بہار کو خوشحال بنائے بغیر ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا: سمراٹ
Awaz E Bihar
••4 ویوز•5 منٹ پڑھیں
وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے آج روہتاس ضلع کے جمہوہار (ڈہری آن سون) واقع نارائن میڈیکل کالج کے احاطے میں ’وڈنگر-وارانسی سیوا یاترا‘ کے تحت منعقدہ ’یوا سمواد پروگرام‘ کاشمع روشن کرکے افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے سیوا یاترا میں شامل مسافروں کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا اور خدمت کے ان کے جذبے اور لگن کی ستائش کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’سیوا سنکلپ مہم‘ کے تحت خدمت گار تقریباً 20 دن تک اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر وڈنگر سے وارانسی تک کا سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے تمام سیوا یاتریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خدمت کے جذبے اور عزم کی ستائش کی۔ انہوں نے نوجوانوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے عزم سے وابستہ ہوکر ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2014 سے پہلے اور 2014 کے بعد کے ہندوستان میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے انہوں نے سردار وللبھ بھائی پٹیل کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کی ریاستوں کے انضمام میں اہم کردار ادا کرکے متحد ہندوستان کی بنیاد مضبوط کی۔ انہوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ’ایک ملک میں دو آئین، دو نشان اور دو سربراہ‘ کی مخالفت کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ اس عزم کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم رہا۔ انہوں نے ایودھیا میں شری رام مندر کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اس معاملے کو اپنے عزم کا حصہ بنائے رکھا اور اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ انہوں نے کہا کہ خدمت جذبے اور عزم کے ساتھ کام کرنا ملک کی تعمیر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کو خوشحال بنائے بغیر ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ریاست میں سڑک اور آمدورفت کی سہولیات کے ساتھ آب پاشی اور آبی انتظام کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ بہار میں آب پاشی کے قابل رقبہ تقریباً 21 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر تقریباً 44 لاکھ ہیکٹر ہوگیا ہے۔ شمالی بہار میں سیلاب اور جنوبی بہار میں خشک سالی کے مسئلے کے پیش نظر واٹر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں فضائی رابطے میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ دربھنگہ اور پورنیہ میں فضائی خدمات شروع ہوچکی ہیں اور 2029 سے پہلے ریاست میں 10 ہوائی اڈے فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پٹنہ سے ساسارام تک فور لین سڑک کی تعمیر کی سمت میں بھی جلد کام شروع ہونے والا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کی تقریباً 87 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور جیویکا دیدیاں دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ خواتین کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ 2030 تک بہار کا کوئی بھی شخص مجبوری میں مزدوری کے لیے ریاست سے باہر نہ جائے۔ ریاست میں روزگار اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بہار سے باہر کام کرنے والے صنعت کاروں سے اپنی مادرِ وطن میں بھی سرمایہ کاری کرنے اور ریاست کی ترقی میں تعاون دینے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں پینے کے پانی، بیت الخلا، اجولا یوجنا اور غریبوں کے لیے پکے مکانات جیسی فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سہولیات کے فروغ سے عام لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے بہار کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بہار محفوظ ہے اور ملک و دنیا کے لوگوں کا بہار میں خیرمقدم ہے۔انہوں نے سبھی لوگوں سے خوشحال اور ترقی یافتہ بہار کی تعمیر میں اپنا تعاون دینے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی اور خدمت کے 25 سال مکمل ہونے پر انہیں مبارکباد بھی پیش کی۔ پروگرام سے صنعت و کھیل کی وزیر محترمہ شریسی سنگھ، مدھیہ پردیش کے رکن پارلیمنٹ شری وشنو دت شرما، بی جے پی کے تنظیمی جنرل سکریٹری شری بھیکھو بھائی دلسانیا اور سابق رکن پارلیمنٹ گوپال نارائن سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی جناب تریویکرم نارائن سنگھ، قانون ساز کونسل کے رکن جناب دلیپ کمار سنگھ، بی جے پی یوا مورچہ کے ریاستی صدر جناب جتیندر سنگھ، روہتاس بی جے پی ضلع صدر جناب سنتوش پٹیل، اورنگ آباد بی جے پی ضلع صدرجناب وجیندر چندروَنشی سمیت دیگر عوامی نمائندے اور معززین موجود تھے۔