بغیر ابتدائی جانچ مریضوں کو ریفر کرنے پر وزیرصحت برہم
••13 views•4 منٹ پڑھیں
حاجی پور (وَیشالی): صحت خدمات میں لاپروائی اور مریضوں کو غیر ضروری طور پر دوسرے اسپتالوں میں ریفر کیے جانے کے معاملے پر وزیرِ صحت نشانت نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ وَیشالی ضلع کے ایک روزہ دورے کے دوران انہوں نے حاجی پور صدر اسپتال کا اچانک معائنہ کیا اور ایمرجنسی، آئی سی یو، مریضوں کے علاج، ڈاکٹروں و طبی عملے کی حاضری، ادویات کی تقسیم اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیرِ صحت نے واضح ہدایت دی کہ اسپتال آنے والے ہر مریض کو بروقت اور معیاری طبی سہولت فراہم کی جائے۔ ابتدائی جانچ اور ضروری علاج کیے بغیر کسی مریض کو ریفر نہ کیا جائے۔وزیرِ صحت نے سب سے پہلے ایمرجنسی اور آئی سی یو وارڈ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ڈیوٹی روسٹر، حاضری رجسٹر اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی معلومات حاصل کیں۔ وارڈ میں زیرِ علاج مریضوں سے براہِ راست بات چیت کرکے علاج اور اسپتال کی سہولیات کے بارے میں فیڈبیک بھی لیا۔ ایک بزرگ مریض نے اسپتال میں دستیاب طبی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مائنر او ٹی اور ریفرل رجسٹر کی جانچ کے دوران وزیرِ صحت نے پایا کہ بعض مریضوں کو ابتدائی جانچ اور ضروری طبی کارروائی مکمل کیے بغیر ہی اعلیٰ مراکز کے لیے ریفر کیا گیا تھا۔جانچ میں سامنے آیا کہ ڈاکٹر سمن آنند نے مینا دیوی کو کسی ابتدائی جانچ کے بغیر ریفر کیا، جبکہ ڈاکٹر رتن پرکاش نے امیت کمار نامی مریض کو صرف پیٹ میں درد کی شکایت کی بنیاد پر ضروری جانچ کیے بغیر ریفر کر دیا۔ اس پر وزیرِ صحت نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بلا ضرورت ریفر کرنا سنگین لاپروائی ہے۔انہوں نے متعلقہ معاملات کی جانچ کرکے ضروری کارروائی کرنے اور ریفرل کے پورے عمل سے متعلق ریکارڈ و دستاویزات محفوظ رکھنے کی ہدایت دی۔وزیرِ صحت نے افسران کو واضح ہدایت دی کہ ریفرل صرف اسی صورت میں کیا جائے جب مریض کو واقعی اعلیٰ طبی مرکز کی ضرورت ہو۔ اسپتال میں دستیاب بستروں، ادویات اور دیگر سہولیات کی معلومات آن لائن اور ریئل ٹائم بنیاد پر اپ ڈیٹ رکھنے کو بھی کہا، تاکہ مریضوں کو غیر ضروری پریشانی نہ ہو۔ معائنے کے دوران آئی سی یو میں تعینات ڈاکٹر سوربھ پرکاش کی غیر حاضری کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ مقامی معلومات کے مطابق ان کے عدالت جانے کی بات بتائی گئی۔ وزیرِ صحت نے متعلقہ ڈاکٹر کو عدالت کی جانب سے جاری سمن اور دیگر ضروری دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ وزیرِ صحت نے اسپتال کے دوا کاؤنٹر اور اسٹاک کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ آن لائن ادویات کا اندراج کیا جا رہا ہے، لیکن آف لائن اسٹاک رجسٹر مکمل طور پر اپ ڈیٹ نہیں تھا۔معائنے میں فارماسسٹ وویک وردھن کے اسٹاک رجسٹر میں بھی کمی پائی گئی۔ وزیرِ صحت نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آن لائن اور آف لائن دونوں ذرائع سے ادویات کا درست اور تازہ ریکارڈ رکھنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اینٹی ریبیز ویکسین سمیت دیگر ضروری اور زندگی بچانے والی ادویات کے اسٹاک کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کو بھی کہا۔’’مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے‘‘ وزیرِ صحت نشانت نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ہر مریض کو بہتر، معیاری اور بروقت علاج فراہم کیا جائے۔ انتظامی یا طبی لاپروائی کے باعث مریضوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صحت خدمات میں شفافیت، جواب دہی اور حساسیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسپتال انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ مریضوں کو غیر ضروری ریفرل، ادویات کی عدم دستیابی یا کسی دوسری انتظامی خامی کے باعث مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔