مواد پر جائیں
قومی

معروف صحافی و افسانہ نگار محمود ایوبی کی 16ویں برسی پر آئیڈیا کی جانب سے پُراثر نشستِ خراجِ عقیدت

Awaze Bihar3 منٹ پڑھیں

اہلِ خانہ، رفقائے کار اور ادبی شخصیات کی شرکت، ایوبی کو سچائی اور خلوص کی علامت قرار دیا گیا
معروف صحافی، ادیب اور افسانہ نگار محمود ایوبی کی 16ویں برسی کے موقع پر تنظیم آئیڈیا کی جانب سے شمال مغربی ممبئی میں ملت نگر ،اندھیری کے نزدیک واقع شکنتلم اسٹوڈیو میں ایک نہایت پُرسوز، جذباتی اور تہذیبی نشستِ خراجِ عقیدت منعقد کی گئی۔ اس نشست میں مرحوم کے اہلِ خانہ، قریبی دوستوں، صحافتی و ادبی رفقا اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی اور محمود ایوبی کی زندگی، کردار اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کا آغاز آئیڈیا کے صدر مجیب خان کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جنہوں نے محمود ایوبی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور فنّی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے منشی پریم چند کی کہانیوں پر مبنی ڈرامائی سلسلہ “آداب، میں پریم چند ہوں” شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس میں پریم چند کا کردار ادا کرنے کے لیے محمود ایوبی ہی ان کے اولین انتخاب تھے۔ مجیب خان کے مطابق ایوبی نے اپنی مخصوص سادگی میں کہا تھا، “آپ بڑا رسک لے رہے ہیں”، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ رسک نہیں بلکہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ یہ شو غیر معمولی کامیاب ہوا اور آج ہندوستان میں اسٹیج ڈراموں کی طویل ترین روایات میں شمار ہوتا ہے، جسے لمکا بک آف ریکارڈ اور ورلڈ وائڈ بک آف ریکارڈ میں بھی جگہ حاصل ہے۔
تقریب میں محمود ایوبی کے رفیقِ کار ریاض شیخ نے ان کی برجستہ حسِ مزاح، طنزیہ جملوں اور محفل کو زندہ رکھنے کی صلاحیت پر روشنی ڈالی، جبکہ سراج انصاری نے ان کے ساتھ گزارے ہوئے یادگار لمحات کو بیان کیا۔
سینئر جرنلسٹ سعید حمید نے ایوبی صاحب کی صاف گوئی، بے تکلفی اور نگار لائبریری کی ادبی محفلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ محمود ایوبی ایک ایسے انسان تھے جن کے دل میں سچائی اور شفافیت آئینے کی طرح جھلکتی تھی۔ انہوں نے کہا، “ایوبی صاحب دوبارہ نہیں آ سکتے، مگر ان کی سچائی اور ایمانداری کو ہم آج بھی اپنی زندگی میں اپنا سکتے ہیں۔”ایوبی کو سچائی اور خلوص کی علامت قرار دیا گیا۔
محفل کا سب سے جذباتی لمحہ اس وقت آیا جب مرحوم کی صاحبزادی فوزیہ ایوبی نے اظہارِ خیال کیا۔ رُندھی ہوئی آواز اور نمناک آنکھوں کے ساتھ انہوں نے اپنے والد کی انسان دوستی، مہمان نوازی اور زندگی کے فلسفے کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک بار انہوں نے والد سے شکوہ کیا کہ ملنے والوں کی تعداد کم کی جائے، جس پر محمود ایوبی نے جواب دیا تھا، “ہماری زندگی میں تو لوگ آئیں گے، مگر ہماری موت کے بعد کوئی نہیں آئے گا۔” یہ جملہ سن کر محفل پر گہری خاموشی طاری ہو گئی۔
آخر میں مرحوم کی نواسی سیما نے نانا کے ساتھ گزارے ہوئے یادگار لمحات کا تذکرہ کیا، جبکہ صدر آئیڈیا مجیب خان نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔ یہ نشست نہ صرف محمود ایوبی کی یاد میں تھی بلکہ سچائی، خلوص اور انسانیت کی اقدار کی تجدید کا ایک خوبصورت اظہار بھی ثابت ہوئی۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں