مواد پر جائیں
Awaze Bihar

جمہوریت کو مضبوط بنانےو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے: سمراٹ

زیا صاحب7 منٹ کی پڑھائی

پاٹلی پتر راشٹریہ یوتھ پارلیمنٹ 2.0 کا وزیراعلیٰ نے کیا افتتاح، کہا: عوام کی آواز اور توقعات کا احترام ہی جمہوریت کی اصل روح

پٹنہ، یکم نومبر: وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا ہے کہ جمہوریت کی جڑیں بہار کی تاریخی سرزمین سے وابستہ ہیں اور اس کے استحکام، قومی ترقی اور ملک کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کے فروغ میں نوجوان نسل کا کردار فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہی نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے محافظ اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے حقیقی معمار بھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی توانائی، صلاحیت اور فکری قوت کو ملک کی تعمیر، آئینی اقدار کے تحفظ اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بروئے کار لائیں۔

وزیراعلیٰ اتوار کو گولا روڈ کے رنجن پتھ واقع گیان نکیتن اسکول کے احاطے میں منعقدہ دو روزہ ’’پاٹلی پتر راشٹریہ یوتھ پارلیمنٹ 2.0‘‘ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر منتظمہ کمیٹی کے ارکان کو مومنٹو پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔ وزیراعلیٰ نے انڈین پولیس سروس کے سبکدوش افسر آنجہانی آچاریہ کشور کنال کے مجسمے پر گل پوشی کرکے انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1947 میں مجاہدین آزادی کی بے مثال قربانیوں اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں ملک کو غلامی سے نجات ملی۔ آزادی کے 80 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہمیں جمہوری روایات اور آئینی اقدار کو مزید مستحکم بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نریندر مودی 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کے ساتھ مسلسل کام کر رہے ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بھی بہار کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے 1974 کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک میں نوجوانوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے کر ملک کی سیاسی و سماجی تاریخ میں اپنی نمایاں موجودگی درج کرائی تھی۔ آج کا عہد جنریشن زی اور جنریشن الفا کا ہے۔ نوجوانوں کو بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور قومی ترقی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ پاٹلی پتر راشٹریہ یوتھ پارلیمنٹ جیسے پروگرام نئی نسل میں جمہوری شعور، آئینی فہم اور قومی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہیں۔

عوامی اعتماد ہی جمہوری اقتدار کی اصل بنیاد

جمہوری نظام کی بنیادی روح کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت میں عوام ہی اصل حاکم ہوتے ہیں۔ عوام کے جذبات، ان کے وقار اور ان کی توقعات کا احترام کرنا ہر منتخب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ عوام نے ہمیں خدمت اور کام کرنے کا موقع دیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خود کو اقتدار کا مالک سمجھنے لگیں۔ عوامی مفاد میں کیے گئے فیصلوں اور وضع کردہ قوانین کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینا بھی ضروری ہے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ضرورت پڑنے پر ان میں تبدیلی یا انہیں واپس لینے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے ووٹ سے وجود میں آتی ہے اور اس کی تمام تر سرگرمیوں کا محور عوامی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔ وہی قیادت کامیاب ہوتی ہے جو عوام بالخصوص نوجوان نسل کی امنگوں اور توقعات کو سمجھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کرے اور فیصلے لے۔ وزیراعظم نریندر مودی مسلسل تیسری مرتبہ ملک کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی پانچ مرتبہ بہار کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ ان رہنماؤں نے عوامی توقعات کے مطابق ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے لیے خلوص، لگن اور احساس ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے والوں کو ہی عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ جمہوریت میں شاہانہ طرز فکر کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہاں عوام کی آواز ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

80 کروڑ افراد کو اناج، ساڑھے پانچ کروڑ خاندانوں کو پکے مکانات

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے 12 سالہ دور حکومت میں ملک کے ساڑھے پانچ کروڑ افراد کو پکے مکانات فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج دیا جا رہا ہے۔ پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہار میں امیر و غریب کی تفریق کے بغیر تمام اہل صارفین کو 125 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت اس سہولت کے لیے سالانہ تقریباً 23 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ فی خاندان بجلی سبسڈی پر سالانہ 8 سے 10 ہزار روپے تک کا خرچ آ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خوشحال، اہل اور انکم ٹیکس ادا کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر 125 یونٹ مفت بجلی کی سہولت سے دستبردار ہوکر ریاست کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبہ کو چار لاکھ روپے تک مالی تعاون

تعلیمی ترقی کو ریاست کے روشن مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ تعلیمی کورسز میں زیر تعلیم طلبہ کو چار لاکھ روپے تک مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، تاکہ بہار کے نوجوانوں کو اپنے ہی صوبے میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آسکیں۔ اوپن یونیورسٹیوں کے قیام کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ریاست کے 534 بلاکوں میں 700 ماڈل اسکول ’’سرسوتی ودیا نکیتن‘‘ کے نام سے قائم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً ساڑھے تین لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے طلبہ کو ’’ودیارتی ساتھی ایپ‘‘ کی سہولت بھی مہیا کرائی گئی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے طلبہ کو کسی مضمون میں دشواری پیش آنے پر رات ایک بجے بھی محض ایک منٹ کے اندر استاد کی رہنمائی دستیاب ہو سکتی ہے۔ اس طرح ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے طلبہ کے تعلیمی مسائل کے حل کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم اور تعلیم ہی ترقی کے بنیادی وسائل ہیں اور انہی کے ذریعے نئی نسل اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

نوجوانوں کی امنگوں سے ہم آہنگ ہوں جمہوری پالیسیاں

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے تعلیم کے فروغ اور اصلاحات کے موضوع پر فیس بک لائیو کے ذریعے نوجوانوں سے براہ راست تبادلہ خیال کیا تھا، جس میں 33 کروڑ نوجوان شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت محض انتخابی عمل یا اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ عوام کی آواز، ان کے احساسات اور ان کی توقعات کی ترجمانی کا نظام ہے۔ عوام اور نوجوانوں کی خواہشات کو سمجھ کر ان کے مطابق قوانین بنانا، پالیسیاں مرتب کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہی جمہوریت کا حقیقی تقاضا ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاٹلی پتر راشٹریہ یوتھ پارلیمنٹ کے بانی ساین کنال اور رکن پارلیمنٹ شامبھوی چودھری کو اس اہم پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس نوعیت کے پروگرام ہر سال منعقد کیے جانے چاہئیں، تاکہ نوجوانوں میں جمہوری شعور، قومی تعمیر کے جذبے اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس مسلسل پروان چڑھتا رہے اور نئی نسل کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کی کوششیں مزید مؤثر ہوں۔

پروگرام سے وزیر تعلیم متھیلیش تیواری، رکن پارلیمنٹ شامبھوی چودھری اور پاٹلی پتر راشٹریہ یوتھ پارلیمنٹ کے بانی ساین کنال نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خوراک و صارفین تحفظ کے وزیر اشوک چودھری، رکن اسمبلی وشال پرشانت، سی بی ایس ای پٹنہ کے علاقائی افسر جنگم سنیل کمار، گیان نکیتن اسکول کے پرنسپل شیلیندر موہن جھا سمیت بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اور نوجوان موجود تھے۔

زیا صاحب

ایڈیٹر ان چیف

مزید خبریں