مواد پر جائیں
قومی

پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: اپوزیشن

Awaze Bihar3 منٹ پڑھیں

لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے منگل کو کہا کہ ایوان میں ارکان کے ساتھ مساوی سلوک نہ ہونے اور پارلیمنٹ کی وقار و عظمت کو بچانے کے مقصد سے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ہے۔
مسٹر گوگوئی نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا ذاتی تعلق سب کے ساتھ اچھا ہے، لیکن ایوان میں تمام ارکان کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا فرض ہے کہ وہ ایوان کے نگہبان ہوں، حکومت کی آواز نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو اپنی بات رکھنے نہیں دی گئی۔ انہیں بار بار حکومتی ارکان نے ٹوکا، حتیٰ کہ وزرائے دفاع، داخلہ اور پارلیمانی امور نے بھی مداخلت کی۔
مسٹر گوگوئی نے کہا کہ راہل گاندھی اہم مسائل اٹھانا چاہتے تھے، جیسے کہ جب چینی فوج ہندوستانی سرحد کی طرف بڑھ رہی تھی تو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل منوج نروانے نے وزیر دفاع سے کارروائی کے احکامات مانگے، لیکن کئی گھنٹوں بعد انہیں وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ "جو مناسب سمجھو کرو۔"
اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے اعتراض کیا کہ بحث عدم اعتماد کی تحریک کے موضوع سے ہٹ رہی ہے۔ گوگوئی نے جواب دیا کہ اگر ایوان میں ٹوکنے کی گنتی کی جائے تو واضح ہوگا کہ سب سے زیادہ مداخلت رجیجو نے کی ہے۔
اسی دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ رجیجو کی مداخلت اس لیے ہے کیونکہ اتنا غیر ذمہ دار اپوزیشن کبھی نہیں رہا۔ گوگوئی نے کہا کہ شاہ کے بیان سے ان کی تقریر کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
کانگریس کے ڈپٹی لیڈر نے مزید کہا کہ امریکہ کے محکمہ انصاف کی دستاویزات میں ایک ہندوستانی صنعتکار اور ایک وزیر کا نام آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے امریکہ کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے پر رضامندی دی ہے جس سے ملک کا کاروبار اور زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کیا دباؤ ہے کہ وزیر اعظم ملک کے مفاد کے خلاف جا کر یہ نقصان دہ معاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ملک جاننا چاہتا ہے کہ جنرل نروانے نے اپنی کتاب میں جو باتیں کہی ہیں، کیا وہ کھوکھلی ہیں یا جنرل نروانے جھوٹ بول رہے ہیں؟ یہ باتیں عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔"
اس سے پہلے کانگریس کے محمد جاوید نے برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، جسے 50 سے زیادہ ارکان نے کھڑے ہو کر حمایت دی۔
اس پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ برلا کے خلاف تحریک آنے کے بعد ان کے مقرر کردہ پینل کے ارکان صدارت نہیں کر سکتے۔ چونکہ اس وقت لوک سبھا کا کوئی ڈپٹی اسپیکر نہیں ہے، اس لیے ایوان کی رائے کے بعد کوئی رکن بحث کے دوران صدارت کر سکتا ہے۔ کانگریس کے کے سی وینوگوپال اور ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے بھی یہی رائے ظاہر کی، لیکن صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے ان کے اعتراض کو مسترد کر دیا۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں