بیلٹرون کے 20 ہزار سے زائد ملازمین ریاستی ملازم کا درجہ پانے کیلئے جدوجہد جاری
Awaz E Bihar
••2 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 4 اکتوبر:(اے بی این) بہار اسٹیٹ ڈیٹا انٹری آپریٹر جوائنٹ فرنٹ کے زیرِ اہتمام اتوار کو بہار انڈسٹریز ایسوسی ایشن (BIA)، چھجو باغ، پٹنہ کے آڈیٹوریم میں ریاستی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیلٹرون کے ذریعے مختلف زمروں میں تعینات ڈیٹا انٹری آپریٹر، پروگرامر، اسٹینوگرافر اور آئی ٹی بوائے/گرل سمیت تقریباً 20 ہزار سے زائد ملازمین نے شرکت کی۔ فرنٹ کے مطابق یہ ملازمین گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے سے مختلف سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اجلاس میں ملازمین نے ریاستی حکومت کے تئیں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ریاستی ملازم کا درجہ دینے اور پے اسکیل نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔فرنٹ کے سرپرست چندر پرکاش سنگھ نے کہا کہ بیلٹرون ملازمین نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت ریاستی حکومت کی خدمت میں صرف کیا ہے۔ اب ان میں سے بیشتر ملازمین عمر کی مقررہ حد بھی عبور کرچکے ہیں، اس لیے حکومت کو انسانی اور پالیسی بنیادوں پر انہیں ریاستی ملازم کا درجہ دیتے ہوئے پے اسکیل کا فائدہ دینا چاہیے۔ جوائنٹ فرنٹ کے رکن اشوک کمار یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت 1997 سے مسلسل ان ملازمین کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 29 برسوں کے دوران سیکڑوں ملازمین ریٹائر بھی ہوچکے ہیں، لیکن انہیں ریٹائرمنٹ سے متعلق کوئی مناسب فائدہ نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا کہ بیلٹرون ملازمین سرکاری دفاتر میں ٹائپنگ سے متعلق کام کے ساتھ ساتھ آن لائن خدمات سے وابستہ اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کام مستقل نوعیت کا ہونے کے باوجود انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کی روشنی میں جلد پالیسی فیصلہ کیا جائے۔ جوائنٹ فرنٹ کے رکن وشال کمار نے کہا کہ گزشتہ 29 برسوں سے بیلٹرون ملازمین سے مسلسل کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام لیا جا رہا ہے، لیکن اب تک نہ مناسب سروس رول بنایا گیا اور نہ ہی ملازمین کو مکمل سروس سکیورٹی فراہم کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیلٹرون ملازمین کو جلد از جلد ریاستی ملازم کا درجہ دے کر پے اسکیل نافذ کیا جائے۔ بصورت دیگر جوائنٹ فرنٹ کی جانب سے ریاست گیر مرحلہ وار تحریک شروع کی جائے گی۔رکن نتیش جھا نے کہا کہ بیلٹرون ملازمین کی تقرری ریاستی حکومت کے کارپوریشن کے ذریعے باقاعدہ طریقے سے کی گئی اور تقرری کے عمل میں ریزرویشن روسٹر کی بھی پابندی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ عدالتی احکامات اور ایڈووکیٹ جنرل کی رائے کے باوجود ملازمین کے حق میں پالیسی فیصلہ نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے جلد فیصلہ نہیں لیا تو ملازمین سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوں گے۔ رگھونندن کمار نے کہا کہ بیلٹرون ملازمین کی ذمہ داریاں سرکاری محکموں میں انتہائی اہم ہیں اور وہ مسلسل اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن سروس سے متعلق بنیادی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔آئی ٹی پروگرامر بیجناتھ سنگھ یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت کے مختلف ڈیجیٹل اور آن لائن کاموں کی انجام دہی میں بیلٹرون ملازمین کا اہم کردار ہے، اس کے باوجود ان کی خدمات کا مستقل حل نہ ہونا افسوس ناک ہے۔انیل کمار سنگھ نے کہا کہ مسلسل خدمات کے باوجود ملازمین کی سروس کو باقاعدہ نہ کیا جانا بے حسی کی علامت ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ایک ماہ کے اندر حکومت نے پالیسی فیصلہ نہیں لیا تو جوائنٹ فرنٹ کی جانب سے کام کا بائیکاٹ شروع کیا جائے گا۔ خاتون اراکین محترمہ سنگیتا کماری، محترمہ ممتا کماری اور محترمہ سروچی کماری سمیت دیگر نے بیلٹرون ملازمین کا 10 فیصد سالانہ اضافہ روکے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سہولیات کو برقرار رکھتے ہوئے برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مسائل کا مثبت حل نکالا جائے اور انہیں ریاستی ملازم کا درجہ دیا جائے۔جوائنٹ فرنٹ کے رکن پریتوش کمار پانڈے نے کہا کہ اگر حکومت نے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مطالبات پر منصفانہ غور نہیں کیا تو بیلٹرون ملازمین سڑکوں پر اترنے کے ساتھ محکمہ اطلاعات و ٹیکنالوجی کے متعلقہ وزیر کے استعفے کا مطالبہ بھی کریں گے۔ اجلاس میں اضلاع سے آئے نیلیش کمار جھا، سنتوش کمار یادو، چترنجن چوہان، راماپتی، نرنجن کمار سنگھ، سمن سوربھ، لکشمن شرما، امیت پانڈے، دلیپ یادو، انجنی کمار، راہل کمار، نوین نرالا، اشوک کیسری، متھیلیش گپتا، اسلم حسین، دیو کرشن جھا، سنیل کمار مہتا، کوشل کمار سمیت دیگر اراکین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جوائنٹ فرنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان منیش کمار سنگھ، گڈو مشرا، انیل جھا، انوجے کمار سنگھ، رویندر کمار، سنجے کمار یادو، سنجیت کمار، انیل کمار دویدی، امیت کمار رنجن، دیپک کمار، سنی کمار، راجیو کمار جھا، منیش یادو، گجیندر کمار اور ابھیجیت آنند سمیت دیگر نے بھی حکومت سے جلد فیصلہ لینے کا مطالبہ کیا۔رابطہ کمیٹی کے ارکان نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر بیلٹرون ملازمین کو ریاستی ملازم کا درجہ اور پے اسکیل دینے کا اعلان نہیں کیا تو ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔