
اراولی کی پہاڑیاں مکمل طور پر محفوظ ہیں: بھوپندر یادو
جنگلات و ماحولیات کے مرکزی بھوپیندر یادو نے چار ریاستوں میں واقع اراولی کی پہاڑیوں کے سلسلے میں پھیلائے جا رہے شکوک و شبہات کو دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراولی کی پہاڑیاں پوری طرح محفوظ ہیں۔
الور لوک سبھا حلقہ سے رکنِ پارلیمنٹ مسٹر بھوپندر یادو نے منگل کے روز عوام کے نام لکھا گیا خط ''الور کے نام ایک پاتی'' ارسال کرتے ہوئے کہا کہ اراولی کے سلسلے میں پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے وہ یہ پیغام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الور بھی اراولی سلسلہ کوہ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، جہاں سریسکا ٹائیگر ریزرو اور سیلیسیڑھ جھیل جیسی قدرتی وراثتیں موجود ہیں۔
انہوں نے علاقے کے عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اراولی مکمل طور پر محفوظ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اراولی کے جامع تحفظ، غیر قانونی کان کنی پر روک لگانے، ماحولیاتی معیارات کے تحت محفوظ علاقوں کے باہر مجاز کان کنی کے ذریعے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور علاقے کی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ قدرتی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عدالت کی جانب سے اراولی کے تعین کے لیے اختیار کیا گیا پیمانہ جس کے مطابق مقامی سطح سے 100 میٹر سے زیادہ بلند ہونے والی زمینی ساخت یا پہاڑی کو اراولی مانا جائے گا اور راجستھان میں پہلے سے نافذ معیار، جو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے دورِ حکومت میں 2002 میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا، دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔اسی بنیاد پر آج بھی راجستھان میں اراولی کی وہ پہاڑیاں جن کی اونچائی 100 میٹر سے زیادہ ہے، وہاں کان کنی پر پابندی برقرار ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں نے عدالت کے فیصلے کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کیا، جس کا فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ حقیقت کے برخلاف اراولی کی ترجمانی اور اس کے مستقبل کے بارے میں بے بنیاد غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔مسٹر یادو نے کہا کہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جو پہاڑیاں 100 میٹر سے زیادہ بلند ہیں، وہ صرف چوٹی سے زمین تک ہی اراولی پہاڑ نہیں مانی جائیں گی بلکہ ان کے دامن میں آنے والی تمام زمینی ساختیں بھی اراولی پہاڑوں میں شامل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن تاثر پھیلانا کہ اراولی کے لیے اختیار کیے گئے نئے معیار سے 90 فیصد پہاڑی سلسلہ تباہ ہو جائیں گے، بالکل بے بنیاد ہے۔ درحقیقت اس معیار کے تحت 90 فیصد سے بھی زیادہ اراولی کا علاقہ محفوظ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اراولی کے لیے اختیار کیے گئے نئے معیار کے نتیجے میں 90 فیصد پہاڑی سلسلے تباہ ہو جائیں گے، سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معیار کے تحت 90 فیصد سے بھی زیادہ اراولی کا علاقہ محفوظ رہے گا۔جہاں تک کان کنی کا سوال ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق کسی بھی غیر قانونی کان کنی کو باقاعدہ شکل نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا،میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں اراولی کی گود میں پیدا ہوا ہوں، اسی پہاڑی سلسلے کے قرب میری پرورش ہوئی ہے۔ اراولی کے تحفظ اور فروغ کے لیے میں ہمیشہ پُرعزم رہا ہوں اور ہمیشہ پُرعزم رہوں گا۔
دوسری زبان میں: English · हिन्दी
متعلقہ خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ، بی جے پی پر بااثر افراد کو بچانے کا الزام

موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے : مودی

