مواد پر جائیں
قومی

سپریم کورٹ نے دہلی کے وراثتی مقامات کے رکھ رکھاؤ کی نگرانی پر کیا غور

Awaze Bihar4 منٹ پڑھیں

سپریم کورٹ نے قانونی اداروں کی جانب سے طویل عرصے سے کی جا رہی لاپروائی کو دیکھتے ہوئے جمعہ کو دہلی میں وراثتی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کے رکھ رکھاؤ اور تحفظ کی نگرانی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ تبصرہ لودھی دور کی شیخ علی 'گُمٹی' پر غیر قانونی قبضے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران کیا گیا، جو تقریباً 500 سال پرانا آثارِ قدیمہ کی اہمیت کا حامل مقبرہ ہے۔
گُمٹی پر ڈیفنس کالونی ویلفیئر ایسوسی ایشن (ڈی سی ڈبلیو اے) نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا تھا، جبکہ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے اس مقام پر ایک غیر مجاز دفتر اور پارکنگ سہولت قائم کر رکھی تھی۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ ایک سال کے دوران تجاوزات ہٹانے کے احکامات دیتے ہوئے کئی فیصلے صادر کیے ہیں اور اس کی بحالی کی کوششوں کی باریکی سے نگرانی کر رہی ہے۔
تیرہ جنوری کو جب اس معاملے کی سماعت ہوئی تو جسٹس احسن الدین امان اللہ اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے درج کیا کہ متعلقہ فریقوں کی جانب سے بحالی کا کام "صحیح جذبے" کے ساتھ انجام دیا گیا ہے۔ بنچ نے حتمی مرمتی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تکمیل میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ درخواست گزار راجیو سوری نے ایک عرضی دائر کر کے کارروائی کے دائرۂ کار کو بڑھانے کی درخواست کی ہے تاکہ دہلی کے دیگر وراثتی مقامات کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے، جو مختلف قانونی اداروں کے زیرِ انتظام ہیں۔ ان میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) بھی شامل ہے، جو مبینہ طور پر ان مقامات کا مناسب رکھ رکھاؤ نہیں کرپارہا ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا کہ راجدھانی میں تحفظ کی کوششیں "عارضی اور چنندہ نوعیت کی رہی ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کئی وراثتی یادگاریں نظرانداز اور غیر محفوظ حالت میں ہیں اور ایسے مقامات کی موجودہ فہرستیں ایک دہائی سے بھی پرانی ہیں۔ درخواست گزار نے ان جائیدادوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لینے کے لیے وقت مقررہ کے اندر سروے کرانے کی ہدایت دینے کی مانگ کی ہے۔عدالت کی جانب سے مقرر کردہ کمشنر، سینئر وکیل گوپال شنکرنارائن نے سینئر وکیل شِکھل شیو سوری کے ساتھ عدالت میں درخواست پیش کی۔ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اے ایس آئی کے پاس دہلی میں 174 محفوظ مقامات ہیں، دہلی حکومت کے پاس 554، ایم سی ڈی کے پاس 767 اور سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) کے پاس تقریباً 20 وراثتی جائیدادیں ہیں۔
تازہ اور مربوط معلومات کے فقدان کے پیش نظر بنچ نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی)، دہلی چھاؤنی بورڈ اور سی پی ڈبلیو ڈی کو فریق بنانے کی ہدایت دی۔ ان نئے شامل کیے گئے فریقین کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
عدالت نے 21 جنوری 2025 سے متعدد احکامات جاری کرتے ہوئے ڈی سی ڈبلیو اے کو گُمٹی کا قبضہ شہری امور کی وزارت کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او) کو سونپنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے ایم سی ڈی کو بھی غیر قانونی طور پر قبضہ کیے گئے احاطے کو خالی کرنے کا حکم دیا اور یادگار کی مرمت کے لیے ڈی سی ڈبلیو اے پر 40 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔
عدالت کو 14 مئی کو بتایا گیا کہ ڈی سی ڈبلیو اے نے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کو پُرامن طور پر قبضہ سونپ دیا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ ایم سی ڈی نے احاطہ خراب حالت میں خالی کیا، جہاں کچرا، ٹوٹی دیواریں اور بجلی کی عدم دستیابی تھی۔
اس کے بعد 23 جولائی کو عدالت نے ایم سی ڈی کو احاطہ مکمل طور پر صاف کرنے اور تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی اور پھر 30 جولائی کو گُمٹی کے اطراف کے پارک کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
یہ کارروائی راجیو سوری کی جانب سے قدیم یادگاروں اور آثارِ قدیمہ کے مقامات و باقیات ایکٹ، 1958 کے تحت یادگار کے تحفظ کے مطالبے والی عرضی کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ اگست 2024 میں عدالت نے اے ایس آئی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مقام کے تحفظ میں ناکامی پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ابتدائی جانچ کا حکم دیا تھا۔
تحقیقات میں ڈی سی ڈبلیو اے کی جانب سے غیر قانونی قبضے اور غیر مجاز ساختی تبدیلیوں کا انکشاف ہوا۔ سپریم کورٹ نے 14 نومبر 2024 کو آئی این ٹی اے سی (دہلی چیپٹر) کی سابق کنوینر اور وراثتی یادگاروں کی ماہر سپنا لِڈل کو ڈھانچے کو پہنچے نقصان کا اندازہ لگانے اور مرمتی اقدامات تجویز کرنے کے لیے مقرر کیا۔
سی بی آئی کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ گُمٹی کو ڈی سی ڈبلیو اے تقریباً چھ دہائیوں تک دفتر کے طور پر استعمال کرتی رہی۔ اس دوران کئی غیر مجاز تبدیلیاں کی گئیں، جن میں واش روم کی تعمیر، سہولیات کی تنصیب، فالس سیلنگ اور پارکنگ شیڈ شامل ہیں۔ یہ معاملہ اب بھی عدالت کے زیرِ غور ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں