
ملت کو اپنی نئی تاریخ،شعور وآگہی،حوصلہ مندی اوراٹوٹ اتحاد کے قلم سے لکھنی چاہئے /مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی
امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ریاستِ جھارکھنڈ میں ایس آئی آر (SIR) کے سلسلے میں جاری بیداری مہم اور عملی تربیتی ورکشاپ محض ایک وقتی یا انتظامی سرگرمی نہیں، بلکہ ملت کے فکری، سماجی اور دستوری مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک سنجیدہ، منظم اور دور رس جدوجہد ہیں۔ یہ مہم اس حقیقت کی عکاس ہے کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ شعور، نظم اور عملی رہنمائی کے ذریعے اپنی شناخت اور حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔اس تحریک کے پس منظر میں حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم کی وہ بصیرت افروز فکر کارفرما ہے جو حالات پر شکوہ کرنے کے بجائے ان کی اصلاح پر یقین رکھتی ہے، اور جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ، متوازن اور تعمیری قیادت کو ترجیح دیتی ہے۔اسی تسلسل میں آج بالوماتھ جامع مسجد میں بعد نمازِ جمعہ اور گزشتہ شب جامعہ مظاہر الاسلام سمریا میں بعد مغرب ایس آئی آر سے متعلق جامع بیداری پروگرام اور عملی تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئیں۔ ان پروگراموں کی صدارت امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے فرمائی، اور انہی کی قیادت میں یہ وفد جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں عوامی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے امارتِ شرعیہ کی ایک صدی پر محیط دینی، تعلیمی، سماجی اور آئینی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امارتِ شرعیہ نے ہمیشہ حالات کے اندھیروں میں شمعِ بصیرت جلانے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی ملت کو کسی چیلنج کا سامنا ہوا، امارتِ شرعیہ نے احتجاج کے شور کے بجائے تعمیر کی خاموش مگر مؤثر زبان اختیار کی۔انہوں نے عوام و خواص کو ان کی مقامی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے زور دیا کہ نسلِ نو کی دینی تربیت محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ملت کی بقا کی ضمانت ہے، کیونکہ بے شعور قومیں وقت کے تیز بہاؤ میں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں دینی شعور کے ساتھ آئینی و قانونی آگہی بھی ناگزیر ہو چکی ہے، اور ایس آئی آر اسی شعوری جدوجہد کا ایک عملی مرحلہ ہے، جس کا مقصد ہر بستی میں ایسے باشعور اور ذمہ دار نوجوان تیار کرنا ہے جو خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ عوام کی رہنمائی کر سکیں،انہوں نے بڑی قوت کے ساتھ ملت کے ضمیر پر دستک دیتے ہوئے کہاکہ آج کے حالات میں ملت اسلامیہ ہندیہ کو اپنی نئی تاریخ،شعور وآگہی ،حوصلہ مندی اوراٹوٹ اتحاد کے قلم سے لکھنی چاہئے۔اس موقع پر مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف کے تحفظ کے نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف جائیدادوں پر لاء آف لمیٹیشن کا اطلاق ہوگا، جس کے نتیجے میں غفلت برتنے کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصانات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقف املاک محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ملت کی امانت اور آنے والی نسلوں کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور ان کا تحفظ محض تقاریر سے نہیں بلکہ تدبیر اور عملی اقدام سے ممکن ہے۔انہوں نے کہا:“نتائج تقریروں سے نہیں آتے، جب الفاظ عمل کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ہی نتائج سامنے آتے ہیں۔”انہوں نے زور دیا کہ وقف جائیدادوں کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرا کے انہیں شرعی اور سماجی مصرف میں لانا وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔بعد ازاں ریسرچ ٹیم کے اراکین مفتی قیام الدین قاسمی اور مفتی اکرام الدین قاسمی نے پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے ایس آئی آر کی عملی تربیت فراہم کی۔ انہوں نے نہایت سادہ، واضح اور عام فہم انداز میں ایس آئی آر کے تمام تکنیکی مراحل، مطلوبہ دستاویزات اور ضروری احتیاطی نکات تفصیل سے بیان کیے۔ شرکاء کو موقع پر عملی مشق بھی کرائی گئی، جس سے پروگرام کی افادیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور نوجوانوں میں زمینی سطح پر کردار ادا کرنے کا جذبہ بیدار ہوا۔پروگرام کے دوران شرکاء کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور درپیش عملی مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایس آئی آر کے مرحلے میں عوامی رہنمائی کو اپنا سماجی اور دینی فریضہ سمجھتے ہوئے گھر گھر جا کر یہ خدمت انجام دیں گے۔واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں جاری یہ بیداری مہم حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی نگرانی میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ محترم ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی، قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء مفتی محمد انظار عالم قاسمی اور دیگر ذمہ داران کی یہ دلی کوشش ہے کہ جھارکھنڈ کی عوام—خواہ وہ آدی واسی ہوں، اقلیتی طبقات ہوں یا اکثریتی عوام—کسی بھی مرحلے میں کسی بڑی دشواری کا شکار نہ ہوں اور تمام مراحل آسانی سے مکمل کر سکیں۔سمریا کے پروگرام کی ترتیب و انعقاد میں مولانا زین العابدین رحمانی اور مدرسہ کے اساتذہ، جبکہ بالوماتھ کے پروگرام میں مولانا ضیاء اللہ قاسمی، مولانا یاسر بلال اور ان کے رفقاء پیش پیش رہے۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी



