
مستقبل بی جے پی کا ہے اور وہ دن آئے گا جب کیرالہ میں بی جے پی کا وزیرِ اعلیٰ ہوگا
مرکزی وزیرِ داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما امت شاہ نے اتوار کو کیرالہ میں برسراقتدار بائیں بازو ایل ڈی ایف اور اپوزیشن یو ڈی ایف پر سخت حملہ کرتے ہوئے ان پر 'میچ فکسنگ'، باہمی ملی بھگت اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیرالہ میں یقینی طور پر بی جے پی کی حکومت بنے گی۔ مسٹر شاہ نے یہاں مقامی بلدیاتی اداروں کے نومنتخب نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف دہائیوں سے سیاسی ڈرامہ کرتے آ رہے ہیں اور جب بھی انتخابی حساب کتاب کی ضرورت پڑی، دونوں ایک دوسرے کے دفاع میں کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے یہ روایت رہی ہے کہ جب کانگریس اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو بائیں بازو اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح جب تریپورہ میں بائیں بازو کو سیاسی حمایت کی ضرورت پڑی تو کانگریس نے ان کا ساتھ دیا۔ مسٹر شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال اور کیرالہ میں بیک وقت انتخابات ہونے کی وجہ سے کانگریس اور کمیونسٹ وہاں باضابطہ اتحاد میں نہیں آئے ورنہ دونوں وہاں بھی مل کر انتخابات لڑتے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں کانگریس اور کمیونسٹ دونوں صفر نشستوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہاں بی جے پی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ کیرالہ میں بی جے پی کی تنظیمی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی اب تک 30 گرام پنچایتیں اور دو بلدیات جیت چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن میں آج بی جے پی کا میئر ہونا پارٹی کے سیاسی سفر کی ایک اہم کامیابی ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ مستقبل بی جے پی کا ہے اور وہ دن آئے گا جب کیرالہ میں بی جے پی کا وزیرِ اعلیٰ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی بی جے پی کارکنوں کی قربانی اور لگن کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ قومی تناظر میں بات کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ 1984 میں لوک سبھا میں بی جے پی کے صرف دو ارکانِ پارلیمنٹ تھے جبکہ 2024 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پارٹی مسلسل تیسری بار مرکز میں حکومت بنا چکی ہے۔
انہوں نے آسام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی بی جے پی کبھی صرف دو اسمبلی نشستوں تک محدود تھی لیکن آج وہ تیسری بار حکومت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مسٹر شاہ نے الزام لگایا کہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف نہ تو آستھا کی حفاظت کر سکتے ہیں نہ کیرالہ کی سلامتی یقینی بنا سکتے ہیں اور نہ ہی ریاست کی ترقی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بائیں بازو کی پارٹیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں اور کانگریس پورے ملک میں بتدریج کمزور پڑ رہی ہے۔ مسٹر شاہ کے مطابق کیرالہ کی ترقی کا واحد راستہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ہے۔ انہوں نے ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف پر ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان 'میچ فکسنگ' نے بے پناہ امکانات والی اس ریاست کو جمود کا شکار بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں محاذوں کے درمیان ایک غیر تحریری سمجھوتہ ہے کہ اقتدار میں آ کر بدعنوانی کریں گے اور ایک دوسرے کو کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرائیں گے۔
مسٹر شاہ نے ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کی جیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے پارٹی کا آخری ہدف نہیں بلکہ ایک سنگِ میل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد کیرالہ میں کمل کے نشان کے تحت حکومت بنانا اور بی جے پی کا وزیرِ اعلیٰ بنانا ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا وژن پیش کیا ہے اور 'وکست بھارت' کا خواب 'وکست کیرالہ' کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ حالیہ انتخابی کامیابی طویل سفر کا محض ایک مرحلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں بی جے پی کے لیے راستہ کبھی آسان نہیں رہا لیکن مشکلات کے باوجود کارکن مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ مسٹر شاہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ترواننت پورم میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے میئر بننے پر شری پدمنابھ سوامی مندر میں درشن کرنے کا عہد کیا تھا اور ان کا یہ دورہ اسی عہد کی تکمیل ہے۔ اجلاس میں بی جے پی کیرالہ کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے مسٹر شاہ کو بھگوان ایَیَپّا کی مورتی پیش کی۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



