ایم ایل سی الیکشن سے پہلے جے ڈی یو میں صلح کی کوشش تیز
••34 views•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ: (اے بی این ) بہار میں آئندہ ہونے والےودھان پریشد انتخابات سے پہلے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں اننت سنگھ اور نیرج کمار کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ پیر کو پٹنہ واقع پارٹی دفتر میں جے ڈی یو کی اہم میٹنگ ہوئی، جس میں وزیر نشانت کمار، کئی موجودہ و سابق ارکانِ اسمبلی، ایم ایل سی اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔میٹنگ میں خاص طور پر پٹنہ گریجویٹ حلقے کے حوالے سے پارٹی میں اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ وزیر نشانت کمار نے تمام رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے اپیل کی کہ پارٹی متحد ہوکرودھان پریشد کا الیکشن لڑے، تاکہ این ڈی اے تمام آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکے۔ نیرج کمار کے مطابق میٹنگ میں موجود تمام رہنماؤں نے اس اپیل سے اتفاق کیا۔میٹنگ کے بعد پٹنہ گریجویٹ حلقے سے جے ڈی یو کے موجودہ ایم ایل سی اور پارٹی کے قومی ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ میٹنگ اچھی رہی اور پارٹی میں کسی طرح کی ناراضگی نہیں ہے۔ اننت سنگھ کی ناراضگی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ ناراض ہوتے تو میٹنگ میں کیوں آتے؟ ان کے مطابق تمام رہنماؤں نے پارٹی کو متحد رکھنے کی اپیل قبول کی ہے۔تاہم، میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد اننت سنگھ نے میڈیا سے بات نہیں کی اور کسی سوال کا جواب دیے بغیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔جے ڈی یو قیادت نے اننت سنگھ اور نیرج کمار کے درمیان اختلافات ختم کرانے کے لیے ریاستی صدر امیش کشواہا اور وزیر شروَن کمار کو ذمہ داری سونپی ہے۔ شروَن کمار نے میٹنگ کے بعد کہا کہ جے ڈی یو کے تمام ارکانِ اسمبلی متحد ہیں اور پارٹی پٹنہ سمیت تمام ودھان پریشدکے نشستوں پر مثبت انداز میں انتخاب لڑے گی۔ این ڈی اے کے دیگر اتحادیوں سے بھی مستقبل میں بات چیت کی جائے گی۔ یہ تنازع اس وقت نمایاں ہوا جب مکامہ سے جے ڈی یو کے رکن اسمبلی اننت سنگھ نے پٹنہ گریجویٹ ایم ایل سی نشست پر اپنی ہی پارٹی کے امیدوار نیرج کمار کے بجائے انوج کمار کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اننت سنگھ نے گزشتہ دنوں باڑھ کے بیڈھنا گاؤں میں کہا تھا کہ وہ انوج کمار کی جیت کے لیے کام کریں گے اور پٹنہ گریجویٹ حلقے کے 26 اسمبلی حلقوں کے لوگ بھی ان کی حمایت کریں گے۔ نیرج کمار کی حمایت نہ کرنے کی وجہ پوچھے جانے پر اننت سنگھ نے کہا تھا کہ جو ان کا ساتھ نہیں دیتا، وہ اس کا ساتھ کیوں دیں؟ لائیو ہندستان کے مطابق اننت سنگھ اور نیرج کمار کے درمیان سیاسی اختلافات نئے نہیں ہیں۔ دونوں کا تعلق مکامہ سے ہے۔ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں اننت سنگھ نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مکامہ سے انتخاب لڑا تھا اور اس وقت مہاگٹھ بندھن کے امیدوار نیرج کمار کو 18 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ بعد میں بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔بہار ودھان پریشد کی آٹھ نشستوں پر موجود ارکان کی مدتِ کار نومبر 2026 میں ختم ہورہی ہے۔ ان میں چار گریجویٹ اور چار ٹیچر حلقے کی نشستیں شامل ہیں۔ گریجویٹ حلقوں میں پٹنہ، تِرہت، دربھنگہ اور کوسی جبکہ ٹیچر حلقوں میں پٹنہ، سارن، تِرہت اور دربھنگہ کی نشستیں شامل ہیں۔ موجودہ ارکان کی مدت 16 نومبر کو ختم ہوگی اور انتخابی پروگرام کا اعلان جلد متوقع ہے۔سیاسی اہمیت: ایم ایل سی انتخابات سے عین قبل جے ڈی یو قیادت کی جانب سے اننت سنگھ اور نیرج کمار کے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی انتخابی میدان میں اندرونی اختلافات کا اثر نہیں پڑنے دینا چاہتی۔ بالخصوص پٹنہ گریجویٹ نشست پر اننت سنگھ کی جانب سے پارٹی امیدوار کی مخالفت نے جے ڈی یو قیادت کے لیے چیلنج پیدا کردیا ہے۔