نشہ سے نجات مراکز میں علاج کے بعد نوجوانوں کو ہنر کی تربیت سے جوڑنے کی تیاریاں


کانگریس کے ترجمان اور راجیہ سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت آئی ڈی بی آئی بینک کو کینیڈا کی کمپنی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز کو فروخت کر رہی ہے اور اس سودے سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
کانگریس نے سرکاری شعبے کے آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سودے کو فوری طور پر روکے، پورے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرائے اور بینک کی قدر کے تعین سے متعلق رپورٹوں کو عام کرے۔
کانگریس کے ترجمان اور راجیہ سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت آئی ڈی بی آئی بینک کو کینیڈا کی کمپنی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز کو فروخت کر رہی ہے اور اس سودے سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بینک کو خریدنے والی کمپنی کے نمائندوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریداری کی ادائیگی کے لیے خود آئی ڈی بی آئی بینک کے پیسے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر گوہل نے کہا کہ سرکاری شعبے کے اداروں کے قیام کا مقصد ملک کے وسائل اور سہولتوں کو عام شہریوں تک پہنچانا تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سرکاری شعبے کے اداروں کی شروعات کی تھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے دور حکومت میں یکم جولائی 1964 کو آئی ڈی بی آئی بینک قائم کیا گیا تھا، تاکہ چھوٹے تاجروں اوربہت چھوٹی و چھوٹی صنعتوں کو قرض فراہم کیا جا سکے اور صنعتی ترقی و روزگار کو فروغ ملے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ڈی بی آئی بینک نے 2021 سے 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 30,105 کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے۔ بینک نے 2021 میں 1,359 کروڑ روپے، 2022 میں 2,439 کروڑ روپے، 2023 میں 3,645 کروڑ روپے، 2024 میں 5,634 کروڑ روپے، 2025 میں 7,515 کروڑ روپے اور 2026 میں 9,513 کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ مسلسل منافع کمانے والے بینک کو غیر ملکی کمپنی کے حوالے کیوں کیا جا رہا ہے۔
مسٹر گوہل نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے حصص سمیت آئی ڈی بی آئی بینک میں اپنی 62.72 فیصد حصص داری فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز کو 52,878 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سودے کے نتیجے میں بینک کا کنٹرول ختم ہو جائے گا اور وہ سرکاری شعبے کے ادارے کا درجہ بھی کھو دے گا۔ قدر کے تعین کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بینک کے ایک حصص کی قیمت 94.42 روپے مقرر کی گئی تھی، لیکن بولی کھلنے کے بعد اسے تبدیل کرکے 75 روپے فی حصص کر دیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ بولی کھلنے کے بعد قدر میں تبدیلی کرنا ضابطے کے خلاف ہے۔ انہوں نے حکومت سے دونوں جائزہ رپورٹوں کو عام کرنے اور دوسرے بولی دہندہ کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2003 میں اس وقت کے وزیر خزانہ جسونت سنگھ نے پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ آئی ڈی بی آئی بینک میں حکومت کی حصص داری 51 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت اس یقین دہانی کے برعکس کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران پارلیمنٹ میں اس وقت کے وزیر خزانہ کے دیے گئے بیان کی ویڈیو بھی دکھائی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ضابطے کے تحت ایک بینک میں کنٹرول رکھنے والی کمپنی کو دوسرے بینک میں کنٹرول حاصل کرنے کے معاملے میں رعایت کیوں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ غیر ملکی کمپنی آئی ڈی بی آئی بینک خریدنے کے لیے رقم کہاں سے اور کس طرح حاصل کرے گی اور اسے دو سال کے اندر دوسرے بینک میں اپنی حصص داری کم کرنے کی سہولت کیوں دی گئی ہے۔
مسٹر گوہل نے الزام لگایا کہ بینک کی فروخت سے اس کے اثاثوں اور سرکاری شعبے کے بینک کی حیثیت سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بھی کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے سرکاری شعبے سے باہر جانے کی صورت میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، معذور افراد اور خواتین کے لیے دستیاب روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بینک کے اثاثوں کی قدر اور ان کے مستقبل کے حوالے سے بھی حکومت سے شفافیت برتنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس سے پہلے بھی آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے نمائندوں سے ملاقات کرکے بینک کو غیر ملکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے کی مخالفت کی تھی اور اس سلسلے میں حکومت سے سوالات پوچھے تھے۔ مسٹر گوہل نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان سوالات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا ہے۔
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ غیر ملکی کمپنی خود آئی ڈی بی آئی بینک کے پیسوں سے حکومت سے آئی ڈی بی آئی بینک خرید رہی ہے۔ انہوں نے اسے مودی حکومت کا ایک اور بڑا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت کا عمل فوری طور پر روکنے، پورے معاملے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کرانے اور قدر کے تعین سے متعلق دونوں رپورٹوں کو عوامی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے بولی کھلنے کے بعد بینک کی قدر میں تبدیلی کی وجوہات، دوسرے بولی دہندہ کی تفصیلات اور غیر ملکی کمپنی کی جانب سے خریداری کے لیے رقم حاصل کرنے کے ذرائع کی معلومات بھی عوامی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایڈیٹر ان چیف







