آئی پی ایل ٹیموں کی اب خیر نہیں: بی سی سی آئی کی سرپرائز چیکنگ اور سخت ایکشن کی تیاری
Awaz E Bihar••9 ویوز•4 منٹ پڑھیں
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی چمک دمک اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے کمر کس لی ہے۔ بورڈ نے تمام فرنچائزز کو واضح کر دیا ہے کہ اب محض ہدایات جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی وقت 'اچانک چھاپے' مارے جا سکتے ہیں۔بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیوجیت سیکیا کی جانب سے فرنچائزز کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کی آپریشنز ٹیمیں کسی بھی وقت ٹیموں کے کیمپوں، ہوٹلوں اور سرگرمیوں کی جانچ کر سکتی ہیں۔ ٹیم منیجرز پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہوٹلوں میں آنے جانے والے تمام مہمانوں اور ان کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھیں۔ مراسلے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ"اگر ان ہدایات کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو فرنچائزز کو خود ہی اس کی اطلاع آئی پی ایل آپریشنز ٹیم کو دینی ہوگی۔ بی سی سی آئی کو امید ہے کہ تمام ٹیمیں ان اصولوں کو سنجیدگی سے لیں گی تاکہ ٹورنامنٹ کے وقار پر کوئی آنچ نہ آئے۔بی سی سی آئی نے صرف وارننگ ہی نہیں دی بلکہ قوانین توڑنے والوں کے لیے 'پانچ نکاتی عبرتناک سزاؤں کا خاکہ بھی پیش کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے فرد یا فرنچائز کو باضابطہ قانونی نوٹس جاری کیا جائے گا۔ آئی پی ایل قوانین کے تحت فرنچائز پر خطیر رقم کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ کھلاڑی، سپورٹ اسٹاف یا ٹیم آفیشل کو جاری سیزن یا مستقبل کے سیزن سے باہر کیا جا سکتا ہے۔ ممنوعہ ادویات کے استعمال، سیکیورٹی کی خلاف ورزی یا ہراسانی جیسے سنگین معاملات میں کیس پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔بورڈ کھیل کے مفاد میں کوئی بھی دوسرا سخت قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔سیکرٹری دیوجیت سیکیا کے دستخط شدہ سات صفحات پر مشتمل اس نوٹ میں فرنچائزز کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان ہدایات پر فوری عمل کریں، کیونکہ بورڈ کسی بھی وقت آڈٹ اور معائنہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس سے پہلے گوہاٹی میں، بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائکیا نے کہا کہ بنگلورو، جو موجودہ چیمپیئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا ہوم گراؤنڈ ہے، اسے اصل میں لیگ پروٹوکول کے تحت آئی پی ایل فائنل اور ایک پلے آف میچ کی میزبانی کرنی تھی۔ سائکیا نے صحافیوں کو بتایا کہ "شروع میں، معیاری پروٹوکول کے مطابق، موجودہ چیمپیئن کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر فائنل کے ساتھ ساتھ ایک پلے آف میچ کی میزبانی کرنے کا حق ہوتا ہے۔ آر سی بی، جو پچھلے سال کی چیمپیئن تھی، اسے مثالی طور پر یہ میچ بنگلورو میں ہی منعقد کرنے چاہیے تھے۔" تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ بی سی سی آئی نے وینیو پر دوبارہ غور کیا، جب اسے پتہ چلا کہ کے ایس سی اے نے آئی پی ایل قوانین کے تحت اجازت یافتہ 15 فیصد کوٹے سے کہیں زیادہ مفت ٹکٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "آئی پی ایل پروٹوکول کے مطابق، کل بیٹھنے کی گنجائش کا صرف 15 فیصد ہی میزبان ایسوسی ایشن کو مفت ٹکٹوں کی شکل میں الاٹ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں اطلاع ملی کہ کرناٹک ایسوسی ایشن مقررہ حد سے کہیں زیادہ ٹکٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔" سائکیا نے مزید الزام لگایا کہ بی سی سی آئی کے سوالوں کے جواب میں، کے ایس سی اے نے ممبران، ملحقہ کلبوں، ایم ایل ایز، ایم ایل سیز اور دیگر لوگوں کے لیے لازمی کوٹے کے علاوہ، تقریباً 10,000 اضافی ٹکٹوں کا مطالبہ کیا، جس میں کرناٹک حکومت کے لیے تقریباً 700 کامپلیمنٹری پاس بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اس جواب سے حیران تھے۔ عام الاٹمنٹ کے علاوہ، انہوں نے مختلف زمروں کے لیے ایک بڑا اضافی کوٹہ مانگا، جس میں منتخب نمائندے اور سرکاری حکام بھی شامل تھے۔" ان مطالبات کو آئی پی ایل قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، سائکیا نے کہا کہ بی سی سی آئی کے پاس فائنل میچ کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں منتقل کرنے کے علاوہ "کوئی متبادل" نہیں تھا۔ ترمیم شدہ پلے آف شیڈول کے تحت، دھرم شالہ میں کوالیفائر 1 ہوگا، جبکہ نیو چنڈی گڑھ میں ایلیمینیٹر اور کوالیفائر 2 ہوں گے؛ اس کے بعد 31 مئی کو احمد آباد میں فائنل میچ کھیلا جائے گا۔