بہار میں صنعتی ترقی کا بڑا منصوبہ، پانچ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 8 اکتوبر:(اے بی این ) بہار میں خود روزگار اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے بدھ کو باپو سبھاگار میں وزیراعلیٰ ادیمی یوجنا کے تحت منتخب مستفیدین کے تعارفی پروگرام اور مالی امداد کی تقسیم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پہلی، دوسری اور تیسری قسط کے تحت 7 ہزار سے زائد مستفیدین کے بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی گئی، جبکہ ریاست کے تمام اضلاع میں ایم ایس ایم ای مراکز کا بھی افتتاح کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا ہدف بہار کے ایک کروڑ خاندانوں کو کاروبار سے جوڑ کر معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ ادیمی یوجنا کے تحت 45 ہزار کاروباری افراد تیار کیے جا رہے ہیں، جن پر ریاستی حکومت 3,500 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس اسکیم میں خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں، درج فہرست ذات و قبائل اور انتہائی پسماندہ طبقات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پی پی پی ماڈل کے تحت پانچ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں صنعتوں کے لیے 20 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب کرانے کی سمت میں بھی کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بہار کے نوجوان روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاست میں تیار ہونے والی مصنوعات کو سرکاری خریداری میں ترجیح دینے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم، سڑک، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ دیہی سڑکوں کے علاوہ ہائی ویز اور ایکسپریس ویز کے نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ پٹنہ میٹرو منصوبے کو بھی عملی شکل دی جا رہی ہے۔تعلیم کے شعبے میں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں 700 مقامات پر سرسوتی ودیا نکیتن ماڈل اسکول قائم کیے گئے ہیں، جہاں طلبہ کو نیٹ (NEET) اور جے ای ای (JEE) جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کی سہولت ملے گی۔ ’ودھیارتھی ساتھی‘ ایپ کے ذریعے طلبہ کو ہفتے کے ساتوں دن، 24 گھنٹے آن لائن ٹیوٹر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں 211 ڈگری کالج قائم کیے جا چکے ہیں اور اگلے سال سے ان میں سائنس کی تعلیم شروع کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔سیاحت کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں ریاست کے 20 اہم مقامات پر روپ وے تعمیر کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔ مرین ڈرائیو سے سون پور کے درمیان روپ وے کی تعمیر کے لیے ایک نجی کمپنی نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے میں بجلی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے آئندہ ایک سال میں تمام زرعی فیڈروں کو 100 فیصد شمسی توانائی سے جوڑنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سمراٹ چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایم ایس ایم ای شعبے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے، جس میں سے کم از کم دسواں حصہ بہار کو ملنے کی امید ہے۔ اس سے ریاست میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے اس تعاون کے لیے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بہار میں صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ آئندہ پانچ برسوں میں صنعتوں کے لیے 20 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب کرانے کی سمت میں کام کیا جائے گا، تاکہ سرمایہ کاروں کو بہتر بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بہار میں تیار ہونے والی مصنوعات کو سرکاری خریداری میں ترجیح دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پرچیز پریفرنس ایکٹ کے تحت ریاست میں تیار ہونے والی اشیاء کی 25 سے 40 فیصد تک سرکاری خریداری کا ہدف ہے۔ اس اقدام سے مقامی صنعت کاروں کو بازار دستیاب ہونے اور ان کی مصنوعات کی مانگ بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تقریب میں بہار ایم ایس ایم ای پالیسی 2026 سمیت مختلف صنعتی پالیسیوں اور اسکیموں سے متعلق کتابچوں کا اجرا بھی کیا گیا۔