ورلڈ کپ سے پہلے فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی بہتر کرنا ہوگی: گِل
Awaz E Bihar
••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ہندوستانی ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شبھمن گِل کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنے کے باوجود آئندہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم کو فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ تیسرے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کے بعد گِل نے کہا کہ کئی بار ٹیم کی حکمت عملی واضح نہیں ہوتی کہ اسے جارحانہ انداز اپنانا ہے یا دفاعی حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔ خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں گیندبازی کے دوران یہ مسئلہ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں جب حریف ٹیم کے پانچ یا چھ وکٹ گر چکے ہوں تو درست فیلڈ ترتیب دینا آسان نہیں ہوتا اور ٹیم اکثر اس تذبذب کا شکار ہوجاتی ہے کہ ڈیتھ اوورز کی حکمت عملی پہلے اپنائی جائے یا مڈل اوورز کی طرح حملہ جاری رکھا جائے۔ ان شعبوں میں ٹیم کو یقینی طور پر بہتری لانی ہوگی۔ ہندوستان نے اس سیریز میں جسپریت بمراہ اور ہاردک پانڈیا کے بغیر شرکت کی۔ 2027 کے ورلڈ کپ سے قبل ہندوستان کو بہت کم ون ڈے کھیلنے ہیں اور اس کا ذکر ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر بھی کرچکے ہیں۔ ٹیم کے انتخاب سے واضح ہے کہ ہندوستان صرف میچ جیتنے کے بجائے نئے متبادل کھلاڑیوں کو آزمانے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ محمد سراج نے سیریز کے تین میں سے صرف ایک میچ کھیلا اور اس میں بھی ڈیتھ اوورز میں گیندبازی نہیں کی۔ نیو چندی گڑھ میں ڈیبیو کرنے والے انشول کمبوج، گرنور برار اور آف اسپنر نمن دھیر نے بھی آخری 10 اوورز میں گیندبازی کی، جبکہ گوہاٹی میں ڈیبیو کرنے والے عاقب نبی نے بھی اننگز کے آخری اوورز میں ویسٹ انڈیز کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ دونوں ٹیموں کے گیندبازوں کی جم کر پٹائی ہوئی کیونکہ حالات ان کے حق میں نہیں تھے، تاہم اس دوران حاصل ہونے والا تجربہ اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ میں ہندوستان کے کام آئے گا۔ اس سے بیک اپ کھلاڑیوں کو اندازہ ہوگیا ہے کہ انہیں کس معیار کی کارکردگی پیش کرنی ہوگی، جبکہ اہم کھلاڑی واپسی کی تیاری میں ہیں۔ ہفتہ کو ہندوستان نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور چار رن پر دو وکٹ گنوادیے، اس کے باوجود ٹیم نے 351 رن بنائے۔ تین میچوں میں ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے گِل نے کہا کہ وہ مجموعی طور پر کافی حد تک مطمئن ہیں، لیکن اب بھی کچھ شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ''مجھے لگتا ہے کہ ہماری فیلڈنگ مزید بہتر ہوسکتی ہے۔ پوری سیریز میں ہم نے چھ یا سات کیچ چھوڑے، جو ورلڈ کپ سے پہلے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی فیلڈنگ بہترین معیار کی ہو۔ گِل نے کہا کہ وہ اسکور بورڈ پر موجود رن سے خوش تھے، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ ویسٹ انڈیز نے میچ میں واپسی کی۔ 46ویں اوور کے بعد ہندوستان پر سست اوور ریٹ کے لیے جرمانہ عائد کیا گیا، جس کے باعث آخری چند گیندوں میں اسے باؤنڈری پر معمول کے پانچ کے بجائے صرف چار فیلڈر رکھنے پڑے۔ انہوں نے کہامجھے لگا کہ میچ ہمارے کنٹرول میں تھا۔ ہم چار اوور پیچھے چل رہے تھے اور آخر میں انہوں نے میچ ہم سے چھین لیا۔ اگر ہم اوورز میں پیچھے نہ ہوتے تو شاید میچ آخری اوور تک جاتا۔ جب بھی آپ جلد آؤٹ ہوتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے، لیکن آج مجھے نہیں لگتا کہ اس گیند پر میں کچھ مختلف کرسکتا تھا۔