مواد پر جائیں
Awaze Bihar

مدرسہ سیدنا عثمان للبنات میں جلسۂ خمار پوشی، افتتاحِ مشکاۃ شریف اور متعدد علمی و تعلیمی تقریبات کا انعقاد

زیا صاحب4 منٹ کی پڑھائی

12 سالہ حافظہ عائشہ ارشاد سمیت طالبات کی نمایاں کامیابیوں پر انعامات و اسناد تقسیم، علماء و عمائدینِ شہر کی شرکت

بھاگلپور، یکم نومبر 2026ء: مدرسہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ للبنات، برپورہ، بھاگلپور میں یکم نومبر 2026ء کو ایک عظیم الشان علمی، دینی اور تعلیمی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں جلسۂ خمار پوشی، افتتاحِ مشکاۃ شریف، تکمیلِ حفظِ قرآن کریم، طالبات کی تکریم، اسناد کی تقسیم اور متعدد علمی و ادبی کتابوں کی رسمِ اجرا جیسی اہم تقریبات منعقد ہوئیں۔ اس موقع پر شہر کے معزز عمائدین، سماجی و ملی قائدین، علماء کرام، محدثین عظام اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کرکے طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔پروگرام کی ایک اہم تقریب افتتاحِ مشکاۃ شریف تھی، جس کا افتتاح حضرت مولانا مفتی خورشید انور قاسمی، قاضیِ شہر بھاگلپور کے دستِ مبارک سے عمل میں آیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے حدیثِ نبوی کی اہمیت و عظمت پر نہایت جامع اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی تشریح و توضیح کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نمونہ بناکر بھیجا۔ آپ ﷺ کی مبارک تعلیمات اور ارشادات ہی حدیث کہلاتے ہیں۔ انہوں نے آیتِ کریمہ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ کا حوالہ دیتے ہوئے حدیث کی اہمیت واضح کی اور فرمایا کہ مشکاۃ المصابیح جیسی عظیم حدیث کی کتاب کا درس شروع ہونا مدرسے کے لیے ایک اہم علمی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں یہاں صحیح بخاری شریف کا درس بھی شروع ہوگا۔حضرت مفتی خورشید انور قاسمی نے مدرسے کی مختصر پانچ سالہ تعلیمی و تعمیری تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی غیر معمولی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے برپورہ کے مقامی احباب اور اہلِ خیر کے تعاون کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔پروگرام کے دوران مدرسے کے ڈائریکٹر مفتی محمد عفان عباسی نے تکمیلِ حفظِ قرآن کریم کی تقریب انجام دی۔ اس موقع پر قرآن کریم حفظ کرنے والی طالبات کی خمار پوشی کی گئی اور انہیں قیمتی انعامات سے نوازا گیا۔ بالخصوص حافظہ عائشہ ارشاد نے محض 12 سال کی عمر میں حفظِ قرآن کریم مکمل کرکے ایک نمایاں اعزاز حاصل کیا، جس پر حاضرین نے انہیں مبارک باد پیش کی اور ان کی محنت و لگن کو خوب سراہا۔تقریب میں طالبات کی علمی و تعلیمی کامیابیوں کے اعتراف میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

دسویں جماعت کا امتحان کامیابی سے پاس کرنے والی تقریباً 10 طالبات اور آٹھویں جماعت میں کامیابی حاصل کرنے والی تقریباً 26 طالبات کو اسناد سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ حافظات اور دیگر نمایاں کارکردگی پیش کرنے والی طالبات میں خصوصی انعامات تقسیم کیے گئے۔پروگرام کی ایک اور نمایاں خصوصیت طالبات کی علمی، ادبی اور لسانی صلاحیتوں کا مظاہرہ تھا۔ تقریباً 40 سے 50 طالبات نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبانوں میں نہایت عمدہ اور پُراثر تقاریر پیش کیں۔ طالبات نے اپنی خوب صورت نعتوں سے مجلس کو مسحور کردیا۔ ان کی پُراعتماد گفتگو، علمی استعداد اور زبانوں پر مہارت نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔اس موقع پر مدرسے کی علمی و تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ اس کی ہمہ جہت تعلیمی پالیسی کا بھی تعارف کرایا گیا۔ واضح رہے کہ مدرسہ سیدنا عثمان للبنات میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کا بھی معیاری نظم قائم ہے، جہاں عربی کے علاوہ ہندی، انگریزی، ریاضی اور دیگر مضامین کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ طالبات کو دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انگریزی میڈیم میں عصری تعلیم کا خصوصی انتظام ہے۔ پروگرام میں مدرسہ کی طالبات کی لکھی ہوئی کتاب ’’دو پیغمبروں کی سنہری کہانیاں‘‘، کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔اس موقعہ پر کتاب کے ناشر مولانا سعود احمد صاحب بھی بنفس بنفیس موجود تھے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے داخلوں اور رجسٹریشن کے آغاز کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے تحت خواہش مند طالبات کے لیے داخلے کا عمل جاری ہے۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں شہر کی متعدد اہم شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں ڈاکٹر حبیب مرشد خان، ڈاکٹر سید نیّر حسن،جناب حضرت مفتی سید شاہ سلمان ، جناب فاروق اعظم صاحب، جناب تقی احمد جاوید صاحب، برپورہ مسلم ایسوسی ایشن کے سکریٹری صاحب، ڈاکٹر پرویز اختر صاحب،جناب ماسٹر ابراہیم انور، اسماعیل انور۔ برہ پورہ کے وارڈ پارشد اور دیگر معزز احباب شامل تھے۔ یہ پروگرام محض ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ بچیوں کی دینی و عصری تعلیم، حفظِ قرآن، علمی استعداد اور مستقبل کی تعمیر کے عزم کا ایک روشن مظہر تھا۔ مدرسہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ للبنات نے اپنے مختصر پانچ سالہ سفر میں جس انداز سے دینی و عصری تعلیم کے میدان میں پیش رفت کی ہے، وہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ اس ادارے کی کوشش ہے کہ مسلم بچیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں بہترین دینی تربیت کے ساتھ جدید علوم سے بھی آراستہ کیا جائے، تاکہ وہ معاشرے کی صالح، باصلاحیت اور ذمہ دار خواتین بن سکیں۔پروگرام کے اختتام پر تمام مہمانوں، علماء کرام، معاونین، سرپرستوں اور اہلِ خیر کا شکریہ ادا کیا گیا۔ حاضرین نے مدرسے کی مزید ترقی، استحکام اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا

زیا صاحب

ایڈیٹر ان چیف

مزید خبریں