جمعہ، 2 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی کا بڑا طاقت مظاہرہ، مودی اور حکومت پر حملہ
گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی کا بڑا طاقت مظاہرہ، مودی اور حکومت پر حملہ — photo 2
گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی کا بڑا طاقت مظاہرہ، مودی اور حکومت پر حملہ — photo 3
1/3
  1. ہوم
  2. قومی خبریں
قومی خبریں

گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سی جے پی کا بڑا طاقت مظاہرہ، مودی اور حکومت پر حملہ

Awaz E Bihar
•2 اکتوبر، 2026 کو 07:32 PM•0 ویوز•8 منٹ پڑھیں

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے فوری استعفے اور الیکشن کمیشن کے کام کاج میں شفافیت کے مطالبے کو لے کر 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں پارٹی نے جمعہ کو مہاراشٹر کے دارالحکومت میں واقع شیواجی پارک میں بڑے پیمانے پر طاقت کا مظاہرہ کیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر منعقد اس احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں، کارکنوں اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) سمیت مختلف طلبہ تنظیموں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے الیکشن کمیشن پر شدید نااہلی، سنگین ناکامی اور منظم طریقے سے شہریوں کے حق رائے دہی چھیننے کے الزامات عائد کیے۔ اس مظاہرے نے تاریخی شیواجی پارک کے میدان کو احتجاج کے سمندر میں تبدیل کر دیا۔ مظاہرین ہاتھوں میں ترنگا، طنزیہ میمز، پوسٹرز اور ''جمہوریت بچاؤ''، ''گیانیش کمار، استعفیٰ دو'' جیسے نعروں والے بڑے بڑے بینر لہرا رہے تھے۔ بھیڑ میں وقفے وقفے سے ''گو گیانو، گو'' کے نعرے بھی گونجتے رہے۔
سی جے پی نے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں کرائے گئے ووٹر فہرستوں کے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری اور بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، جس کے ذریعے لاکھوں شہریوں کے ووٹ دینے کے حقوق چھین لیے گئے ہیں۔
تنظیم نے کمیشن کی موجودہ قیادت کو 'نااہل، بے ایمان اور جمہوری ڈھانچے سے غداری کرنے والی' قرار دیا۔
سی جے پی نے مطالبہ کیا کہ مسٹر کمار استعفیٰ دیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ اس کے علاوہ جاری ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر روکنے، 2025 کی متنازع ووٹر فہرست کو منجمد کرنے، پرانی فہرست کی بنیاد پر انتخابات کرانے اور سول سوسائٹی کی شرکت کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اس احتجاج میں کئی معروف ثقافتی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی، اداکار نصیرالدین شاہ، مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی، اداکارہ شرلن چوپڑا، موسیقار و گلوکار وشال دادلانی اور دستاویزی فلم ساز آنند پٹوردھن نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ پٹوردھن کیمرے کے ذریعے پروگرام کی ریکارڈنگ کر رہے تھے، جبکہ دادلانی نے اپنی لائیو پرفارمنس اور تقریر سے بھیڑ میں نیا جوش پیدا کیا۔
وہیں شرلن چوپڑا نے کہا کہ وہ جین زی کی اس تحریک کی حمایت کرتی ہیں، کیونکہ ووٹ دینے کا حق سب کو حاصل ہے۔
اسٹیج پر ایک اور غیر متوقع مقرر کے طور پر دہلی کی 15 سالہ طالبہ انوشکا بھی نظر آئیں، جو جولائی 2026 میں جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے باعث تنازع میں آئی تھیں۔ انوشکا نے دیپکے سے مائیک لے کر کہاکہ ''ہماری حکومت صدمے اور گھبراہٹ میں ہے۔ جس طرح لائٹ جلتے ہی کاکروچ بھاگنے لگتے ہیں، ہماری حکومت بھی انہی کاکروچوں جیسی ہو گئی ہے۔''
ایک منفرد انداز اپناتے ہوئے زیادہ تر شرکا نے مہاتما گاندھی کی تصویر والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔
مسٹر دیپکے نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت، وزیر اعظم مودی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر زوردار حملہ کیا۔
انہوں نے بھیڑ سے پوچھا کہ کیا وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں، جس پر لوگوں نے ایک آواز میں کہاکہ ''ہم جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔''
حکومت کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر دیپکے نے کہا کہ حکومت اتنی نااہل ہے کہ صرف دو ماہ کے اندر ہی لوگوں کو دوبارہ سڑکوں پر اترنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔
مسٹر فڑنویس کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے مسٹر دیپکے نے کہاکہ ''مسٹر فڑنویس، آپ نے کیا کہا تھا؟ آپ نے کہا تھا کہ جو لوگ احتجاج کرنے جا رہے ہیں، وہ سوچ لیں، کیونکہ انہیں تین دن جیل میں رہنا پڑے گا۔ مسٹر فڑنویس، کیا آپ نے سوچا تھا کہ ہم آپ کے ارکان اسمبلی کی طرح خوفزدہ ہوکر آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے؟ آپ کی کرسی چپکنے والی ٹیپ اور فیویکول سے جڑی ہوئی ہے۔ آپ شاید بھول گئے ہیں کہ یہ جیجا بائی، ساوتری بائی پھلے، شاہو مہاراج اور ڈاکٹر امبیڈکر کی سرزمین مہاراشٹر ہے۔ ہم نہیں بھولے ہیں۔ مہاراشٹر میں بچوں کو دھمکیاں نہیں دی جاتیں۔ فڑنویس، اگر آپ ہمیں تین ماہ کے لیے بھی جیل میں ڈالیں گے تو ہم باہر آکر بار بار یہیں واپس آئیں گے۔''
مسٹر دیپکے نے دہلی کے ڈی سی پی سچن شرما پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ ''مسٹر شرما، مسٹر شاہ کے پسندیدہ جنرل ڈائر ہیں۔ یہ بات مجھے ممبئی پولیس نے ہی بتائی ہے۔ انہوں نے آج دہلی میں احتجاج کر رہے ہمارے ساتھیوں کو حراست میں لیا، لیکن میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی بیریکیڈنگ بے کار ثابت ہوگی، کیونکہ پورے ملک سے اتنے لوگ آئیں گے کہ مسٹر شرما خود تبادلے کے لیے مسٹر شاہ کے قدموں میں گر پڑیں گے۔''
آر ایس ایس پر حملہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ''ممبئی پولیس نے مجھے بتایا کہ مسٹر شرما آر ایس ایس کے رکن ہیں۔ مسٹر شرما، اگر آپ سنگھی ہیں تو خاکی نیکر پہن کر آر ایس ایس کی شاکھا میں جائیے، پولیس کی وردی نہ پہنیں۔ سنگھ نے سوچا تھا کہ وہ گاندھی کو گولی مار کر ختم کر دیں گے، لیکن گاندھی نہیں مرے۔ آج یہاں جمع ہر شخص گاندھی ہے۔ جب تک ہم اس ملک میں ہیں، گاندھی زندہ رہیں گے۔ گوڈسے جیسے بزدل آئیں گے اور چلے جائیں گے، لیکن یہ ملک گاندھی کے نظریات پر قائم ہے۔''
وزیر اعظم مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سی جے پی کے بانی نے کہاکہ ''انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ وہ نان بایولوجیکل ہیں۔ دراصل انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ خود واضح ہے کہ آپ انسان بھی نہیں ہیں۔ کچھ لوگ اپنی گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی تقابل کرتے ہیں، جبکہ انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ گاندھی اس ملک کی روح ہیں، امبیڈکر اس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور نہرو اس کا دماغ ہیں۔ یہ لوگ چند انتخابات جیت کر خود کو عظیم شخصیت سمجھنے لگے ہیں، جبکہ انہیں ان کے جدوجہد کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہے۔ جب لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ووٹ دینے کا حق، ووٹنگ، لوک سبھا اور اسمبلی کیا ہوتی ہے، اس وقت مسٹر نہرو اور مسٹر امبیڈکر نے انہیں یہ حق دیا۔''
انہوں نے وزیر اعظم کے بیانات پر طنز کرتے ہوئے کہا، ''مسٹر مودی نے کہا کہ وہ چائے بیچ کر اتنی دور آئے ہیں۔ کیا ہم نے آپ سے چائے بیچنے کو کہا تھا؟ آپ کو اسکول جانا چاہیے تھا۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ وہ ایک غریب ماں کے بیٹے ہیں، لیکن ان کی وجہ سے اس ملک کے تمام بچے غریب ہو گئے۔ ملک کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، انہیں ترقی کرنا نہیں آتا، بس فیشن کی سمجھ ہے اور ہمارے ٹیکس کے پیسے سے بیرون ملک دورے کیے جا رہے ہیں۔''
انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے سی جے پی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ممبئی کا یہ اجتماع محض 'ٹریلر' تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مسٹر کمار استعفیٰ نہیں دیتے تو یہ تحریک ملک کے مختلف بڑے شہروں سے گزرتی ہوئی نئی دہلی پہنچے گی اور جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کے بڑے دھرنے میں تبدیل ہو جائے گی۔
مسٹر دیپکے نے کہاکہ ''دہلی کے تخت کی حفاظت ممبئی کرتی ہے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسٹر کمار استعفیٰ نہیں دے دیتے۔''
اس دوران شیواجی پارک کے مقامی باشندوں کی مخالفت اور انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ اجازت نہ دیے جانے کے باعث علاقے میں پولیس کی سخت نگرانی رہی۔ اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں، بیریکیڈنگ کی گئی اور کئی کارکنوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا۔
اس احتجاج پر سیاسی ردعمل منقسم رہا۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کے 'انڈیا' اتحاد کے 'جمہوریت بچاؤ ہفتہ' کے تحت اس مظاہرے کو حمایت مل رہی ہے، وہیں حکمراں این ڈی اے نے اس کی سخت تنقید کی ہے۔ وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کانگریس کی 'جمہوریت بچاؤ' مہم کو 'خاندان بچاؤ' اور 'خاندان کی حفاظت کرو' یاترا قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے ذریعے انتشار اور جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب 'جین نیکسٹ' نامی ایک دیگر نوجوان گروپ نے منتخب مسائل پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سی جے پی کے خلاف متوازی احتجاج کیا اور اسے عام آدمی پارٹی (آپ) اور اروند کیجریوال کی 'بی ٹیم' قرار دیتے ہوئے مسٹر دیپکے کے خلاف نعرے بازی کی۔
وہیں الیکشن کمیشن نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی نامزدگی مہم چلانے کی ہدایت دی ہے جہاں ایس آئی آر کا کام مکمل ہو چکا ہے، تاکہ فہرست سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کو شامل کیا جا سکے۔
'گو گیانو، گو' کے نعرے شیواجی پارک میں گونجے، ابھیجیت دیپکے نے وزیر اعظم، آر ایس ایس، شاہ اور فڑنویس کو نشانہ بنایا۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف