مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR

آسام: دھوبڑی میں 640 بنگالی مسلم خاندانوں کے مکانات مسمار، 4 ہزار سے زائد افراد بے گھر

زیا صاحب8 منٹ کی پڑھائی

دھوبڑی کی کارروائی کو آسام میں جاری وسیع تر بے دخلی مہم کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ اس سے تقریباً دو ہفتے قبل ریاست کے ناگاؤں، ہوجائی اور گولاگھاٹ اضلاع میں دو روزہ کارروائی کے دوران 1100 سے زائد مسلم خاندانوں کو بے دخل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔اسکرول کی ریاستی محکمہ مال و آفات کے انتظام اور ضلعی حکام کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق، آسام میں گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 19 ہزار خاندانوں کو سرکاری زمین سے بے دخل کیا جاچکا ہے

گوہاٹی/دھوبڑی، 3 نومبر: آسام میں بے دخلی کی کارروائیوں کے درمیان ضلع دھوبڑی کے مسلم اکثریتی علاقے عالم گنج میں یکم نومبر کو انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر انہدامی مہم چلائی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 640 سے زائد بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے مکانات منہدم ہوگئے اور 4 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے۔ سیکڑوں خاندانوں کے سر سے چھت چھن جانے کے بعد علاقے میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جارہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کئی دہائیوں سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔یہ کارروائی دھوبڑی ضلع کے گوری پور ریونیو سرکل کے تحت عالم گنج پارٹ-IX میں انجام دی گئی۔ انتظامیہ نے تقریباً 650 بیگھہ زمین کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے صبح چھ بجے سے انہدامی مہم شروع کی۔ کارروائی کے دوران بھاری پولیس فورس کے ساتھ 50 سے زائد بلڈوزر اور کھدائی کرنے والی مشینیں تعینات کی گئی تھیں۔ بعض دوسری میڈیا رپورٹس میں مشینوں کی تعداد تقریباً 60 بتائی گئی ہے۔ مشینوں کے ذریعے مکانات، بیت الخلا اور دیگر تعمیرات کو زمین بوس کردیا گیا۔مقامی باشندوں کے مطابق، کارروائی سے قبل متعدد خاندانوں نے اپنے مکانات کا سامان نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، جبکہ کئی لوگوں نے خود ہی اپنے گھروں کے کچھ حصے توڑ دیے تھے تاکہ ان کا قابل استعمال سامان بچایا جاسکے۔ اس کے باوجود جب بلڈوزر علاقے میں داخل ہوئے تو بڑی تعداد میں مکانات مکمل طور پر منہدم ہوگئے۔ گھروں کو اجڑتے دیکھ کر خواتین اور بچے زار و قطار روتے رہے۔ بعض خواتین کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق، عالم گنج اور اس کے اطراف میں مجموعی طور پر تقریباً 800 بیگھہ سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی تھی، جس پر مبینہ طور پر غیر قانونی قبضہ کرکے رہائشی بستیاں آباد کی گئی تھیں۔ انتظامیہ نے اس زمین پر رہنے والے خاندانوں کو بے دخلی کے نوٹس جاری کیے تھے۔دھوبڑی کے ضلع کمشنر دیباکر ناتھ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 800 بیگھہ زمین خالی کرانے کا منصوبہ تھا، لیکن تقریباً 150 بیگھہ زمین سے متعلق مقدمات گوہاٹی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہونے کی وجہ سے وہاں فی الحال کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے بعد باقی تقریباً 650 بیگھہ زمین پر انہدامی کارروائی مکمل کی گئی۔انتظامیہ کے مطابق، کارروائی کے دائرے میں آنے والے تقریباً 80 فیصد خاندان پہلے ہی اپنے مکانات خالی کرکے سامان منتقل کرچکے تھے۔ تاہم متعدد خاندانوں نے عدالتی راحت حاصل کرنے کے لیے مقدمات دائر کیے ہیں۔ ان معاملات پر عدالت کے فیصلے کے بعد ہی باقی زمین سے متعلق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

اس انہدامی مہم کا سب سے حساس پہلو مذہبی مقامات سے متعلق ہے۔ کارروائی کے دوران مسجد کے قریب لوگ دعائیں کرتے اور روتے ہوئے نظر آئے۔ مزار اور قبرستان کے اطراف بھی جذباتی مناظر سامنے آئے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں مسجدوں اور دیگر مذہبی مقامات کو بھی انہدامی کارروائی کی زد میں آنے کی اطلاع دی گئی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، کارروائی کے دوران مسجدوں، عبادت گاہوں اور قبرستانوں کے اطراف بھی انہدامی کارروائی ہوئی اور مقامی لوگوں نے نعرے لگائے۔ دوسری جانب دی سینٹینل آسام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی کمیٹی کی درخواست پر ایک مزار اور اس سے متصل قبرستان کو فی الحال منہدم کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ مزار کے قریب ایک گاڑی ٹکرانے کے واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا، جس کے بعد انتظامیہ نے کمیٹی کے اراکین سے بات چیت کی۔اس طرح مذہبی مقامات کے حوالے سے مختلف رپورٹوں میں تفصیلات الگ الگ ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ انہدامی کارروائی کے دوران مسجد، مزار اور قبرستان کے اطراف شدید جذباتی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔

انتظامیہ کی کارروائی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں حال ہی میں آباد نہیں ہوئے بلکہ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بزرگوں نے دریائے برہم پتر کے سیلاب اور کٹاؤ کے باعث اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کی تھی اور بعد میں عالم گنج میں رہائش اختیار کی تھی۔اس سلسلے میں 80 سالہ علی چند فقیر کا معاملہ خاص طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 1962 میں پڑوسی ضلع گوالپاڑہ سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ دریائے برہم پتر کے سیلاب اور زمین کے کٹاؤ نے ان کے خاندان کو آبائی علاقے سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اسی علاقے میں زندگی گزار رہے تھے۔علی چند فقیر کے مطابق، بلڈوزر نے ان کے تین مکانات کے علاوہ درختوں، بیت الخلا اور دیگر تعمیرات کو بھی تباہ کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے کئی خاندانوں کے پاس زمین کا محصول ادا کرنے کی رسیدیں موجود ہیں، جو 1972 سے 2016 تک کی ہیں۔ یہ رسیدیں توزی نظام کے تحت زمین کے محصول کی ادائیگی سے متعلق بتائی گئی ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس زمین سے متعلق دستاویزات اور محصول کی رسیدیں موجود ہیں تو ان کے دعوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق، کئی خاندانوں نے اپنی زندگی کی پوری جمع پونجی مکان بنانے میں لگا دی تھی، لیکن ایک ہی دن میں ان کی برسوں کی محنت ملبے میں تبدیل ہوگئی۔دوسری جانب ضلع انتظامیہ نے اس کارروائی کو سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کی مہم قرار دیا ہے۔ ضلع کمشنر دیباکر ناتھ کے مطابق، زمین کی نشاندہی، نوٹس جاری کرنے، متعلقہ افراد کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے اور ان کے دستاویزات کی جانچ کے بعد بے دخلی کا عمل شروع کیا گیا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زمین پر رہنے والے افراد کو پہلے نوٹس دیے گئے تھے اور انہیں اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے وقت فراہم کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق، سماعت کے بعد جن معاملات میں قبضہ غیر قانونی پایا گیا، ان میں تحریری احکامات جاری کیے گئے اور مکانات خالی کرنے کے لیے تقریباً ایک ماہ کا وقت دیا گیا۔ضلع کمشنر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض خاندان پانچ سال پہلے اور بعض تقریباً دس سال پہلے یہاں آباد ہوئے تھے اور زیادہ تر متاثرہ افراد کے پاس دوسری جگہ بھی زمین موجود ہے۔ تاہم مقامی باشندوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے خاندانوں کے پاس رہنے کے لیے کوئی دوسری زمین نہیں ہے۔

اس کارروائی کے پیچھے انتظامیہ نے صنعتی ترقی کے منصوبے کو بھی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔ ضلع کمشنر دیباکر ناتھ کے مطابق، محکمہ صنعت گزشتہ تقریباً دو برسوں سے اس علاقے میں صنعتی پارک قائم کرنے کے لیے زمین تلاش کررہا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ خالی کرائی گئی تقریباً 650 بیگھہ زمین محکمہ صنعت کے حوالے کی جائے گی، تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کرے گی۔اس منصوبے کے تحت علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ترقیاتی کاموں کے امکانات تلاش کیے جارہے ہیں۔ تاہم متاثرین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ صنعتی ترقی کے نام پر ہزاروں لوگوں کو بے گھر کرنے کے بعد ان کی رہائش اور مستقبل کا کیا انتظام ہوگا؟

مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے زمین دوز کردیا گیاہیمنتا وسوا سرکار نے نفرت سے کارروائی کررہی ہے

بے دخلی کے بعد متاثرہ خاندانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا ہے۔ کئی خاندان رشتہ داروں کے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض نے سڑکوں کے کنارے ترپال ڈال کر عارضی جھونپڑیاں بنالی ہیں۔ کچھ خاندان نشیبی دریائی علاقوں اور چار (دریائی ٹاپو) میں بھی پناہ لے رہے ہیں۔دی سینٹینل آسام کی رپورٹ کے مطابق، ضلع انتظامیہ نے مکمل طور پر بے زمین ہوجانے والے خاندانوں کے لیے دو مقامات، بویجر الگہ اور چراکھوا، کی نشاندہی عارضی پناہ گاہوں کے طور پر کی ہے۔تاہم ضلع کمشنر نے واضح کیا ہے کہ یہ انتظام مستقل بازآبادکاری یا زمین کے بدلے زمین دینے کے مترادف نہیں ہوگا۔ یعنی متاثرین کو فی الحال عارضی طور پر پناہ فراہم کرنے کا امکان ہے، لیکن ان کی مستقل رہائش کا سوال اب بھی حل طلب ہے۔متاثرین کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی زیادہ پریشان کن ہے کہ سردی کا موسم شروع ہونے والا ہے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے کھلے آسمان تلے رہنا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

دھوبڑی کی کارروائی کو آسام میں جاری وسیع تر بے دخلی مہم کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ اس سے تقریباً دو ہفتے قبل ریاست کے ناگاؤں، ہوجائی اور گولاگھاٹ اضلاع میں دو روزہ کارروائی کے دوران 1100 سے زائد مسلم خاندانوں کو بے دخل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔اسکرول کی ریاستی محکمہ مال و آفات کے انتظام اور ضلعی حکام کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق، آسام میں گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 19 ہزار خاندانوں کو سرکاری زمین سے بے دخل کیا جاچکا ہے۔ رپورٹ میں ان خاندانوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل بتائی گئی ہے۔ان کارروائیوں کے حوالے سے زمین کی ملکیت، قانونی دستاویزات، شہری حقوق، مذہبی مقامات کے تحفظ اور بے دخل ہونے والے خاندانوں کی بازآبادکاری جیسے سوالات مسلسل اٹھ رہے ہیں۔

دھوبڑی میں بے دخلی کی کارروائی کے بعد اب متاثرہ خاندانوں کی نظریں گوہاٹی ہائی کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ باقی تقریباً 150 بیگھہ زمین سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 13 نومبر 2026 کو مقرر ہے۔ضلع کمشنر کے مطابق، جن خاندانوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے، ان کے معاملات میں انتظامیہ عدالتی ہدایات کے مطابق ہی آگے بڑھے گی۔ عدالت میں زیر التوا مقدمات کے سلسلے میں انتظامیہ اپنا حلف نامہ بھی داخل کرے گی۔تاہم 650 بیگھہ زمین پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد پہلے ہی 4 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ ایسے میں متاثرین کے لیے صرف قانونی فیصلے کا انتظار کافی نہیں، بلکہ انہیں فوری رہائش، خوراک، بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی درکار ہے۔

زیا صاحب

ایڈیٹر ان چیف

مزید خبریں