بیماری سے لڑنے کا سب سے بڑا ہتھیار بیداری ہے: گورنر
Awaz E Bihar
••2 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 4 اکتوبر:(اے بی این ) گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطاء حسنین نے کہا ہے کہ کسی بھی بیماری سے لڑنے کا سب سے بڑا ہتھیار عوامی بیداری ہے۔ کووڈ کے دوران بھی بیداری نے بیماری سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کی بروقت شناخت اور مناسب علاج سے مریض کو سنگین صورتحال سے بچایا جا سکتا ہے۔گورنر نے یہ بات مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ اور روٹری کلب پٹنہ ملینیم کے مشترکہ زیر اہتمام کینسر اور ٹی بی سے متعلق بیداری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام کا افتتاح بھی گورنر نے کیا۔ اس موقع پر شری مہاویر استھان نیاس سمیتی کے سکریٹری سیان کنال، اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایل بی سنگھ، روٹری کی انا نارنگ، راجیش کمار سمیت دیگر افراد موجود تھے۔گورنر نے کہا کہ مریضوں کا علاج کرتے وقت ذات، مذہب یا کسی بھی قسم کے امتیاز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں صرف ہندوستانی سمجھ کر خدمت کے جذبے سے علاج کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ غریب اور کینسر کے مریضوں کو کم خرچ میں بہتر طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جبکہ کینسر سے متاثرہ بچوں کے مفت علاج کا بھی انتظام ہے۔انہوں نے کہا کہ بیداری اور بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں متعدد مریضوں کی جان چلی جاتی ہے یا ان کی حالت انتہائی سنگین ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر خواتین میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے خصوصی بیداری کی ضرورت ہے۔ وقت پر جانچ اور بیماری کی تشخیص سے علاج کے امکانات بہتر ہوتے ہیں، اس لیے لوگوں کو اپنی صحت کے تئیں بیدار رہنا چاہیے اور وقتاً فوقتاً ضروری طبی جانچ کرانی چاہیے۔ مہاویر استھان نیاس سمیتی کے سکریٹری سیان کنال نے کہا کہ جب بہار کے بڑی تعداد میں کینسر مریض علاج کے لیے ریاست سے باہر جانے لگے تو ان کے والد آچاریہ کشور کنال نے ریاست کے مریضوں کی سہولت کے لیے مہاویر کینسر اسپتال قائم کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ کینسر سے متاثرہ بچوں کے لیے الگ سے 100 بستروں پر مشتمل اسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ کینسر اسپتال میں بھی مزید 100 بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی یہاں 800 بستروں کی سہولت دستیاب ہوجائے گی۔سیان کنال نے کہا کہ مہاویر مندر کی جانب سے اسپتال کے علاوہ بھی متعدد فلاحی خدمات مسلسل انجام دی جا رہی ہیں۔ ایودھیا میں رام رسوئی، سیتامڑھی میں سیتا رسوئی، گیا میں وشنو رسوئی اور مہاویر مندر میں مہاویر رسوئی کے ذریعے ضرورت مندوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایودھیا میں روزانہ تقریباً 10 سے 12 ہزار افراد کے لیے مفت کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کیتھولیا میں 120 ایکڑ رقبے پر دنیا کے سب سے بڑے ویرات رامائن مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے، جہاں 33 فٹ بلند شیولنگ بھی نصب کیا جا چکا ہے۔مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایل بی سنگھ نے کہا کہ ’’نر سیوا ہی نارائن سیوا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آچاریہ کشور کنال کے خدمات کے ورثے کو آگے بڑھانا آسان کام نہیں، تاہم مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ بہار کے کینسر مریضوں کے لیے امید کی ایک کرن بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسپتال کا قیام 12 دسمبر 1998 کو عمل میں آیا تھا اور تب سے اب تک لاکھوں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق کینسر ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً دو کروڑ افراد کینسر سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ ملک میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اور ان میں 9 سے 10 لاکھ مریضوں کی موت ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مستقبل میں تقریباً ہر نو افراد میں سے ایک فرد کے کینسر سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیداری کے ذریعے 30 سے 40 فیصد کینسر مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کینسر کے مریض ٹی بی اور ٹی بی کے مریض کینسر سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، اس لیے دونوں بیماریوں کے تئیں بیداری انتہائی ضروری ہے۔مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیش سنگھ نے کہا کہ کینسر جیسی سنگین بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کی صورت میں اسے مکمل طور پر قابو میں کیا جا سکتا ہے۔