آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
Awaz E Bihar
••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
صنعا :یمن میں فوجی اور سیاسی صورتحال میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ لڑائی کا رخ حوثیوں کی صلاحیتوں کو محدود کرنے سے بدل کر ان کی طاقت کے اہم مراکز اور تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنانے کی جانب ہو گیا ہے۔ دوسری جانب قانونی حکومت کی افواج نے اہم تزویراتی مقامات دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اتحادی افواج نے میزائل داغنے والے پلیٹ فارمز اور ان کے گوداموں پر حملے جاری رکھے ہیں۔یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی بغاوت ختم کرنے ریاستی اداروں کی بحالی اور دارالحکومت صنعاء کو آزاد کرانے کے مقصد سے فوجی آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کو اطلاعات میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک روز قبل ہونے والے حوثی حملے کے بعض متأثرین کی شناخت ظاہر ہو گئی۔ حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک شدگان میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی اور امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل تھا۔ان میں 28 سالہ مصری فلائٹ اٹینڈنٹ عزۃ رمزی محمد حسن بھی شامل تھیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ سعودی عرب کی ایک ایئرلائن کے لیے کام کرتی تھیں اور شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔اطلاعات کے مطابق ریاض میں مصری سفارت خانہ اور قونصل جنرل ان کی میت مصر واپس بھیجنے کے لیے ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصری سفارتی مشن حملے میں زخمی ہونے والے دیگر مصری شہریوں کی حالت سے بھی باخبر ہے۔علاوہ ازیں اردن کے شہری محمد حسین البرقاوی کی بھی حملے کے ایک اور متأثرہ شخص کے طور پر شناخت کی گئی۔اردن کی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ حملے میں اردن کے چار دیگر شہری بھی زخمی ہوئے۔ نیز کہا ہے کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ مل کر ان کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اتوار کو بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک تھی۔سعودی زیرِ قیادت اتحاد نے اتوار کو کہا، ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملہ "جنگی جرم" کے زمرے میں آتا ہے اور اس حملے کا فیصلہ کن جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ یمن میں فوجی اور سیاسی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں جاری ہیں اور جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں اضافے کے ساتھ حوثیوں کی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے بجائے ان کے اہم طاقت کے مراکز اور تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔قانونی حکومت کی افواج نے متعدد اہم تزویراتی مقامات دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اتحادی افواج کی جانب سے میزائل داغنے والے پلیٹ فارمز اور ان کے ذخائر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی بغاوت کے خاتمے، ریاستی اداروں کی بحالی اور دارالحکومت صنعاء کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانے کے مقصد سے فوجی آپریشن فجر الیمن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔حالیہ کارروائیوں میں حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں، میزائل تنصیبات اور ان کے اہم مراکز کو نشانہ بنائے جانے سے یمن میں جاری تنازع مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔