مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR
عالمی خبریں

ایران نے آبنائے ہرمز کی پابندیوں سے ہندوستان، چین، قطر و عراق کو الگ کردیا

Awaz E Bihar4 منٹ کی پڑھائی
ابنائے ہر مز میں ایرانی چوکسی

ایران امور کے ماہر اور لُند یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و انسانی حقوق سے وابستہ محقق روزبہ پارسی نے الجزیرہ سے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایرانی قانون ساز کی بیان کردہ وجوہات کس حد تک عملی طور پر کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

ایران نے ہندوستان، چین، عراق اور قطر کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب سربراہ امیر حیات مقدم نے منگل کو یہ اطلاع دی۔انہوں نے ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی (آئی ایس این اے) سے گفتگو کرتے ہوئے کہاان ممالک کے جہاز آزادانہ گزر رہے ہیں اور امریکی بھی انہیں نہیں روکتے۔ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی دنوں میں آبنائے ہرمز کو عملاً بند کردیا تھا، جب کہ امریکہ نے جولائی میں ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کردی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ان چار ممالک کو اہم بحری گزرگاہ سے آمد و رفت کی اجازت کیوں دی گئی ہے اور کیا امریکی ناکہ بندی برقرار رہنے کے باوجود ان کے جہاز واقعی آزادانہ گزر سکیں گے؟امیر حیات مقدم کے مطابق ایران کو ہندوستان سے ادویات اور چین سے سیاسی حمایت حاصل ہوگی۔ ایران کو پہلے ہی قطر کی سفارتی حمایت حاصل ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ہندوستانی اور چینی جہازوں سے گزرنے کی فیس بھی وصول کرے گا، جب کہ قطری جہازوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عراقی جہازوں سے بھی کوئی فیس لی جائے گی یا نہیں۔

ایران امور کے ماہر اور لُند یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و انسانی حقوق سے وابستہ محقق روزبہ پارسی نے الجزیرہ سے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایرانی قانون ساز کی بیان کردہ وجوہات کس حد تک عملی طور پر کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق ایران ایک طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، اس لیے تجارت میں اشیا کے تبادلے اور باہمی رعایتوں کا طریقہ اس کے لیے نیا نہیں ہے۔ تاہم موجودہ صورت حال میں فرق یہ ہے کہ ایران پابندیوں میں رخنے ڈال کر ضروری اشیا اور خدمات کی آمد و رفت ممکن بنانا چاہتا ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نادر ہاشمی نے کہا کہ غالباً ایران ان جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کی اجازت دینے کے بدلے ٹرانزٹ فیس یا سامان کی مالیت کا ایک مخصوص حصہ وصول کررہا ہے۔

سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور لیبیا میں آسٹریا کے سابق دفاعی اتاشی وولف گینگ پوسٹائی کے مطابق، تہران کا یہ اقدام کئی اعتبار سے حکمت عملی پر مبنی ہے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو ایران کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوسکتی ہے، کیونکہ چین ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد خریدتا ہے۔

ان کے مطابق قطر اور ہندوستان کو بھی اس استثنیٰ میں شامل کرکے ایران واشنگٹن کی جنگی حکمت عملی کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ قطر سے گزرنے کی کوئی فیس نہ لینا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ان چار ممالک کے لیے یہ استثنیٰ کیوں اہم ہے؟یہ چاروں ممالک اپنی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔

تجزیاتی ادارے کیلپر کے سینئر خام تیل تجزیہ کار میو شو کے مطابق، اکتوبر میں خلیج فارس سے اس آبنائے کے راستے روزانہ گزرنے والے 1 کروڑ 23 ہزار بیرل خام تیل میں سے تقریباً 42 فیصد چین اور 13 فیصد ہندوستان پہنچا۔

روزبہ پارسی کے مطابق، چین وہ ملک ہے جو امریکی مفادات کو سب سے زیادہ چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا بیجنگ ممکنہ سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ایشیا کے ممالک خلیجی تیل اور گیس پر خاصا انحصار کرتے ہیں، جن کی ترسیل عموماً آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے۔ اس لیے ان ممالک کے پاس جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت کے بدلے ایران کو پیش کرنے کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔پارسی نے کہا کہ خلیج سے تیل کی سپلائی بند ہونے سے ہندوستان کو بڑا نقصان پہنچا ہے، جب کہ وہ ادویات کا ایک بڑا پیداواری ملک بھی ہے، جن میں سے بعض ایران خود تیار نہیں کرسکتا۔

کیلپر کے مطابق، قطر نے اگست میں آبنائے ہرمز کے راستے کوئی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد نہیں کی تھی، تاہم اکتوبر میں اس نے 18 لاکھ ٹن ایل این جی کی ترسیل کی۔ اسی مدت میں اس کی خام تیل کی ترسیل روزانہ 5 لاکھ 17 ہزار بیرل سے گھٹ کر ایک لاکھ 93 ہزار بیرل رہ گئی، جب کہ عراق کی ترسیل 16 لاکھ 90 ہزار بیرل سے بڑھ کر 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہوگئی۔میو شو کے مطابق، کیلپر مشرق وسطیٰ کے خام تیل کے روزانہ 20 لاکھ بیرل تک کے اصل مقام کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے، اس لیے ان دونوں ممالک کی ترسیل کا حجم اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔

عالمی خبریں کی مزید خبریں

سب دیکھیں