتی ہے، تو انقلابی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے لوگوں نے بڑے پیمانے پر اپنایا ہے۔ آج دنیا کے آدھے سے زیادہ ڈیجیٹل لین دین ہندوستان میں ہوتے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی دکان سے سامان خریدنے سے لے کر آٹو رکشہ کا کرایہ ادا کرنے تک، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال عالمی برادری کے لیے ایک متاثر کن مثال بن گیا ہے۔ انہوں نے ہم وطنوں سے دیگر قومی اہداف کے حصول میں بھی اسی طرح کی فعال شرکت کی امید ظاہر کی۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



