حکومت کا بڑا فیصلہ: موجودہ تمام اگنی ویروں کا مستقل فوجی بننے کی راہ ہموار

نریندرمودی نے کہا کہ 2014 کے بعد ملک نے کھیلوں کے شعبے میں بڑے اہداف کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے والدین اپنے بچوں کو کھیلوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے تھے، کیونکہ وسائل کی کمی، ناقص انتظامات، تعاون کے فقدان اور شفافیت کی کمی جیسے مسائل موجود تھے
وزیراعظم نریندر مودی نے ایشیائی پیرا کھیلوں میں ہندوستان کی تاریخی کامیابی کو کھلاڑیوں کی غیر معمولی محنت اور عزم کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 14 تمغوں سے 114 تمغوں تک کا سفر ان کی انتھک کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پیرا ایتھلیٹس نے شاندار کارکردگی سے نہ صرف تمغے جیتے ہیں بلکہ کروڑوں ہم وطنوں کے دل بھی جیت لیے ہیں۔وزیراعظم نے جمعرات کو یہاں اندرا گاندھی اسپورٹس کمپلیکس میں جاپان کے آئچی-ناگویا میں حال ہی میں منعقدہ ایشیائی پیرا کھیلوں کے ہندوستانی تمغہ یافتگان سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے پیرا ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان نے صرف 14 تمغے حاصل کیے تھے، جن میں ایک طلائی تمغہ شامل تھا، جبکہ اس بار کھلاڑی 114 تمغے جیت کر لوٹے ہیں۔ یہ کامیابی ان کی محنت، کھیل کے تئیں لگن اور ملک میں تیار ہونے والے بہتر کھیلوں کے نظام کا نتیجہ ہے۔گزشتہ ماہ جاپان میں منعقدہ ان کھیلوں میں 97 ہندوستانی پیرا ایتھلیٹس نے مجموعی طور پر 114 تمغے حاصل کیے، جن میں 30 طلائی، 35 چاندی اور 49 کانسے کے تمغے شامل ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑیوں نے اس دوران پانچ نئے عالمی ریکارڈ اور نو ایشیائی ریکارڈ بھی قائم کیے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 56 خاتون کھلاڑیوں میں سے 34 نے تمغے جیتے، جبکہ چار مقابلوں میں تینوں تمغے ہندوستانی کھلاڑیوں کے حصے میں آئے۔ مقابلوں کے آخری دن بھی ہندوستان نے نو طلائی تمغے جیت کر اپنی برتری کا شاندار مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے ان مقابلوں میں ایسے کئی مقابلوں میں بھی طلائی تمغے حاصل کیے جہاں ملک کو پہلے کبھی یہ کامیابی نہیں ملی تھی۔ انہوں نے پیرا شوٹنگ میں مونا اگروال کی عالمی ریکارڈ کارکردگی کا ذکر کیا اور کہا کہ ہنی نے بھی اپنا سابقہ عالمی ریکارڈ توڑا۔ انہوں نے ہمانشو، روی اور جہان کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے دنیا کو دکھایا ہے کہ جسمانی مشکلات کے باوجود بلند حوصلوں سے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کھلاڑیوں کی کامیابی میں ان کے اہل خانہ، ٹرینرز اور کوچز کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیرا ایتھلیٹس کی تیاری کے لیے کوچز کو عام کھلاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، اس لیے ان کی خدمات بھی خصوصی مبارکباد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے رنکو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی پیرا کھیلوں سے دو ماہ قبل انہوں نے اپنی والدہ کو کھو دیا تھا، لیکن اس بڑے صدمے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور طلائی تمغہ جیتنے کے بعد اپنی والدہ کی تصویر اٹھا کر یہ کامیابی ان کے نام کر دی۔ یہ لمحہ پورے ملک کے لیے جذباتی تھا۔مودی نے کہا کہ 2014 کے بعد ملک نے کھیلوں کے شعبے میں بڑے اہداف کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے والدین اپنے بچوں کو کھیلوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے تھے، کیونکہ وسائل کی کمی، ناقص انتظامات، تعاون کے فقدان اور شفافیت کی کمی جیسے مسائل موجود تھے۔ حکومت نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے بچانے اور کھیلوں کے نظام میں تبدیلی لانے کا عزم کیا۔ آج نوجوانوں کو اپنی صلاحیت پر بھروسہ ہے اور انہیں یقین ہے کہ ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیر اندازی، ایتھلیٹکس، شوٹنگ، تیراکی، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، جوڈو اور پاور لفٹنگ سمیت کئی کھیلوں میں ہندوستانی پیرا کھلاڑیوں کی کارکردگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔
اس بار 61 کھلاڑیوں نے پہلی مرتبہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں حصہ لیا، جن میں سے 36 تمغے جیت کر واپس آئے۔ سندیپ نے اپنے پہلے ہی مقابلے میں عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ وزیراعظم کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کی یہ شرکت آج کے ہندوستان کی تصویر اور ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔اس موقع پر مرکزی وزیر کھیل منسکھ مانڈویا، وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڑسے، کوچز، پیرا لمپک کمیٹی آف انڈیا اور ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیدار، قومی کھیل فیڈریشنوں کے نمائندے اور وزارت امور نوجوان و کھیل کے افسران بھی موجود تھے۔
admin







