پٹنہ، 11 ستمبر (اے بی این): بہار میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق غلطیوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت 45 روزہ خصوصی مہم چلائے گی۔ اس دوران جمابندی میں درج کھاتہ، کھسرا، پلاٹ اور رعیّت کے نام کی غلطیوں کو درست کیا جائے گا۔ زمین کی پیمائش کی ضرورت پڑنے پر متعلقہ رعیّت کو اس کے لیے کوئی فیس بھی ادا نہیں کرنی ہوگی۔محکمہ محصولات و اراضی اصلاحات کے وزیر ڈاکٹر دلیپ کمار جیسوال نے جمعہ کو پٹنہ کے شاستری نگر واقع محصولات (سروے) تربیتی ادارے میں ایڈیشنل کلکٹر (ریونیو) کے جائزہ اجلاس میں یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک شہری اپنی جمابندی درست کرانے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے تھے، لیکن اب محکمہ خود لوگوں تک پہنچے گا اور ریکارڈ کی غلطیاں درست کرے گا۔وزیر نے کہا کہ ہر آنچل میں جمابندی کی اصلاح کی ذمہ داری آنچل افسر (سی او) کی ہوگی۔ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ معاملات کو لٹکانے کے بجائے مقررہ وقت میں کارروائی مکمل کریں۔ دلیپ جیسوال نے افسران کو واضح الفاظ میں کہا کہ ’پک اینڈ چوز‘ کی پالیسی چھوڑ کر ہر معاملے پر یکساں کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آنچل دفتر آنے والے لوگوں سے سی او اور ریونیو افسر (آر او) بات کریں اور انہیں ان کے معاملے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کی کارروائی کے بارے میں واضح معلومات دیں۔انہوں نے کہا کہ افسران اور شہریوں کے درمیان رابطے کی کمی کی وجہ سے ہی آف لائن درخواستوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کو صحیح معلومات وقت پر ملیں تو آنچل دفاتر میں غیر ضروری بھیڑ بھی کم ہوگی۔ محکمہ اب آنچل سطح پر ہونے والے کام کے معیار کی روزانہ نگرانی کرے گا۔ اس کے لیے افسران کی ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو مختص اضلاع میں جمابندی اور دیگر محصولات کے کاموں کے نمٹارے کے ساتھ ان کے معیار کی بھی جانچ کرے گی۔اس نگرانی کا مقصد ڈی سی ایل آر اور ایڈیشنل کلکٹر (ریونیو) پر پڑنے والے اضافی دباؤ کو کم کرنا اور محکمہ کے سکریٹری کو روزانہ کی بنیاد پر کام کی پیش رفت اور معیار سے آگاہ رکھنا ہے۔ وزیر نے تمام اضلاع کو سرکاری زمین کا لینڈ بینک تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ہر قسم کی سرکاری زمین کو شامل کیا جائے اور ریکارڈ کو تازہ رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں صنعتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین کی ضرورت پیش آسکتی ہے، اس لیے سرکاری زمین کا درست اور تازہ ریکارڈ تیار رہنا ضروری ہے۔ سروے کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے ارول، جہان آباد، شیخ پورہ، شیوہر اور لکھی سرائے کے ایک ہزار سے زائد گاؤں کو جلد نوٹیفائی کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر ایڈیشنل کلکٹر (ریونیو) کی عدالت میں اپیل کی جا سکے گی۔ اس کے لیے محکمہ میں الگ سروے اپیل سیل قائم کیا جائے گا۔ نئے سروے والے اضلاع میں اسپیشل میوٹیشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس نظام میں زمین کی تفصیلات کے ساتھ اس کا نقشہ بھی دستیاب ہوگا۔ محکمہ کا ماننا ہے کہ اس سے زمین کی شناخت زیادہ واضح ہوگی اور مستقبل میں اراضی تنازعات کے امکانات کم ہوں گے۔ اجلاس میں محکمہ کے سکریٹری جے سنگھ نے محصولات سے متعلق متعدد اہم معاملات کا جائزہ لیا۔ موضع وار جمابندیوں کی اصلاح، پانچ ایکڑ سے زیادہ سرکاری زمین کی زمینی تصدیق، سرکاری پلاٹوں سے متعلق جمابندیوں کی جانچ اور لاک جمابندیوں کو اَن لاک کرنے کی پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی۔بھومی ابھی لیکھ پورٹل پر موصول درخواستوں کے ساتھ اسکین شدہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے، ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم، رجسٹری سے قبل زمین کے ریکارڈ کی تصدیق اور ریونیو مہا ابھیان کے تحت موصول درخواستوں کو معیار کے ساتھ نمٹانے پر بھی افسران سے معلومات لی گئیں۔ اجلاس میں فوت شدہ رعیّت کے معاملات میں خود نوٹس لے کر وراثت اور تقسیم کے درخواست میں غلط سوال نامہ بھرنے اور جعلی یا فرضی دستاویزات کے استعمال کے معاملات پر بھی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔اس کے علاوہ ملازمین کی روزانہ ڈائری، موبائل ایپ کے ذریعے کے سی حاضری، متنازع زمین کی پیمائش سے متعلق موصول شکایات و فیڈ بیک اور دیگر محصولات کے کاموں کی پیش رفت بھی جانچی گئی۔اجلاس میں سکریٹری سیمہ ترپاٹھی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر و ایڈیشنل سکریٹری آجیو وتس راج، ڈپٹی ڈائریکٹر مونا جھا، خصوصی ڈیوٹی افسر نوازش اختر، انوپم پرکاش، ڈپٹی سکریٹری اونیش کمار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر و تعلقات عامہ افسر جوہی کماری، آئی ٹی مینیجر آنند شنکر، برانچ افسر راجیو شنکر، دین دیال رام سمیت تمام اضلاع کے ایڈیشنل کلکٹر موجود تھے۔