مواد پر جائیں

آنے والے وقت میں اردو تنقید میں نظریات و تصورات کے مباحث میں اضافہ ہوگا:صفدر امام قادری

Awaze Bihar9 منٹ پڑھیں

ہبلی: (پریس ریلیز) شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اشتراک سے ’’اردو تنقید: نظریے،مباحث اور امکانات‘‘ کے موضوع پر دوروزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔یہ سمینار گذشتہ8 اور9جنوری 2026 کو منعقد ہوا۔جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ممتاز ناقدین، اساتذہ اردو، محققین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اس سیمینار کا مقصد اردو تنقید کی نظریاتی بنیادوں، معاصر مباحث اور مستقبل کے امکانات پر سنجیدہ اور علمی گفتگو کو فروغ دینا تھا۔سمینارکا افتتاح کالج کے پرنسپل پروشوتم پرامانک نے کیا۔ سمینا ر میں آئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم ڈاکٹر محمد ہمایوں جمیل خان نے کیا۔افتتاحی اجلاس میں مہمانان خصوصی محترمہ نزہت زینب، سکریٹری مغربی بنگال اردو کاڈمی نے کہا کہ اردو اکیڈمی کی خدمات اردو زبان و ادب کے فروغ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف اردو کی تدریس و ترویج میں سرگرم عمل ہے بلکہ مغربی بنگال کی گنگا جمنی تہذیب میں اردو کے کردار کو مستحکم کرنے میں بھی اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔اکیڈمی نے ریاست کے مختلف اضلاع میں اردو زبان کی تعلیم کے لیے کورسز، ورکشاپس اور اساتذہ کی تربیت کے پروگرام منعقد کیے ہیں، جس سے نئی نسل میں اردو سیکھنے اور سمجھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ اردو داں طبقے کے علاوہ غیر اردو داں افراد کو بھی اردو سے جوڑنے کی منظم کوششیں اکیڈمی کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی یہ تیسری دفعہ سمینار کے لئے اپنا تعاون پیش کر رہی ہے اور ہگلی محسن کالج کو یہ پہلی دفعہ ملا ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں بھی ملتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنقید کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ وہ ادب اور سماج کے رشتے کو واضح کرتی ہے۔ ایک اچھا نقاد ادب کے اندر چھپے ہوئے سماجی رویوں، طبقاتی کشمکش، صنفی شعور اور تہذیبی قدروں کو سامنے لاتا ہے۔ اس طرح تنقید ادب کو زندگی سے جوڑتی ہیَ ۔
ڈاکٹر دبیراحمد،صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج نے کہا کہ یہ سیمینار صرف ایک علمی اجتماع نہیں بلکہ اردو تنقید کے فکری مکالمے کو آگے بڑھانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جس کے اثرات دیرپا ثابت ہوں گے اردو تنقید کی اہمیت اردو ادب کی روحانی اور فکری بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ تنقید ہی وہ آئینہ ہے جس میں ادب اپنی خوبیاں، خامیاں اور امکانات دیکھتا ہے۔ اگر تخلیق ادب کا جسم ہے تو تنقید اس کی عقل اور شعور ہے، جو اسے سمت اور معنویت عطا کرتی ہے۔اردو تنقید نے ادب کو محض جذباتی اظہار کے بجائے فکری، سماجی اور تہذیبی سطح پر سمجھنے کا شعور دیا ہے۔
مہمان ذی شان سیمینا رکے کلیدی خطبہ خواں پروفیسرصفدر امام قادری(استادشعبہ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ)نے اوّل اول تنقید کو عالمی سطح پر موضوع بحث بنایا اور مشرق ومغرب کے تصورات کی عہد جدید میں معنویت پرگفتگو کی۔انہوں نے ادب اور سماج میں تنقید کی ضرورت اور افادیت پر تفصیل سے گفتگو کی۔انہوں نے دنیا کے مشہور تنقیدی نظریات کا تعارف کراتے ہویء اس بات پر زور دیا کہ آنے والے وقت میں نظریات اور تصورات کے سلسلے سے اردو نقادوں کی توجہ بڑھے گی۔انہوں نے اردو تنقید کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے قدیم شعرا بالخصوص دکنی مثنویوں میں موجود تصورات شعر کو تنقید کا پہلا نمونہ تسلیم کیا۔تذکروں کے متون کو انہوں نے تنقید کا دوسرا سبق قرار دیا۔پھر حالی سے تنقید کا جو نیا دبستان قائم ہوا،اس کی خدمات اور خصوصیات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اردو ادب میں اعلیٰ تنقیدی مزاج کی تشکیل کے لیے اساتذ ہ اور دیگر تنقید نگاروں کی خصوصی توجہ مبذول کرائی۔ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک پیش کردہ کلیدی خطبے میں ڈاکٹر صفدر امام قادری نے مغرب ومشرق کے اہم نقادوں،شعرا اور دیگر تخلیق کاروں کے متون کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے اپنے بیان کو موثر اور کارآمد بنایا۔
اس افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر غزالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو تنقید کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بین الاقوامی نظریات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جدید تنقیدی رویّوں کو اردو ادب کے لیے نئے فکری در وا کرنے والا قراردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو تنقید محض ادب کی تشریح نہیں بلکہ عہد کے فکری اور سماجی شعور کی ترجمانی ہے۔‘‘اردو تنقید کو اگر عالمی فکری دھاروں سے جوڑا جائے تو یہ ادب کی نئی تعبیرات پیش کر سکتی ہیں۔ اس سیمینار نے اسی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔‘‘یہ سیمینار اردو تنقید کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کو یکجا کرنے کی ایک بامعنی کوشش ہے۔ یہاں ہونے والی گفتگو نے ہمیں اپنی تنقیدی روایت پر نئے سرے سے غور کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ان کے علاوہ اس افتتاحی اجلاس میں شوکت علی (مغربی بنگال اردو اکاڈمی)،ڈاکٹر بکاش دے (کوآڑدینیٹر IQACہگلی محسن کالج) وغیرہ شامل تھے جبکہ اس اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد احمد اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج انجام دے رہے تھے اور اظہار تشکر محترمہ شمع عظیم شعبہ ٔاردو، ہگلی محسن کالج نے کیا۔
یہ سمینار 6سیشن پر محیط تھا پہلے سیشن میں مختلف علمی، کلاسیکی،ساختیاتی تنقید، جدید نظریات، ساختیات، مابعد جدید تنقید، مابعد نوآبادیاتی فکر اور ثقافتی تنقید جیسے موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔ مقررین نے اردو تنقید کے نظریاتی ڈھانچے کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی قوت اور کمزوریوں کو مدلل انداز میں پیش کیا۔پہلے سیشن کی صدارت جناب صفدر امام قادری نے کی اور مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر دبیر احمد (صدر شعبۂ اردو، مولانا آزاد کالج)،ڈاکٹرمحمد ہمایوں جمیل خان (ایسوسی ایٹ پروفیسر ہگلی محسن کالج)، ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی( ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ اردوخضر پور کالج)،محترمہ نیک پروین(صدر شعبۂ اردو کوی سوکانتا مہا ودیالیہ کالج) نے اپنا مقالہ بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا۔نظامت سید آصف عبا س مرزا ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج نے اور اظہار تشکر محترمہ نیہا پروین، بردوان یو نیورسٹی نے کی۔دوسرے سیشن کی صدارت بھی صفدر امام قادری نے کی۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اردو تنقید کو جامد روایت سے نکال کر عصری سماجی، تہذیبی اور فکری مسائل سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ نوجوان محققین کے مقالات کو خاص طور پر سراہا گیا جو اردو تنقید میں نئی جہات کا پتہ دیتے ہیں اس سیشن کے مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر ترنم مشتاق(صدر شعبۂ اردو نرسنہا دت کالج)،ڈاکٹر شبنم پروین(اسسٹنٹ پروفیسرگورنمنٹ گرلس جنرل ڈگری کالج)، ڈاکٹرمحمد شفقت کمال( اسسٹنٹ پروفیسرشعبۂ اردو، ٹی ڈی بی کالج)، ڈاکٹر علیم ہاشمی( اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو لیڈی برابورن کالج)،سید آصف عباس مرزا(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج)، آفاق حیدر(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج) کے نام شامل ہیں۔ اس سیشن کی نظامت محمد طیب نعمانی نے کی اور اظہار تشکرمحترمہ خدیجہ تسنیم نے کیا۔
تیسرے سیشن میں ڈاکٹر ارشاد احمد،اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو، ہگلی محسن کالج، ڈاکٹر شاہین پروین( صدر شعبۂ اردو شری شکشا یتن کالج)، محمد طیب نعمانی( صدر شعبۂ اردو بھیرب گنگولی کالج)، ڈاکٹر مظفر علی(ریسرچ اسکالر کلکتہ یونیورسٹی)، درخشاں شمیم(ریسرچ سکالر،ہگلی محسن کالج)،عبدالقادر(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج)،محترمہ نغمہ پروین(، شعبہ اردوہگلی محسن کالج)نے اپنے مقالے پیش کیے۔ نظامت کے فرائض شبنم پروین ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج نے ادا کی جبکہ اظہار تشکر محترمہ ثمینہ جمیل، شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج نے کیا۔
چوتھے سیشن کی صدارت جناب کلیم حاذق نے کی۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر ایس ایم ہاشمی(ایسوسی ایٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج)، ڈاکٹر عمر غزالی( صدر شعبہ اردوہگلی محسن کالج)،ڈاکٹر محمدفاروق اعظم(صدر شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج، اینڈ کوارڈینیٹر اردو’قاضی نذرل یونیورسٹی)، ڈاکٹر نور النساء (اردو اسکالر، نئی دہلی)، ڈاکٹر سعید احمد(اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو عالیہ یونیورسٹی)،محترمہ نیہا پروین(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج)، محمد اظہر الدین(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج) کے نام سر فہرست ہیں۔ جبکہ نظامت کے فرائض محترمہ ثمینہ تسنیم،شعبۂ اردو،ہگلی محسن کالج،فرائض نے ادا کی، اور اظہار تشکر بشریٰ نشاط، شعبہ اردو،ہگلی محسن کالج نے کیا۔
پانچویں سیشن کی صدارت معروف ڈرامہ نگار اور نقاد جناب ظہیر انور نے کی اور مقالہ نگاروں میں جناب کلیم حاذق،مشہور ناقد،جناب ابوذر ہاشمی،مدیر سہ ماہی روح ادب،مغربی بنگال اردو اکاڈمی،ڈاکٹر سنجر ہلال بھارتی،معروف ادیب، ڈاکٹر جمشید احمد، صدر شعبہ اردو، بدھان چندرا کالج، محمد مشکور عالم(صدر شعبہ اردو بنواری لال بھالوٹیا کالج)، محترمہ گلشن آرا ء(ریسرچ اسکالر، قاضی نذرل یونیورسٹی)، محمد طیب علی(ریسرچ اسکالرہگلی محسن کالج)، محترمہ شاذیہ پروین(لکھنوں یونیورسٹی )نے اپنے مقالے پیش کئے۔ جبکہ نظامت کے فرائض نغمہ پروین، شعبہ اردو، ہگلی محسن کالج نے ادا کی اور اظہار تشکر محمدخورشید عالم( ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو، ہگلی محسن کالج )نے کیا۔
چھٹے سیشن کی صدارت جناب ابوذر ہاشمی مدیر سہ ماہی روح ادب نے کی اور مقالہ نگاروں میں جناب ظہیر انور، ڈاکٹر ارشاد عالم، صدر شعبہ اردو، شیب پور دینو بندھو انسٹیٹیوشن،محمد خورشید عالم( ریسرچ سکالر شعبہ اردو ہگلی محسن کالج)، شبنم پروین(ریسرچ سکالر شعبہ اردو ہگلی محسن کالج)، چاندنی رحمن(ریسرچ سکالر شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج)، رافعہ شبنم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، بشری نشاط(ہگلی محسن کالج) نے اپنے مقالے پیش کیے اور نظامت کے فرائض محمد اظہر الدین(ریسرچ اسکالر،ہگلی محسن کالج) نے ادا کیے جب کہ ٓافاق حیدر(ریسرچ اسکالر ہگلی محسن کالج) نے اظہار تشکر کیا۔
اختتا می اجلاس کا آغازبھی شاندار ہو۔اس اجلاس کی صدار ت جناب صفدر امام قادری اور جناب ظہیر انور نے کی۔ صفدر صاحب نے کہا کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشاعرے، سیمینار، مذاکرے اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا، جن میں ریاست بھر کے شعرا، ادبا اور محققین کو اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ خاص طور پر اردو تنقید، فکشن، خواتین کی تحریریں اور بنگال میں اردو صحافت جیسے موضوعات پر منعقد ہونے والی نشستوں نے علمی فضا کو تقویت دی ہے جو آپ کے تحقیقی موضوعات سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ظہیر انور نے کہا کہ اس سیمینار میں پیش کیے گئے مقالات نے یہ ثابت کیا کہ اردو تنقید آج بھی نئے سوالات اور نئے امکانات سے بھرپور ہے۔ کلیم حاذق نے کہا کہ‘‘اردو تنقید کے امکانات پر جو باتیں یہاں سامنے آئیں، وہ نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس طرح کے سیمینار وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ابوذر ہاشمی نے کہا کہ‘چھ سیشنوں میں جس سنجیدگی اور فکری گہرائی کے ساتھ مقالات پیش کیے گئے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اردو تنقید کا مستقبل نہایت روشن ہے۔،ڈاکٹر سنجر ہلال بھارتی، ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم،صدر شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج، ڈاکٹرجمشید احمد،صدر شعبہ اردو بدھان چندرا کالج، ڈاکٹر محمد مشکورعالم، صدر شعبہ اردو، بنواری لال بھالوٹیا کالج،ڈاکٹر سعید احمد،اسسٹنٹ پروفیسر، عالیہ یونیورسٹی نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے تاثرات پیش کئے،نظامت کے فرائض محمد طیب علی، شعبۂ اردوہگلی محسن کالج نے ادا کی اور اظہار تشکر آفاق حیدر ریسرچ سکالر،ہگلی محسن کالج نے کیا۔اس طرح دو روزہ قومی سیمینار اردو تنقید کے روشن مستقبل کا اشاریہ ثابت ہوا جو سیمینار کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں