مواد پر جائیں
قومی

نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے لیے جامع ہدایات کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

Awaze Bihar5 منٹ پڑھیں

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت دینے کی درخواستوں پر منگل کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے درخواستوں کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے تمام فریقوں کو دو ہفتے کے اندر مختصر تحریری عرضداشتيں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
ان درخواستوں پر سماعت عدالت کی پہلے کی ہدایات کے پس منظر میں کی جا رہی ہے جن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب بھی کوئی تقریر یا طرز عمل تعزیرات ہند کی دفعہ 153A، 153B، 295A اور 505 کے تحت جرائم شمار ہو، تو حکام کو مقدمات درج کرنے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ازخود کارروائی کرنی چاہیے، اور انہيں اس کے لیے رسمی شکایت کا انتظار نہيں کرنا چاہئے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال، ایم آر شمشاد، سنجے پاریکھ، سنجے ہیگڑے اور ایڈوکیٹ نظام پاشا درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور سینئر ایڈوکیٹ ڈی ایس نائیڈو نے مدعا علیہان کی نمائندگی کی۔ متعدد درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر، بالخصوص جب ملزمان کا تعلق حکمران پارٹیوں سے ہو، تو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے عرض کیا کہ مسئلہ قانونی دفعات کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان کے ناقص نفاذ کا ہے۔ عدالت کی مکرر ہدایات کے باوجود "معمول کے مشتبہ افراد" اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہتے ہیں، ایف آئی آر کے بعد اکثر گرفتاریاں نہیں کی جاتیں، اور حکام کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، حتی کہ ایسے واقعات کی پہلے سے تشہیر کی جاتی ہے جس میں نفرت انگیز تقریر کے واضح اشارے کا اشتہار دیا جاتا ہے، مگر ان پر کوئی کارروائی نہيں ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں نے ڈیجیٹل دور میں نفرت انگیز تقریر کی ابھرتی ہوئی نوعیت کو بھی اجاگر کیا۔ سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال نے ایک درخواست کا حوالہ دیا جس میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو میں مبینہ طور پر سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ بیانیے کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر کے ایسے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں حکومتی منظوری درکار ہوتی ہے۔ جکہ یہ منظوری صرف ادراک کے مرحلے پر ضروری ہوتی ہے، ایف آئی آر درج یا تفتیش شروع کرنے کے لیے نہيں۔
سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح نفرت انگیز تقریر اب ایک لائف سائیکل کی پیروی کرتی ہے، جو ایک نعرے یا فقرے سے شروع ہوتی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتی ہے، اور آخر کار ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام ہوجاتی ہے۔ انہوں نے "یو پی ایس سی جہاد" کی نشریات جیسی مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے عدالت سے اپیل کی کہ وہ بڑے کارپوریشنوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لیے نفرت انگیز تقریر کو غیر منافع بخش بنانے کے طریقے پر غور کرے۔
سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد اور ایڈوکیٹ امیت پائی نے بھی عرض کیا کہ پولس حکام اکثر بے جا طور پر حکومت کی پیشگی منظوری پر اصرار کرکے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ ادراک کے مرحلے پر منظوری درکار ہو سکتی ہے، لیکن ایف آئی آر کے اندراج کے لیے یہ شرط نہیں ہے۔
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) کی طرف سے پیش ہوکر سینئر ایڈوکیٹ سنجے پاریکھ نے دلیل دی کہ تحسین ایس پونا والا بمقابلہ یونین آف انڈیا کے مقدمہ میں جاری کردہ رہنما ہدایات کو مضبوط بنانے اور ان میں ترمیم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ نفرت انگیز تقریر کے واقعات کا زیادہ مؤثر طریقے سے ازالہ کیا جا سکے۔ ایک عرضداشت یہ بھی پیش کی گئی کہ نفرت انگیز تقریر کو پسماندہ طبقات پر اثرانداز آئینی حقوق کی خلاف ورزی شمار کرتے ہوئے "آئینی ستم" شمار کیا جانا چاہئے، جس کا مداوا فوجداری قانونی چارہ جوئی سے باہر تک ہوسکتا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے بتایا کہ عدالت کی ہدایات کی خاطر خواہ تعمیل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر واقعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جبکہ دیگر معاملوں کی انکوائری میں کسی فوجداری جرم کا انکشاف نہیں ہوا۔
عدالت عظمی نے درخواستوں پر اپنا حکم محفوظ رکھتے ہوئے واضح کیا کہ ایک معاملہ کاظم احمد شیروانی بنام ریاست اتر پردیش و دیگر کا ہے، جو نوئیڈا کے ایک مسلم عالم کے خلاف مبینہ منافرت سے متعلق ہے، جس پر بعد کے مرحلے میں الگ سے سماعت کی جائے گی۔
عدالت عظمی نے تمام فریقوں کو دو ہفتے کے اندر مختصر تحریری عرضداشتيں داخل کرنے کی ہدایت دی۔ نومبر 2023 میں، حکومت ہند نے ایک اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے تحسین ایس پونا والا کے معاملے میں جاری کردہ ہدایات کی پیروی کرتے نوڈل افسران کا تقرر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے پہلے واضح کیا ہے کہ وہ منافرت کے ہر انفرادی واقعے پر قانون سازی کی ہدایت دینے یا نگرانی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ قانونی میکانیزم، پولس حکام اور ہائی کورٹس موجود ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس کا کردار مؤثر نفاذ کے فریم ورک کو یقینی بنانے تک محدود ہے، جس سے شکایات کو مناسب ہائی کورٹس کے ذریعہ حل کیا جائے۔

دوسری زبان میں: English · हिन्दी

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں