الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرے کے دوران راہل، پرینکا کو حراست میں لیا گیا
Awaz E Bihar
••4 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو الیکشن کمیشن کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران بدھ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مظاہرے میں اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہوئے۔ مسٹر گاندھی اور مسز واڈرا الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس دوران پولیس نے مسٹر گاندھی کو زبردستی اٹھا کر بس میں بٹھا دیا۔ مسز واڈرا نے موقع سے ہٹنے سے انکار کر دیا اور زمین پر بیٹھ گئیں، جس کے بعد پولیس اہلکار انہیں زبردستی اٹھا کر بس میں لے گئے۔ گزشتہ 2 دن سے ایس آئی آر کے خلاف جاری دھرنے اور مظاہرے کے دوران دونوں رہنماؤں کو دوسری بار حراست میں لیا گیا ہے۔ منگل کو ارکان پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ ہاؤس سے نرواچن سدن تک 'جمہوریت بچاؤ' مارچ کے دوران دونوں رہنما دن بھر آکاشوانی بھون کے احاطے میں رہے۔ وہ الیکشن کمیشن سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دن بھر جاری دھرنے کے بعد دونوں کو دیر شام حراست میں لے کر کنگز وے کیمپ بھیجا گیا، جہاں دیر رات انہیں رہا کر دیا گیا۔ جب پولیس نے کانگریس رہنماؤں کو دھرنے کی جگہ سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کی تو مسز واڈرا نے کہا، ''میں یہاں سے نہیں ہٹوں گی۔ الیکشن کمیشن سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ پولیس نے مارپیٹ کی۔ خاتون پولیس اہلکاروں نے مجھے زمین پر گرا دیا اور مجھے کئی جگہ خراشیں آئی ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عوام کے حق کے لیے لڑتے رہیں گے۔'' جب پولیس مسز واڈرا کو زبردستی بس میں بٹھانے کے لیے لے گئی تو بس میں بیٹھنے سے پہلے انہوں نے کہا، ''یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ملک دیکھ رہا ہے... کیا ہو رہا ہے۔ یہ لڑائی صرف ہمارے بارے میں نہیں بلکہ جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں ہے۔'' مسٹر گاندھی اور مسز واڈرا کو حراست میں لیے جانے پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا، ''چاہے کتنے بھی مقدمے کرنے دو، کتنا بھی ڈرانے دو، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ہنستے رہیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے۔'' اس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ ظہرانے پر جمع ہوئے اور وہیں سے مسٹر گاندھی کے ساتھ جنتر منتر پر دھرنے اور مظاہرے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ مظاہرے میں مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔ کانگریس رہنماؤں کا الزام ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی ہے۔ مظاہرے میں انڈیا اتحاد کی کئی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے اور انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور الیکشن کمیشن سے ملاقات کے مطالبے کو لے کر نعرے بازی کی۔ اس دوران یوتھ کانگریس اور پارٹی کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے کئی کارکنوں کو بھی پولیس نے جنتر منتر سے حراست میں لے لیا۔ یو این آئی۔ م س۔ م الف