پٹنہ:(اے بی این ) بہار میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کو لے کر سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی ہے، لیکن لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے فی الحال اس معاملے پر اپنی پارٹی کا حتمی موقف واضح نہیں کیا ہے۔ چراغ پاسوان نے کہا کہ یو سی سی کا مسودہ عوام کے سامنے آنے کے بعد اس پر تفصیلی بحث اور جائزہ لیا جائے گا، پھر لوجپا (آر) اپنا موقف واضح کرے گی۔یو سی سی کو لے کر یہ معاملہ اس وقت زیادہ اہم ہوگیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت والی 21 ریاستوں میں 2029 سے پہلے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا ہدف ظاہر کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد بہار میں این ڈی اے کے اندر اس معاملے پر مختلف رائے سامنے آنے لگی ہے۔ بہار میں این ڈی اے کی اہم اتحادی جنتا دل یونائیٹڈ نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں یو سی سی نافذ نہیں ہوگا۔ جے ڈی یو کے رہنما شیام رجک نے کہا کہ پارٹی پہلے بھی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرچکی ہے اور آج بھی اسی پر قائم ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ سے بات کرنے کی بھی بات کہی ہے۔دوسری طرف لوجپا (آر) نے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ سنانے کے بجائے مسودے کا انتظار کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ چراغ پاسوان کے بیان سے واضح ہے کہ پارٹی یو سی سی کی تمام دفعات کا جائزہ لینے اور تفصیلی غور و خوض کے بعد ہی اپنا موقف سامنے رکھے گی۔ یو سی سی پر بہار کی سیاست میں نئی صف بندی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ بی جے پی اور لوجپا (آر) کے حلقوں سے اس کی حمایت میں آوازیں آئی ہیں، جبکہ جے ڈی یو نے ریاست میں اس کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس نے بھی یو سی سی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے۔یوں یو سی سی کا مسودہ سامنے آنے سے پہلے ہی بہار میں این ڈی اے کے اندر موقف کا تضاد سیاسی بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے، جبکہ چراغ پاسوان نے حتمی فیصلہ مسودے کے تفصیلی جائزے تک روک دیا ہے۔