مواد پر جائیں
قومی

امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہمارے کسانوں کے حق میںبہتر ہے: گوئل

Awaze Bihar3 منٹ پڑھیں

مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو مکمل طور پر ملک کے کسانوں کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے کانگریس رہنما راہل گاندھی پر اس معاہدے کے بارے میں کسانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ مسٹر گوئل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے سے ملک کے کسانوں کو فائدہ ہوگا، زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ان کی مانگ بڑھے گی جس سے قیمتیں بہتر ہوں گی اور کسان خوشحال ہوں گے۔ انہوں نے کسانوں کو معاہدے کے بارے میں یقین دلایا اور کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی ہمیشہ کسانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور اس معاہدے میں کسانوں کے مفاد کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے۔ مسٹر گوئل نے آج علی الصبح جاری ایک بیان میں کہا، راہل گاندھی جی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ انہیں بھارت ماتا یا ہمارے کسانوں اور نوجوانوں کی بھلائی کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے کل جاری کیے گئے اپنے ویڈیو میں جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہوا معاہدہ ملک کے کسانوں کے حق میں نہیں ہے اس لیے وہ اس کے خلاف کسانوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔ مسٹر گوئل نے اپنے بیان میں کہا، 'وہ (مسٹر گاندھی) اپنی من گڑھنت باتوں سے ہمارے کسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور ہمارے انّ داتاؤں کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی ہماری مادرِ وطن کی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی ہم ان سے ہندوستان کے مضبوط اور خوشحال مستقبل کے لیے کام کرنے کی امید کر سکتے ہیں۔ وزیرِ تجارت نے کہا وزیرِ اعظم مودی ہمیشہ ہمارے کسان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کے مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے اور ان کے تمام فیصلے کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔وزیرِ تجارت و صنعت نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے کئی ایسی اسکیمیں نافذ کی ہیں جن سے کروڑوں کسانوں کی زندگی بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا، 'حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے میں ملک کے کسانوں کے مفادات کو سب سے اوپر رکھا گیا اور انہیں مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔وزیرِ تجارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس معاہدے میں ہندوستان میں گندم، چاول، باجرا، سویا میل، مکئی، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائی مصنوعات، مصالحہ جات اور آلو جیسے تمام بڑے زرعی اجناس کی منڈی کو پوری طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان میں جینیاتی تبدیلی سے تیار کردہ غذائی فصلوں کی کاشت اور تجارت کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاہدے میں سیب سمیت اہم پھل اگانے والے کسانوں کے مفادات کا بھی مکمل تحفظ کیا ہے۔ ڈیری یا پولٹری مصنوعات کے لیے بھی ہندوستان کے دروازے نہیں کھولے گئے ہیں۔ مسٹر گوئل نے کہا، ''حقیقت یہ ہے کہ ہماری کئی مصنوعات جن میں باسمتی چاول، پھل، مصالحے، چائے اور بحری مصنوعات شامل ہیں انہیں نئے بازار ملیں گے، برآمدات بڑھیں گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔کپاس کی درآمد میں چھوٹ سے متعلق تنقید پر مسٹر گوئل نے کہا،ہم نے سوتی کپڑوں کی برآمد کے لیے بڑے بازار کھولے ہیں جس سے یہاں سوت کی مانگ کئی گنا بڑھ جائے گی اور کپاس اگانے والے کسانوں کو مجموعی طور پر فائدہ ہوگا۔مسٹر گوئل نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ملک کے کسانوں، نوجوانوں اور ہر ہندوستانی کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا، مجھے نہیں لگتا کہ راہل گاندھی نے کبھی ہمارے کسانوں کے فائدے کی فکر کی یا وہ کبھی سمجھیں گے کہ ہمارے انّ داتاؤں کے لیے کیا بہتر ہے۔وزیرِ تجارت نے راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہے جتنا بھی جھوٹ بولیں ہمارے کسانوں کو گمراہ کرنے یا ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کریں لیکن نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک باوقار، خوشحال، طاقتور، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک بن کر رہے گا۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں