مواد پر جائیں
قومی

بحرالکاہل خطہ ہند۔ جرمنی کے لیے توجہ کا مرکز:وزیر اعظم مودی

Awaze Bihar5 منٹ پڑھیں

وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطہ ہندوستان اور جرمنی دونوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے اور اس خطے میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ایک مشاورتی نظام شروع کیا جا رہا ہے، نیز دونوں ممالک محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط سپلائی چین بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے دو روزہ دورے پر آئے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ بات چیت کے بعد وزیر اعظم مودی نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہند۔ جرمنی ہمیشہ شانہ بہ شانہ چلتے رہے ہیں اور اس دوستی کا اثر عالمی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔ گھانا، کیمرون اور ملاوی جیسے ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ہماری تین سطحی ترقیاتی شراکت داری دنیا کے لیے ایک کامیاب ماڈل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی ترقی کے لیے اپنے مشترکہ اقدامات کو مسلسل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل دونوں ممالک کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔ اس خطے میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ہم ایک مشاورتی نظام شروع کرنے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے یوکرین اور غزہ سمیت کئی عالمی اور علاقائی مسائل پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تمام مسائل اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور اس سمت میں کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی اس کے خلاف متحد ہو کر پوری شدت سے لڑائی جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے جی-4 کے ذریعے دونوں کا مشترکہ اقدام اسی سوچ کا ثبوت ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون سال بہ سال مضبوط ہوا ہے اور آج اس کا اثر زمین پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان اور جرمنی کی ترجیحات ایک جیسی ہیں۔ اس میں تعاون بڑھانے کے لیے ہندوستان-جرمنی ایکسلنس سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ علم، ٹیکنالوجی اور جدت کا مشترکہ پلیٹ فارم بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماحولیات، توانائی، شہری ترقی اور شہری نقل و حمل جیسے شعبوں میں مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ گرین ہائیڈروجن میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کا نیا میگا پروجیکٹ مستقبل کی توانائی کے لیے انقلاب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط سپلائی چین بنانے کی سمت بھی کام کر رہے ہیں۔ آج کیے جانے والے معاہدوں سے تعاون کو نئی رفتار اور مضبوطی ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بڑھتا تعاون باہمی اعتماد اور مشترکہ سوچ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی کاروبار سے متعلقہ طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے وہ چانسلر مرز کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی کام کریں گے، جس سے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تاریخی اور گہرے عوامی تعلقات ہیں اور آج ہم اس تاریخی وابستگی کو جدید شراکت داری کی شکل دے رہے ہیں۔ ہجرت، آمد و رفت اور فروغ مہارت پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور ہندوستان کے باصلاحیت نوجوان جرمنی کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مہارت کی شراکت داری پر جاری مشترکہ اعلان اسی اعتماد کی علامت ہے۔ اس سے خاص طور پر صحت کے شعبے میں پیشہ ور افراد کی آمد و رفت آسان ہوگی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے کھیلوں کے شعبے میں بھی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوانوں کو جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنے گا۔ آج اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے تیار کیا گیا جامع روڈ میپ تعلیمی شعبے میں ہماری شراکت داری کو نئی سمت دے گا۔ میں جرمنی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہندوستانی شہریوں کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ کے اعلان پر میں چانسلر مرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گی۔
انہوں نے گجرات کے لوتهل میں زیر تعمیر قومی بحری ورثہ کمپلیکس کو جرمنی کے بحری میوزیم سے جوڑنے پر بھی مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طب کے شعبے میں گجرات آیوروید یونیورسٹی کا جرمنی کے ساتھ قریبی تعاون رہا ہے۔ اس اہم موضوع پر آج طے پانے والے ایم او یو سے تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
اس سے قبل وزیراعظم نے کہا کہ آج سوامی وویکانند جینتی کے موقع پر چانسلر مرز کا ہندوستان میں استقبال کرنا میرے لیے باعث مسرت ہے۔ یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ سوامی وویکانند ہی نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان فلسفے، علم اور روح کا پل قائم کیا تھا۔ آج چانسلر مرز کا یہ دورہ اسی پل کو نئی توانائی، نیا اعتماد اور نئی وسعت عطا کر رہا ہے۔ چانسلر کی حیثیت سے یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے ایشیا کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو کتنی گہری اہمیت دیتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چانسلر مرز کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے، جب اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 برس مکمل ہو رہے ہیں اور اسی سال دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 75 سال بھی منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں محض وقت کی کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ ہماری مشترکہ امنگوں، باہمی اعتماد اور مسلسل مضبوط ہوتے تعاون کی علامت ہیں۔ ہندوستان اور جرمنی جیسے ممالک کی معیشتوں کے درمیان قریبی تعاون پوری انسانیت کے لیے نہایت اہم ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی بخشی ہے۔ ہماری دو طرفہ تجارت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور 50 بلین ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ دو ہزار سے زائد جرمن کمپنیاں طویل عرصے سے ہندوستان میں موجود ہیں۔ یہ ہندوستان پر ان کے اٹل اعتماد اور یہاں موجود بے پناہ امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں