غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
Awaz E Bihar••8 ویوز•5 منٹ پڑھیں
گوگل میپس کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً تین سال بعد ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کی واضح تصویر پیش کی ہے۔ ایک کے بعد ایک پورے محلے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بیشتر مقامات پر صرف اہم سڑکوں کے مدھم نقوش باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اب غزہ کے ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں جھلس چکی ہیں، جبکہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں بھی نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا منظرنامے سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (یو این او ایس اے ٹی) کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ دو لاکھ عمارتیں، نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔الجزیرہ نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس میں جنوبی علاقے رفح سے شمالی غزہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ رفح کی تصاویر رواں سال کی ہیں، جبکہ شمالی غزہ کی تصاویر 2025 اور 2024 کی ہیں۔ غزہ کا سب سے جنوبی شہر رفح غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا پناہ گاہ بن گیا تھا، تاہم مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ان میں سے بیشتر پہلے ہی متعدد بار بے گھر ہو چکے تھے۔ انہیں رفح کے شمال میں واقع خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی جانب منتقل ہونا پڑا، جبکہ رفح میں انروا کے پناہ گزین مراکز بھی خالی کرا لیے گئے۔مغربی رفح کا کبھی گنجان آباد رہنے والا تل السلطان محلہ تقریباً مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان مقامات پر جہاں کبھی مکانات موجود تھے، اب بیشتر جگہ صرف ریت دکھائی دیتی ہے۔ المواصی کبھی رفح اور خان یونس گورنریٹس کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی نسبتاً کم آبادی والی ریتلی اور زرعی پٹی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسے انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ قرار دیا تھا اور بے گھر فلسطینیوں سے وہاں پناہ لینے کو کہا تھا۔ مئی 2024 میں جب اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا، اگر وہ رفح میں داخل ہوئے تو... میں انہیں ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہوں۔ اس کے باوجود اسرائیل نے کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں افراد المواصی منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے پر متعدد بار بمباری کی ہے۔تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں کبھی تقریباً خالی نظر آنے والا یہ علاقہ اب خیموں سے بھرا ہوا ہے، جہاں ایسے خاندان بڑی تعداد میں مقیم ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے کے مطابق خان یونس گورنریٹ میں غزہ کے کسی بھی گورنریٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ عمارتیں، یعنی 51,885، نقصان کا شکار ہوئی تھیں۔یہ گورنریٹ غزہ کے اہم زرعی مراکز میں بھی شمار ہوتا تھا اور خان یونس میں غزہ کی پٹی کے اندر تباہ شدہ زرعی اراضی کا سب سے بڑا مجموعی رقبہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔خان یونس کے علاقے معان میں واقع انڈونیشین استقلال مسجد بھی جنگ کے دوران تباہ ہو گئی۔ اسے جنگ شروع ہونے سے دو سال سے بھی کم عرصہ قبل دوبارہ کھولا گیا تھا۔یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے میں غزہ گورنریٹ 51,530 تباہ شدہ عمارتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا، جن میں سے 41,663 عمارتیں صرف غزہ سٹی میں تھیں۔غزہ سٹی کی بندرگاہ بھی بدترین متاثر ہونے والے مقامات میں شامل ہے۔ یہ بندرگاہ ماہی گیری کی اس صنعت کا مرکز تھی جس سے کبھی تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد کا روزگار وابستہ تھا۔اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے مطابق بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ماہی گیری کی بیشتر کشتیاں تباہ ہو چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق جولائی 2025 تک شمالی غزہ گورنریٹ کی 94 فیصد زرعی اراضی نقصان کا شکار ہو چکی تھی، جو پوری غزہ پٹی میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ جنگ کے دوران بیت لاہیا، جبالیہ اور شمالی غزہ کی دیگر آبادیوں کو بار بار اسرائیلی فوجی کارروائیوں، جبری بے دخلی اور انسانی امداد کی فراہمی پر شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔جبالیہ پناہ گزین کیمپ، جو غزہ کے آٹھ کیمپوں میں سب سے بڑا ہے، بھی تباہ ہو چکا ہے اور سیٹلائٹ تصاویر میں پورے پورے بلاکس کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل دیکھا جا سکتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ملبے تلے اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے لاپتا ہونے کے باعث حقیقی ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے بھی 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً 5,000 زخمی ہو چکے ہیں۔