سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا
Awaz E Bihar
••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اتوار کو الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے چلائی جانے والی اس کی تحریک کو دبانے کے لیے حکام حفاظتی پابندیوں اور عوامی نقل و حمل میں رکاوٹوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ پارٹی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا۔ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے کارکنوں سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے الزام لگایا کہ دہلی بھر میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور پابندیوں کا مقصد مظاہرین کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جب کہ اس سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی سے موازنہ کرتے ہوئے داس نے دعویٰ کیا کہ قومی دارالحکومت کو ایک سخت حفاظتی حصار میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں اندازاً 30 ہزار سے 40 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔داس نے کہاکہ اس وقت ملک بھر کی صورت حال کھلی ایمرجنسی کی عکاسی کر رہی ہے۔ 1975 کی آمرانہ حکومت کے بعد سے ایسے جابرانہ حالات دیکھنے میں نہیں آئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ تعینات کیے گئے اہلکاروں میں سرحدی دستوں کے علاوہ کشمیر، مغربی بنگال اور نکسل متاثرہ علاقوں سے بلائے گئے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق، سکیورٹی انتظامات کا دائرہ محض مظاہرے کو قابو میں رکھنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ان شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے جن کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوامی نقل و حمل اور تجارتی اداروں پر عائد پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے داس نے الزام لگایا کہ حکام جان بوجھ کر لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر رہے ہیں، تاکہ سی جے پی کی قیادت میں چلائی جانے والی تحریک کے خلاف عوامی ناراضگی پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کو بند کرنا، راجدھانی ایکسپریس سمیت ٹرینوں کی خدمات معطل کرنا اور اتوار کے روز بازاروں کو بند رکھنے پر مجبور کرنا عوام کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ انتظامیہ جان بوجھ کر عوام کو پریشان کر رہی ہے، تاکہ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔دوسری جانب، رانکا نے حراست کے دوران سی جے پی کے کارکن ابھیجیت ڈپکے کو ان کی دادی کی موت کی اطلاع دینے کے طریقۂ کار پر دہلی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ رانکا نے کہاکہ ابھیجیت کی دادی کا کل انتقال ہو گیا تھا۔ دہلی پولیس نے انہیں اس خبر سے جس انداز میں آگاہ کیا، وہ انتہائی غیر انسانی تھا۔ ملک کے دارالحکومت کی پولیس کو اس قدر بے حسی کا مظاہرہ کرتے دیکھنا شرمناک ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ڈپکے کو یہ خبر دیتے وقت ان کے اردگرد کیمرے اور مائیکروفون لگا دیے تھے، جس سے غم کی اس نجی گھڑی کو تماشے میں تبدیل کر دیا گیا۔تاہم، دہلی پولیس کے ذرائع نے بے حسی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈپکے کو ان کی دادی کی موت کی اطلاع پوری حساسیت اور مناسب خیال کے ساتھ دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، انہیں آخری رسومات کے وقت کے بارے میں بتایا گیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے گاؤں جانے کے لیے مدد کی پیش کش بھی کی گئی۔ یہ پریس کانفرنس ہفتے کے روز جنتر منتر پر مجوزہ مظاہرے کے سلسلے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد منعقد ہوئی۔ سی جے پی اور طلبہ کی متعدد تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے سی جے پی کے کارکنوں ابھیجیت ڈپکے، رانکا اور داس کو دہلی میں طیارے سے اترنے کے دوران حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مجوزہ مظاہرے کے لیے اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ غازی پور سرحد پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، جب کہ میٹرو خدمات پر پابندیوں کے باعث اپوزیشن جماعتوں اور احتجاج کے منتظمین نے سخت تنقید کی۔ قومی دارالحکومت کے مختلف مقامات سے تقریباً ایک ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور سی پی آئی (ایم) کے رہنما پنارائی وجین بھی شامل تھے۔ اس کارروائی کے بعد سیاسی محاذ آرائی تیز ہو گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکام پر آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا الزام لگایا، جب کہ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن انتشار کو ہوا دے رہی ہے۔ بعد ازاں پولیس ذرائع نے بتایا کہ حراستی مراکز میں رکھے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، تاہم سی جے پی کے رہنماؤں کے معاملے میں قانونی کارروائی کے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کیا جائے گا۔ سی جے پی، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن (اے آئی وائی ایف)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی جانب سے مزید مظاہروں کے امکان کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رہنے کی توقع ہے۔ سی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ پابندیوں کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا اور اس کی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب، پولیس نے مجوزہ مظاہرے کے لیے اجازت نہ ہونے اور امن و قانون برقرار رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی کارروائی کا دفاع کیا ہے۔