مواد پر جائیں
AWAZ E BIHAR

نوجوان نسل کو نشے سے بچانا ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت، ’نشہ چھوڑیں، زندگی جوڑیں‘ مہم کو مؤثر بنانے پر زور

زیا صاحب7 منٹ کی پڑھائی

ریاستی حکومت معذور افراد کی فلاح و بہبود اور خودمختاری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ اور زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے متعلقہ قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ معذور افراد کے لیے رکاوٹوں سے پاک ماحول کی تعمیر کے مقصد سے معذور افراد کے حقوق کے قانون 2016 کے باب آٹھ کی دفعات 40 سے 46 کے تحت مختلف سرکاری عمارتوں اور احاطوں کو قابل رسائی بنایا گیا ہے۔

پٹنہ، 2 نومبر:(اے بی این ) نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے محفوظ رکھنے، نشہ مخالف مہم کو عوامی تحریک بنانے اور متاثرہ افراد کے علاج و بازآبادکاری کے نظام کو مضبوط کرنے کے مقصد سے محکمہ سماجی بہبود، بہار حکومت کے زیر اہتمام دراسرتھ مانجھی آڈیٹوریم، پٹنہ میں ’’نشہ چھوڑیں، زندگی جوڑیں‘‘ کے موضوع پر ریاستی سطح کی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ کا افتتاح محکمہ سماجی بہبود کے سکریٹری ونود سنگھ گنجیال نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ وہ ملک اور سماج کے لیے پریشانی کا سبب بنے۔ نشہ مکت بھارت ابھیان کے مقاصد کو بہار کی زمینی حقیقتوں کے مطابق نافذ کرنا اور اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ نشہ آج قومی سطح کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف نوجوانوں بلکہ ان کے خاندانوں اور پورے سماج پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس ورکشاپ میں بنیادی طور پر تین اہم موضوعات، یعنی نشہ مکت بھارت ابھیان، ابتدائی مداخلت کے ذریعے معذوری کے بوجھ میں کمی اور ’سگمیہ بھارت ابھیان‘ (قابل رسائی ہندوستان مہم) پر تبادلۂ خیال کیا جانا ہے۔ ورکشاپ سے حاصل ہونے والی تجاویز اور آرا مرکزی حکومت کو بھیجی جائیں گی، تاکہ قومی سطح پر ایک مؤثر پالیسی تیار کی جا سکے۔اس موقع پر ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی منیجنگ ڈائریکٹر عنایت خان، ڈائریکٹر سماجی تحفظ ڈاکٹر پریتی اور ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلیٹیز انجلی شرما بھی موجود تھیں۔نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت علاج اور بازآبادکاری پر توجہورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سماجی تحفظ ڈاکٹر پریتی نے نشہ مکت بھارت ابھیان کی پیش رفت اور اس کے تحت جاری سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کا مفہوم صرف بزرگوں، معذور افراد اور بیواؤں کو پنشن فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو ان سنگین خطرات سے محفوظ رکھنا بھی اس کی ذمہ داری ہے، جو ان کی زندگی اور خاندان کو تباہ کر سکتے ہیں۔ آج نشے کی لت نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب خاندان کا کوئی نوجوان یا کمانے والا فرد نشے کی گرفت میں آجاتا ہے تو پورا خاندان معاشی اور ذہنی پریشانیوں سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے این اے پی ڈی ڈی آر (NAPDDR) اور نشہ مکت بھارت ابھیان (NMBA) کے ذریعے ایک طرف نشے کی روک تھام کے لیے بیداری مہم چلائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف نشے سے متاثرہ افراد کے علاج اور بازآبادکاری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر پریتی نے ضلعی دفاتر میں جاری بیداری پروگراموں کی باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نشہ مخالف پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرنے کے لیے نکڑ ناٹک، کلا جتھا، ڈیجیٹل ذرائع، ای پلیج اور آف لائن حلف برداری جیسی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ ان پروگراموں کے تشہیری اور بیداری کے کاموں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں فی الحال 13 نشہ چھڑانے کے مراکز کام کر رہے ہیں، جنہیں مرکزی وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ان مراکز کی نگرانی ریاستی سطح کی رابطہ ایجنسی (ایس ایل سی اے) کرتی ہے، جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے مالی امداد براہ راست متعلقہ این جی اوز کو فراہم کی جاتی ہے۔ڈاکٹر پریتی نے مزید بتایا کہ نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور باقاعدہ جائزہ و نگرانی کے لیے چیف سکریٹری بہار کی صدارت میں ریاستی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں ضلعی کمیٹی اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر کی صدارت میں بلاک سطح کی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

انہوں نے ورکشاپ میں شریک افسران سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر مکمل طور پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔44,755 عمارتیں معذور افراد کے لیے قابل رسائی بنائی گئیںورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلیٹیز انجلی شرما نے کہا کہ ریاستی حکومت معذور افراد کی فلاح و بہبود اور خودمختاری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ اور زندگی کے ہر شعبے میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے متعلقہ قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ معذور افراد کے لیے رکاوٹوں سے پاک ماحول کی تعمیر کے مقصد سے معذور افراد کے حقوق کے قانون 2016 کے باب آٹھ کی دفعات 40 سے 46 کے تحت مختلف سرکاری عمارتوں اور احاطوں کو قابل رسائی بنایا گیا ہے۔

مرکزی حکومت کی سیپڈا (SIPDA) اسکیم کے تحت بہار اسٹیٹ ایجوکیشنل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے 18 اور محکمہ تعمیراتِ عمارت نے تین سرکاری تعلیمی عمارتوں میں رکاوٹوں سے پاک سہولتیں فراہم کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک ریاست میں تقریباً 44,755 عمارتوں کو معذور افراد کے لیے قابل رسائی بنایا جا چکا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ نظام اور ویب پورٹلز کو بھی قابل رسائی بنانے کی سمت میں اقدامات کیے گئے ہیں اور اب تک 45 ویب سائٹس کو معذور افراد کے استعمال کے لیے موزوں بنایا جا چکا ہے۔انجلی شرما نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے خصوصی ضروریات والے بچوں اور طلبہ کو جامع اور آسان تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بریل مطبوعہ مواد، بریلر سلیٹ، اباکس اور ٹیلر فریم جیسے معاون تعلیمی آلات فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر قابل رسائی سہولتوں کی صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں 2025 اور 2026 کے دوران ریاست کے مختلف اہم عوامی مقامات کا ’یس ٹو ایکسس ایپ‘ کے ذریعے رسائی سے متعلق آڈٹ کیا گیا۔تمام 101 سب ڈویژنوں کے بنیاد مراکز کے ذریعے بچوں کو ابتدائی طبی و ترقیاتی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہانہوں نے مزید بتایا کہ ریاست میں ضلع سطح کے ابتدائی مداخلت مراکز (ڈسٹرکٹ ارلی انٹروینشن سینٹر) کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے معذور اور نشوونما میں تاخیر کے شکار بچوں کو مطلوبہ سہولتیں حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ سماجی بہبود کے تحت ریاست کے تمام 101 سب ڈویژنوں میں چلنے والے بنیاد مراکز کے ذریعے ضرورت مند بچوں کو ابتدائی مداخلت کی خدمات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ماہرین نے مختلف موضوعات پر پیش کیں تجاویزورکشاپ میں شریک افسران اور شرکا کو مختلف موضوعات پر ماہرین نے تفصیلی معلومات اور پریزنٹیشن کے ذریعے رہنمائی فراہم کی۔ ان میں ڈاکٹر شمبھو، ایمس پٹنہ، ڈاکٹر اوما شنکر سنہا، ڈاکٹر اشوک کمار سنہا، بی کے اسنیہ راج (برہما کماریز، پٹنہ)، سنجے کمار (دیویہ جیوتی، پٹنہ)، نمیتا (آرٹ آف لیونگ، پٹنہ) اور فضل ربانی صدیقی (سکم) شامل تھے۔اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف سوشل سکیورٹی، ڈائریکٹوریٹ آف امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلیٹیز اور سکم کے افسران و ملازمین بھی موجود تھے۔ آخر میں ڈپٹی ڈائریکٹر سماجی تحفظ گایتری کماری نے اظہار تشکر کیا۔نشہ مکت بھارت کا عہدورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت عہد کیا کہ نوجوان کسی بھی ملک کی توانائی اور طاقت کی علامت ہوتے ہیں اور سماج و ملک کی ترقی میں ان کا اہم کردار ہے۔ اس لیے وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کو بھی نشے سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنے ضلع، ریاست اور ملک کو نشے سے پاک بنانے میں اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔ ان کا عزم تھا کہ نشے کے خلاف اس جدوجہد کو عوامی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

زیا صاحب

ایڈیٹر ان چیف

مزید خبریں