مواد پر جائیں

فلمساز و ہدایت کار کمال امروہوی بحیثیت ادیب

Awaze Bihar14 منٹ پڑھیں

ڈسک
کمال امروہوی کانام ذہن میں آتے ہی فلم 'پاکیزہ کا خیال ذہن میں ضرور آتا ہے۔حالاں کہ انہوں نے دیگر فلمیں بھی بنائیں لیکن اس شاہکار فلم کے خالق کمال امرہوی کا یہ ڈریم پروجیکٹ تھا۔بہترین ڈائیلاگ موسیقی نغمات اورمیناکماری کی بے مثال اداکاری کی بدولت اس فلم نے ناظرین کے دل و دماغ پرایسے نقوش ثبت کئے جنہیں آج تک محو نہیں کیا جاسکا۔ اس کے نغموں میں اس قدر کشش ہے کہ آج بھی جب فلم’پاکیزہ‘ کے نغمے کہیں سنائی دیتے ہیں تو لوگوں کے دل کی دھڑکنیں تھم جاتی ہیں اور لوگ ہمہ تن گوش ہوجاتے ہیں۔ویسے تواس فلم کے سبھی نغمات پسند کئے جاتے ہیں لیکن اس کا ایک گیت موسم ہے عاشقانہ….. اے دل کہیں سے ان کو ایسے میں ڈھونڈ لانا…انتہائی مقبول ہوا۔دل کے ساز چھیڑنے والی موسیقی اور الفاظ کی بندش کے سبب اس فلم نے کامیابی کے ریکارڈ توڑے۔ آج اس فلم کا شمار بالی ووڈ کی کلاسک فلموں میں کیا جاتا ہے۔
'پاکیزہکمال امروہوی کی ڈریم پروجیکٹ فلم تھی جس پر انہوں نے 1958میں کام کرنا شروع کردیاتھا۔ یہ عہد بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کا تھا۔ یہ فلم بھی بلیک اینڈ وہائٹ میں بننے والی تھی۔کچھ عرصہ بعد ہندوستان میں سنیمااسکوپ کا رواج شروع ہوا تو انہوں نے 1961میں سنیما اسکوپ کی شکل میں بنانا شروع کیا۔
کمال امروہوی 17جنوری 1917کو اترپردیش کے امروہہ ضلع میں پیدا ہوئے۔ ان کے فلم انڈسٹری میں داخلہ کا واقعہ بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔کہاجاتا ہے کہ وہ بچپن میں انتہائی شرارتی تھے اور اپنی شرارتوں سے پورے گاؤں کی ناک میں دم کئے رہتے تھے۔ایک بار ان کی والدہ نے انہیں زبردست پھٹکار لگائی تو انہوں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ ایک دن وہ انتہائی مقبول افراد میں شمار کئے جائیں گے اور ان کے دامن کو سونے چاندی کے سکوں سے بھر دیں گے۔اس دوران ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ہوا یوں کہ ان کے بڑے بھائی نے ان کی شرارتوں سے تنگ آکر انہیں طمانچہ رسیدکردیا۔غصہ سے بپھرے کمال امروہوی گھرچھوڑ کر لاہور بھاگ پڑے۔
لاہور نے ان کی زندگی کی سمت ہی بدل دی۔ انہوں نے بڑا آدمی بننے کا عزم کرلیا تھا۔انہوں نے خوب محنت کی اورقدیم لسانیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔وہ انتہائی ذہین تھے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے محض 18سال کی عمر میں ہی ایک اردو اخبار میں کالم نگاری شروع کردی۔ اخبار کے مدیر اُن کی صلاحیتوں کے اس قدر معترف ہوئے کہ اس زمانہ میں انہوں نے 300روپے ان کا مشاہرہ مقرر کردیا۔یہ اس وقت ایک خطیر رقم شمار کی جاتی تھی۔ کچھ دنوں تک اخبار میں کام کرنے کے بعد ان کا دل اس کام سے بھر گیا اور وہ کلکتہ آگئے اوروہاں سے پھربمبئی کا رخ کیا۔
لاہور میں کمال امروہوی کی ملاقات معروف نغمہ نواز اور اداکار کندن سہگل سے ہوئی ۔ کمال صاحب کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں فلم میں کام دلانے کے لئے سہراب مودی کے پاس بمبئی لائے۔ وہ یہاں آکر فلم انڈسٹری میں جدو جہد کرنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے خواجہ احمد عباس تک رسائی حاصل کی۔ ان کی کہانی 'سپنوں کا محل سے فلم ساز و ہدایت کار اورمعروف کہانی نویس خواجہ احمد عباس بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اس پر فلم بنانے کا ارادہ کرلیا۔اس کے لئے فلم ساز بھی تلاش کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کمال امروہوی کو معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پاس کھانے کے لئے پیسہ تھا نہ سر چھپانے کے لئے گھر۔ ان کے ستارے گردش میں تھے۔ اسی دوران انہیں خبرملی کہ سہراب مودی کسی نئی اور اچھوتی کہانی کی تلاش میں ہیں۔وہ فوراً ان کے پاس پہنچے اور انہیں تین سو روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھ لیا۔ان کی کہانی پر مبنی فلم پکار(1939) سپر ہٹ رہی۔ یہ فلم نسیم بانو اور چندرموہن کی اداکاری سے مزین تھی۔ انہوں نے اس فلم کے لئے چار گیت لکھے۔اس فلم کی کامیابی کے بعد کمال امروہوی کا جادو فلموں میں چل گیاا ور انہوں نے متعدد فلموں کے لئے کہانیاسکرپٹ اور ڈائیلاگ تحریر کئے۔
فلم محل کمال امروہوی کے کیریر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔یہ فلم تجسس اوررومانس سے بھری تھی۔فلم ساز اشوک کمار نے اس کی ہدایت کاری کی ذمہ داری کمال امروہوی کو سونپی۔ بہترین گیتوں اور موسیقی کے سبب یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے بعد سے ہی فلموں میں سسپنس کا رواج چل پڑا۔فلم کی زبردست کامیابی نے مدھوبالا اور لتامنگیشکر کو نئی شناخت فراہم کی۔اس سے حوصلہ پاکر کمال امروہوی نے 1953میں کمال پکچرس اور 1958میں کمالستان اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔اس کے بینر تلے انہوں نے اپنی بیوی مینا کماری کو لے کرایک آرٹ فلم ’’دائرہ‘‘ بنائی لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ اسی دوران فلم ساز و ہدایت کار کے آصف اپنی اہم فلم 'مغل اعظم بنانے میں مصروف تھے۔اس کے ڈائیلاگ وجاہت مرزا لکھ رہے تھے۔کے آصف نے محسوس کیا کہ ایک ایسے ڈائیلاگ لکھنے والے کی ضرورت ہے جس کے تحریر کردہ ڈائیلاگ ناظرین کے دماغ میں برسوں تک گونجتے رہیں۔ اس کے لئے انہوں نے کمال امروہوی کا انتخاب کیا اور انہوں نے چارڈائیلاگ لکھنے والوں میں شامل کرلیا۔ان کے تحریر کردہ ڈائیلاگ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ عاشق و معشوق خط و کتابت میں ان کا استعمال کرتے تھے۔ اس فلم میں بہترین ڈائیلاگ لکھنے کے لئے انہیں فلم فرئم انعام سے بھی نوازا گیا۔
کمال امروہی کا سلسلہ نسب روحانی اور کراماتی بزرگ سید العارفین سید حسین شرف الدین شاہ ولایت کے واسطے سے امام علی نقی علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ شاہ ولایت بھی بڑے با کمال بزرگ تھے۔ ان کی درگاہ کا کمال یہ ہے کہ اس کے احاطے میں آج بھی بچھو جیسا موذی ڈنک نہیں مارتا۔ کمال کا خاندان با کمالوں کا خاندان رہا۔ یہ خاندان علما، فضلا اور شعرا کے خانوادے کے طور پر مشہور رہا ہے۔ کمال امروہی کے پردادا امیر حسن امیر قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ غزل، سلام، مرثیہ، نعت، قصیدہ، قطعہ، رباعی غرض ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے۔ امیر حسن امیر نے فارسی شاعر ملا واعظ حسین کاشفی کی فارسی تصنیف 'روضت الشہدا کا 'باران غم کے نام سےاردو میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ نظم کا حصہ منظوم ترجمہ ہے اور نثر کا نثر میں۔ کمال امروہی کے دادا نصیر حسن نصیر اردو، عربی اور فارسی کے عالم تھے۔ زیادہ تر منقبتی شاعری کرتے تھے۔ نصیر حسن نصیر کے چار فرزند تھے، چاروں کے چاروں شاعر اور ادیب تھے۔ نفیس حسن 'نفیس، انیس حسن 'ہلال، شفیق حسن 'ایلیا اور وحید حسن 'وحید۔ انیس حسن 'ہلال کمال امروہی کے والد تھے اور شفیق حسن 'ایلیا، رئیس امروہی اور جون ایلیا کے والد تھے۔ کمال امروہی کے والد انیس حسن 'ہلال نے پوری عمر رثائی ادب کی خدمت میں گزار دی۔ پچاس سال سے کم عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کا بیشتر کلام محفوظ نہ رہ سکا۔ جو کلام دستیاب ہے اس میں سلاموں کے علاوہ چار مراثی بھی ہیں۔
کمال امروہی 17 جنوری1917 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام امیر حیدر نقوی تھا۔ جب شاعری شروع کی تو اپنے والد 'ہلال کا ہم قافیہ 'کمال تخلص اختیار کیا۔ یہی امیر حیدر کمال امروہی اپنی ماں اور اہل خاندان کے لئے چندن تھے۔ امروہہ کے محلہ دربار شاہ ولایت میں ان کے گھر پر 'چندن کا گھر لکھا ہوا ہے۔ کمال امروہی نے خاندان میں رائج ادبی ماحول کا اثر بچپن میں ہی قبول کر لیا تھا اور کم عمری میں شاعری شروع کر دی تھی۔ امروہہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سولہ سترہ برس کی عمر میں ہی امروہہ چھوڑ دیا تھا۔ میٹرک دہرہ دون سے کیا۔ 1934 میں لاہور کے اورئنٹل کالج سے Master Of Oriental Languages کی سند حاصل کی۔ لاہور میں انہوں نے ادبی صحافت میں قلم آزمائی کی۔ لاہور سے شائع ہونے والے ماہنامہ تاج کے مدیر رہے۔ یہ خالص ادبی رسالہ تھا۔ کمال امروہی نے دہلی سے شائع ہونے والے رسالے ساقی کی ادارت بھی سنبھالی۔ تاج اور ساقی کے ذریعے کمال امروہی نے ادبی صحافت میں قلم کے کمالات دکھائے۔ کمال امروہی نےایک اور اہم ترین ڈائجسٹ کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں وہ تھا۔ خلاصہ صرف و نحو۔ اس ڈائجسٹ کے ذریعے شوقین افراد معیاری اردو اور زبان و بیان کے نکات سیکھتے تھے۔ یہ ڈائجسٹ اپنے دور میں ممتاز اور مشاہیر ادیبوں کا پسندیدہ تھا۔
فلمی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے ہی کمال امروہی صاحب کمال و بیان ادیب اور صحافی کے طور پر ملک گیر شہرت کما چکے تھے۔ ان کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں افسانوں کے دو مجموعے پردیسی اور ہزار داستان شامل ہیں۔ انہوں نے یادوں کا مندر کے نام سے ایک ناول بھی لکھا تھا۔ ایک عربی ناول کا اردو میں موتیوں کا درخت، کے نام سے ترجمہ بھی کیا تھا۔ کمال امروہی نے انگریزی ناول رومیو جولیٹ کا بھی اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ لاہور میں قیام کے دوران کمال امروہی کی ملاقاتیں اس دور کے معروف قلمکاروں، سعادت حسن منٹو، راجندر بیدی سحر، احمد ندیم قاسمی اور خواجہ احمد عباس سے رہیں۔ خواجہ احمد عباس نے کمال امروہی کی ایک کہانی کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ ملک کی تحریک آزادی کے دوران لاہور سے اہل قلم کولکاتہ اور ممبئی کا رخ کر رہے تھے۔ کمال امروہی بھی پہلے کولکاتہ اور وہاں سے ممبئی پہنچ گئے۔ ممبئی میں سہراب مودی سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے دونوں لاہور میں مل چکے تھے۔ سہراب مودی نے کمال امروہی کی ایک کہانی پر فلم جیلر بنائی۔ جیلر فلم کے کامیاب ہونے کے بعد سہراب مودی نے مشہور فلم پکار بنائی۔ جس کی کہانی اور مکالمے کمال امروہی نے لکھے۔ اس فلم کے ذریعے کمال امروہی نے با ادب با ملاحظہ ہوشیار، جیسا ڈائلاگ فلمی دنیا کو دیا جو مسلم بادشاہوں کی زندگی پر مبنی کئی فلموں میں استعمال ہوا۔
کمال امروہی کے طرز نگارش کا لطف لینا ہو تو فلم مغل اعظم دیکھئے۔ فلم کی ابتدا ان کلمات سے ہوتی ہے۔ جن کے ہر ہر لفظ سے وطن کی محبت کی خوشبو پھوٹی پڑتی ہے۔
میں ہندستان ہوں، ہمالیہ میری سرحدوں کا نگہبان ہے۔ گنگا میری پویترتا کی سوگندھ، تاریخ کی ابتدا سے میں اندھیروں اور اجالوں کا ساتھی ہوں۔ میری خاک پر سنگ مرمر کی چادروں میں لپٹی ہوئی یہ عمارتیں دنیا سے کہہ رہی ہیں کہ ظالموں نے مجھے لوٹا اور مہربانوں نے مجھے سنوارا۔ نادانوں نے مجھے زنجیریں پہنا دیں اور میرے چاہنے والوں نے انہیں کاٹ پھینکا۔
جہاں تک کمال امروہی کی شاعری کا تعلق ہے تو اس میں وہی رس ہے جو اس خانوادے کے شعرا کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ رئیس امروہی اور جون ایلیا کی زبان میں جو لوچ اور جو چاشنی ہے وہی کمال امروہی کی زبان میں بھی ہے۔ نمونے کے طور پر ان کی اس غزل کا آہنگ ملاحظہ کیجیے۔
ساز دل، نغمہ جاں، روح فزا ہے کیا ہے؟
تو کرن ہے کہ شفق ہے کہ صبا ہے کیا ہے؟
پیاس کی آگ بجھا دی ہے تری قربت نے
تو سمندر ہے کہ دریا ہے، گھٹا ہے کیا ہے؟
تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے
سادگی ہے کہ جھجک ہے کہ حیا ہے کیا ہے؟
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو تسکین ملے
راحت جاں ہے، دلاسہ ہے، دعا ہے کیا ہے؟
ان کی ایک نظم کے دو بند کچھ اس طرح ہیں۔
جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم
کون اترا ہے زمیں پر چاند ہے
سارا عالم خوبصورت ہو گیا
زندگی تھی جستجو جس خواب کی
تم کو دیکھا تو حقیقت ہو گیا
جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم
گھیرتے ہیں مجھ کو ان دیکھے خیال
چھیڑتی ہیں اجنبی پر چھائیاں
راز دل کو لے اڑی باد صبا
گفتگو کرنے لگیں تنہائیاں
جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم
امام حسین کی شان میں ان کا یہ شعر ان کے منقبتی ذوق کا نمونہ ہے۔
خدا کے دین کو جب تشنہ لب نہ دیکھ سکا
حسین صبر کا دریا بہا دیا تونے
11 فروری 1993 کو یہ آفتاب کمال ممبئی کے ساحل سمندر پر غروب ہو گیا۔ کمال امروہی کی موت پر ان کے چچا زاد بھائی اور جادوئی لہجہ کے شاعر جون ایلیا نے جو شخصی مرثیہ کہا وہ ایک با کمال شخصیت کو ایک شاعر باکمال کا حقیقی خراج عقیدت ہے۔
جس کی ہر بات ہو کمال کی بات
کیا کہوں ایسے با کمال کی بات
شہرت عام کی تمناؤ
اس کی خدمت میں آکے بس جاؤ
حسن کا گلستاں طراز ہے یہ
اس کے قدموں پہ پھول برساؤ
کبھی یہ شخص مر نہیں سکتا
ہے یہ زندہ اسے نہ دفناؤ
یہ جو ہے لا جواب ہے یہ شخص
یہ حقیقت کہ خواب ہے یہ شخص
آپ کو کیسے نیند آئی ہے
یہ تو ہم سب سے بے وفائی ہے
رنگ نے لی ہے آخری ہچکی
حسن فن نے شکست کھائی ہے
دل نے دھڑکن کا ساتھ چھوڑ دیا
شمع نے روشنی گنوائی ہے
سر نگوں ہو گئی ہے اک تاریخ
ایک تہذیب لڑ کھڑائی ہے
ہونے والا ہے آخری دیدار
با ادب با ملاحظہ ہوشیار
مرثیہ کے اس بند میں جون ایلیا نے کمال فنکاری کے ساتھ کمال امروہی کی اولادوں کے نام استعمال کئے ہیں۔ شاندار کمال، تاجدار کمال اور رخسار کمال
لفظ و معنی کا شہر یار کمال
اور پھر کیسا شاندار کمال
ہے یہی گونج فن کی دنیا میں
فن کی دنیا کا تاجدار کمال
عظمتوں کی عظیم تر عظمت
یادگاروں کی یاد گار کمال
گلشن حسن لہجہ اردو
تھا تری آخری بہار کمال
وہ جلال و جمال طرز بیاں
ہو فدا جس پہ بار بار کمال
سوگ میں ہے جلال کی گفتار
تر بہ تر ہیں جمال کے رخسار
کمال امروہی کی شعری اور قلمی وراثت فرزند تاجدار کمال اور دختر رخسار کمال سنبھالے ہوئے ہیں، سر زمین امروہہ اپنے اس با کمال فرزند پر جتنا فخر کرے کم ہے۔
کمال امروہوی نے فلم جیلر(1938) ' میں ہاری (1940) بھروسہ (1940) مذاق (1943) پھول (1945) شاہ جہاں (1946)' محل(1949) دائرہ(1953) دل اپنا اور پریت پرائی(1960)مغل اعظم (1960) پاکیزہ (1971) شنکر حسین (1971) اور رضیہ سلطان (1983) فلموں کے لئے کہانی ڈائیلاگ اوراسکرپٹ لکھی۔یہ سچ ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں فلموں کے لئے اپنی خدمات پیش نہیں کی لیکن جن چنندہ فلموں میں انہوں نے کام کیا پوری یکسوئی ' لگن اور جنون کے ساتھ کام کیا۔یہ صحیح ہے کہ ان کے کام کرنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی تھی' جس کے سبب ان پر تنقید بھی کی جاتی تھی۔ 'رضیہ سلطان' کی فلم سازی کی رفتار دھیمی ہونے کے سبب ہیمامالنی نے بھی ان پر تنقید کی تھی۔لیکن ان کے کام میں ان کی شخصیت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔
جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ 'پاکیزہ کمال امروہوی کی ڈریم پروجیکٹ فلم تھی جس پر انہوں نے 1958میں کام کرنا شروع کردیاتھا۔ یہ عہد بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کا تھا۔ یہ فلم بھی بلیک اینڈ وہائٹ میں بننے والی تھی۔کچھ عرصہ بعد ہندوستان میں سنیمااسکوپ کا رواج ہوا تو انہوں نے 1961میں سنیما اسکوپ کی شکل میں بنانا شروع کیا۔لیکن کمال امروہوی کی اپنی تیسری بیوی میناکماری سے علحدجگی کے سبب اس کی فلم سازی1961تا 1969 تعطل کا شکار رہی۔بعدازاں انہوں نے میناکماری کو کسی طرح اس فلم میں کام کرنے پر راضی کیا۔ بالآخر 1971میں یہ فلم مکمل ہوئی اور فروری 1972میں ریلیز ہوئی۔
یاد رہے کہ کمال امروہوی نے تین شادیاں کیں۔ان کی پہلی بیوی کا نام بانو تھا جو نرگس کی ماں جدن بائی کی نوکرانی تھیں۔بانو کی استھما سے موت کے بعد انہوں نے محمودی سے شادی کی۔تیسری شادی انہوں نے اداکارہ میناکماری سے کی جو عمرمیں ان سے پندرہ برس چھوٹی تھیں۔دونوں کی ملاقات ایک فلم کے سیٹ پر ہوئی اور ان میں پیار پروان چڑھا یہاں تک کہ دونوں 1952 میں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔لیکن یہ شادی زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہی اور دونوں میں علحدیگی ہوگئی۔
فلم 'پاکیزہ' کی تکمیل کے بعد فلم ساز و مکالمہ نگار کمال امروہوی کاکچھ عرصہ کے لئے فلموں سے ربط منقطع رہا۔ بعدازاں1983میں انہوں نے فلم انڈسٹری کا رخ کیا اور اپنی ہدایت کاری میں 'رضیہ سلطان' بناکر فلم انڈسٹری میں اپنا سکہ جمایا۔یہ فلم حالاں کہ کچھ زیادہ مقبول نہیں ہوئی کیوں کہ اس کے مکالموں میں فارسی کا کثرت سے استعمال کیا گیا تھا جن سے عام لوگ متاثر نہیں ہوسکے۔ لیکن یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جو لوگ فارسی داں ہیں' انہوں نے اس فلم کو ہٹ فلموں کی طرح دیکھا۔مشہور اداکارہ ہیمامالنی نے اس فلم میں رضیہ سلطان کاکردار بخوبی نبھایااور حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے کس طرح مکالموں کی ادائیگی کی کیوں کہ اس کے مکالموں میں فارسی الفاظ کی کثرت تھی۔بہرحال ہیمامالنی بہترین اداکارہ ہیں۔ان سے ایسی توقع کی جاسکتی تھی اور انہوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔یہ عظیم الشان فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہیں رہی۔کمال امروہوی اس سے بے حد مغموم ہوئے۔کچھ دنوں تک وہ صدمے میں رہے پھر دوبارہ حوصلہ کرکے انہوں نے ایک اور فلم 'آخری مغل بنانے کا ارادہ کیا لیکن ان کا فلم بنانے کا یہ خواب حقیقت میں نہیں بدل سکا اور یہ عظیم فن کار 11فروری 1993کو خالق حقیقی سے جاملا۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں