جمہوریت کو مضبوط بنانےو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے: سمراٹ

جمعیۃ کے صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ غیر قانونی دراندازی روکنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مخالفت، آزاد آبادیاتی کمیشن کے قیام اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کی
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے غیر قانونی دراندازی کے معاملے میں مرکزی حکومت، بالخصوص وزارت داخلہ کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر داخلہ غیر قانونی دراندازی ہونے دیتے ہیں یا اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سب سے بڑے غدار ہیں۔ جمعیۃ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلی کے مطابق، انہوں نے مسلمانوں کو دراندازی اور آبادیاتی تبدیلیوں کے نام پر سیاسی طور پر نشانہ بنانے پر بھی سوالات اٹھائے۔
یاد رہے کہ وہ 30 اور 31 اکتوبر کو ہریانہ کے نوح، میوات میں منعقدہ جمعیۃ علماء ہند کی دو روزہ قومی مجلسِ منتظمہ سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں ملک بھر سے تین ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی اور آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہندوستان میں کسی بھی غیر ملکی شہری کی غیر قانونی موجودگی کی حمایت نہیں کرتی، لیکن یہ سوال اہم ہے کہ غیر قانونی دراندازی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے روکنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، اس لیے جواب دہی بھی اسی وزارت کی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا درست نہیں۔
اجلاس میں نام نہاد ’ڈیموگرافک جہاد‘ کے الزامات اور مسلمانوں کے ذریعے ملک کا آبادیاتی توازن تبدیل کرنے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں مردم شماری اور قومی خاندانی صحت سروے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلم آبادی کی دہائی وار شرحِ اضافہ 1981ء سے 1991ء کے دوران 32.9 فیصد تھی، جو 2001ء سے 2011ء کے دوران کم ہوکر 24.7 فیصد رہ گئی۔
جمعیۃ نے وزارت داخلہ کی جانب سے 26 مئی 2026ء کو تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی کمیٹی پر بھی سوال اٹھائے۔ قرارداد کے مطابق کمیٹی میں کوئی ماہرِ آبادیات شامل نہیں اور اس کی تشکیل پہلے سے قائم اس مفروضے پر کی گئی ہے کہ آبادیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ غیر قانونی دراندازی ہے۔
جمعیۃ نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہرین پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن بنایا جائے، جو نقل مکانی، تعلیم، روزگار اور سماجی و معاشی حالات سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کا سائنسی جائزہ لے۔ مجلسِ منتظمہ نے گجرات، اتراکھنڈ، آسام اور دیگر ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی، عائلی خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے چیلنج قرار دیا۔
قرارداد میں مسلمانوں سے شریعت کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنے اور خاندانی معاملات میں خواتین کے ساتھ انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی گئی۔ طلاق، نان و نفقہ اور مہر کے معاملات شریعت کے اصولوں کے مطابق طے کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
مولانا مدنی نے اکثریتی طبقے کے خطرے میں ہونے کے سیاسی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے پہلے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اکثریتی طبقہ خطرے میں ہے، لیکن سیکولر آئین اختیار کرنے کے بعد یہ مہم شروع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ خطرے میں اکثریتی طبقہ نہیں بلکہ اقتدار اور سیاسی عہدوں کی ہوس ہے۔
ایڈیٹر ان چیف







