بہار میں سیلاب سے جانی و مالی نقصان کا جائزہ لے کر امداد فراہم کرے مرکزی حکومت : تیجسوی
••2 views•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 14 ستمبر (اے بی این) بہار قانون ساز اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر تیجسوی یادو نے پیر کے روز کہا کہ بہار میں سیلاب سے 45 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے، ایسے میں مرکزی حکومت کو ریاست کی صورتحال کا نوٹس لے کر ضروری امداد فراہم کرانی چاہیے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ گجرات میں بارش اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے پر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ متحرک ہو کر ریاستی حکومت سے صورتحال کی معلومات لیتے ہیں اور امداد و بچاؤ کے لیے مختلف ایجنسیوں کو لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 23 جولائی کو گجرات میں بارش کی وجہ سے ایک شخص کی موت ہونے پر بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر امت شاہ نے وہاں کے وزیر اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے صورتحال کی معلومات لی اور فضائیہ و قومی قدرتی آفت ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کو الرٹ رہنے کو کہا۔ آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ کچھ سال پہلے گجرات میں سیلاب آنے پر وزیر اعظم نے ہوائی سروے کیا تھا اور امداد کے لیے 500 کروڑ روپے کا پیکیج دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امداد و بچاؤ کے کام میں فوج، فضائیہ اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں لگائی گئی تھیں اور متاثرہ لوگوں کو دو دو لاکھ روپے کی امداد دی گئی تھی۔ مسٹر یادو نے کہا کہ بہار میں سیلاب سے 50 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے، ہزاروں مویشی لاپتہ ہیں اور ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 45 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے ابھی تک توقع کے مطابق امداد نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کو بہار میں سیلاب کی صورتحال پر ریاستی حکومت سے بات کر کے امداد و بچاؤ کے کام کے لیے ضروری امداد فراہم کرانی چاہیے۔ آر جے ڈی لیڈرنے کہا کہ بہار میں بجلی گرنے سے بھی ہر سال بڑی تعداد میں لوگوں کی موت ہوتی ہے، لیکن اسے قومی آفت کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور اس کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بارش سے لوگوں کی موت ہونے پر مرکز کی طرف سے امداد فراہم کی جاتی ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ پہلے بہار میں آفت کی صورتحال پیدا ہونے پر الگ الگ سیاسی جماعتوں کے لیڈر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کے حقوق اور مفادات کے لیے مرکزی حکومت کے سامنے متحد ہو کر اپنی بات رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بہار کے 30 اراکینِ پارلیمنٹ اور آٹھ مرکزی وزراء ہیں اور انہیں ریاست کے مسائل کو مرکز کے سامنے اٹھانا چاہیے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی سیلاب کی صورتحال کو لے کر پہلے دن سے مرکزی حکومت سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کو خط بھی لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے کوئی پیکیج ملتا ہے تو اس کا فائدہ بہار حکومت اور بہار کے عوام کو ہی ملے گا، اس لیے مرکزی حکومت سے امداد کا مطالبہ کرنے میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ بہار اور بہار کے لوگوں کے مفادات کے لیے وہ مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ بہار نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے مرکزی حکومت کے سامنے مضبوطی سے اپنی بات رکھی ہے اور ریاست کے مفاد سے جڑے مسائل پر سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کوشش کی جانی چاہیے۔