مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR

تمام 38 اضلاع کے 629 اسکولوں میں مٹی جانچ لیبارٹریاں قائم ہوں گی

زیا صاحب4 منٹ کی پڑھائی

خریف موسم کے دوران ریاست بھر میں 7,275 کسان میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 6,19,436 کسانوں نے شرکت کی۔ ان میں 2,12,610 خواتین کسان بھی شامل تھیں۔ کسانوں کی یہ وسیع شرکت کھیتوں کے تحفظ اور مٹی کی صحت کے تئیں بڑھتی ہوئی بیداری کا ثبوت ہے۔

پٹنہ، 2 نومبر: (اے بی این )بہار میں کھیتوں کی زرخیزی برقرار رکھنے، مٹی کی صحت کے تحفظ اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے ’کھیت بچاؤ مہم‘ کو عوامی تحریک کی شکل دینے کی پہل شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں سارن ضلع میں منعقدہ ’کھیت بچاؤ مہم و زرعی عوامی فلاح و بہبود مکالمہ‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے کہا کہ کسانوں کی خوشحالی، زمین کی زرخیزی اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کی صحت براہ راست مٹی کی صحت سے وابستہ ہے۔ جس زمین میں ہم اناج پیدا کرتے ہیں، اگر وہی زمین صحت مند اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوگی، تبھی ہمیں صاف ستھری اور غذائیت سے بھرپور غذا حاصل ہوگی اور ہمارا خاندان صحت مند و محفوظ رہ سکے گا۔ اس لیے کھیتوں اور مٹی کا تحفظ صرف کسانوں کا نہیں بلکہ پورے سماج کا مشترکہ فریضہ ہے۔وزیر زراعت نے بتایا کہ کسانوں کو مٹی کے معیار اور اس میں موجود غذائی اجزا کی درست معلومات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد سے ریاست کے تمام ہائی اسکولوں میں مٹی جانچ کی تجربہ گاہیں قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ طلبہ ابتدائی تعلیمی مرحلے ہی سے مٹی کی صحت اور سائنسی طریقۂ کاشتکاری کی اہمیت سے واقف ہو سکیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران بہار کے تمام 38 اضلاع کے 629 پی ایم شری اور سرکاری اسکولوں میں چھوٹی مٹی جانچ تجربہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔ اس سے طلبہ سائنسی طریقے سے مٹی کے معیار کو سمجھ سکیں گے اور اس کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھی متحرک ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سمت میں پہلے ہی 160 پی ایم شری ہائی اسکولوں میں ایسی تجربہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں۔وجے کمار سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق ’کھیت بچاؤ مہم‘ کا بنیادی مقصد زمین کی زرخیزی کو محفوظ رکھنا، قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینا اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند مٹی اور خوشحال زراعت کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔خریف موسم میں 7,275 کسان میٹنگیں، 6.19 لاکھ سے زائد کسانوں کی شرکتوزیر زراعت نے بتایا کہ اس مہم کی کامیابی کسانوں کی فعال شرکت اور عوامی بیداری پر منحصر ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ گزشتہ خریف موسم کے دوران ریاست بھر میں 7,275 کسان میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 6,19,436 کسانوں نے شرکت کی۔ ان میں 2,12,610 خواتین کسان بھی شامل تھیں۔ کسانوں کی یہ وسیع شرکت کھیتوں کے تحفظ اور مٹی کی صحت کے تئیں بڑھتی ہوئی بیداری کا ثبوت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ربیع موسم 2026-27 کے دوران اس مہم کو ریاست کے تمام 534 بلاکوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہر بلاک کی کم از کم دو پنچایتوں میں خصوصی کسان بیداری کیمپ لگائے جائیں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مہم کے ذریعے 15 سے 16 لاکھ کسانوں تک براہ راست رسائی حاصل کرکے انہیں مٹی کی صحت، کھیتوں کی زرخیزی اور پائیدار زرعی طریقوں کے بارے میں بیدار کیا جائے۔19 اہم موضوعات پر کسانوں سے براہ راست مکالمہپروگرام کے دوران وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے بیج، کیڑے مار ادویات، مٹی کی جانچ، کھاد اور زراعت سے متعلق مجموعی طور پر 19 اہم موضوعات پر کسانوں سے براہ راست گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے کسانوں کے مسائل، تجاویز اور توقعات کو سنجیدگی سے سنا اور ان کے فوری حل اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دیں۔اس موقع پر وزیر زراعت نے محکمہ زراعت کی جانب سے لگائی گئی نمائش کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے مختلف زرعی اسکیموں، جدید زرعی تکنیکوں، جدید زرعی آلات، معیاری بیجوں اور قدرتی کاشتکاری سے متعلق نئی اختراعات کا جائزہ لیا۔عوامی نمائندوں کی بھی بھرپور شرکت’کھیت بچاؤ مہم‘ کو عوامی تحریک کی شکل دینے اور اس کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے کے مقصد سے متعدد عوامی نمائندوں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ جناردن سنگھ سیگریوال، رکن اسمبلی چھوٹی کماری، جنک سنگھ، رندھیر کمار سنگھ، منورنجن سنگھ عرف دھومل سنگھ اور رکن قانون ساز کونسل سچیدانند رائے سمیت کئی عوامی نمائندے موجود تھے۔ تمام نمائندوں نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ، کھیتوں کی زرخیزی برقرار رکھنے اور زراعت کی پائیدار ترقی کے لیے عوامی شراکت داری کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیر زراعت نے کہا کہ کھیتوں اور مٹی کا تحفظ مستقبل کی نسلوں کی غذائی سلامتی اور زرعی خوشحالی سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے کسانوں، طلبہ اور عام شہریوں کی مشترکہ کوششوں سے اس مہم کو ایک وسیع عوامی تحریک بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

زیا صاحب

ایڈیٹر ان چیف

مزید خبریں