سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
Awaz E Bihar••7 ویوز•7 منٹ پڑھیں
مفتی یحییٰ معین ڈیجیٹل انقلاب نے جہاں انسانی زندگی کو غیر معمولی سہولتیں عطا کی ہیں، وہیں اس نے جرائم کی دنیا کو بھی ایک نئی جہت دے دی ہے۔ چند برس پہلے تک مالیاتی فراڈ کا تصور جعلی دستخطوں، فرضی دستاویزات یا بینک ڈکیتیوں تک محدود تھا، لیکن آج ایک موبائل فون، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آواز، جعلی ویڈیو کال یا چند لمحوں میں بھیجا گیا ڈیجیٹل پیغام کروڑوں روپے کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں، مالیاتی نگران ادارے اور عدالتیں اب سائبر جرائم کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت، مالیاتی استحکام اور عوامی اعتماد کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ہندوستان بھی اس عالمی چیلنج سے مستثنیٰ نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘، ’’باس اسکیم‘‘، ’’سی ای او ایمپرسنیشن فراڈ‘‘، سرمایہ کاری کے جعلی منصوبوں اور فرضی بینک کھاتوں (Mule Accounts) کے ذریعے ہونے والے مالیاتی جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ کاروباری اداروں، بینکوں اور حکومتی نظام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے جرائم کی خطرناکی صرف اس بات میں نہیں کہ ان کے ذریعے بڑی رقوم لوٹی جاتی ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ عوام کے مالیاتی نظام پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ جب ایک شخص یا ادارہ برسوں کی محنت سے جمع کی گئی پونجی چند لمحوں میں کسی سائبر مجرم کے ہاتھوں گنوا بیٹھتا ہے تو اس کا نقصان صرف مالی نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشی ڈھانچے پر اس کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔اسی پس منظر میں ملک کی عدالتِ عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ آف انڈیا نے اگست ۲۰۲۶کے پہلے ہفتے میں ایک نہایت اہم اور دور رس قدم اٹھایا۔ عدالت نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ سائبر جرائم اب انفرادی نوعیت کے واقعات نہیں رہے بلکہ ایک منظم اور قومی مسئلہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے سپریم کورٹ کی بنچ نے از خود نوٹس (Suo Motu) لیتے ہوئے ملک کے مرکزی بینک، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ آئندہ چار ہفتوں کے اندر تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ایسا جامع اور مؤثر معیاری طریقۂ کار (SOP) مرتب کرے جس کے ذریعے جعلی یا میول اکاؤنٹس کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے، مشتبہ لین دین کی فوری نشاندہی ہو اور عوام کے سرمائے کو زیادہ مؤثر انداز میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔یہ ہدایت محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ ایک بنیادی قانونی اور اخلاقی اصول کی یاد دہانی بھی ہے۔ عدالت نے اپنے مشاہدات میں اس امر پر زور دیا کہ بینک صرف منافع کمانے والے تجارتی ادارے نہیں بلکہ عوام کے سرمائے کے سچے امانت دار (Trustees of Public Money) ہیں۔ جب لاکھوں افراد اپنی جمع پونجی بینکوں کے سپرد کرتے ہیں تو درحقیقت وہ ایک قانونی اور اخلاقی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ اس اعتماد کا تقاضا یہ ہے کہ مالیاتی ادارے جدید خطرات کو سمجھیں، اپنے حفاظتی نظام کو مسلسل بہتر بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر بروقت کارروائی کریں۔عدالت نے اپنے مشاہدات کے دوران ایک نہایت اہم سوال بھی اٹھایا کہ جب بینکوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام، مشتبہ لین دین کی نشاندہی کرنے والے الگورتھم (AI Fraud Detection Tools) اور مسلسل ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے وسائل موجود ہیں تو پھر ایسے بے شمار فراڈ بروقت کیوں نہیں روکے جا سکے؟ اگر چند منٹوں میں ایک نئے یا غیر معمولی اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے منتقل ہو رہے ہوں، یا ایک ہی طرز کے مشتبہ لین دین بار بار دہرائے جا رہے ہوں، تو کیا مالیاتی نظام کو فوری طور پر متحرک نہیں ہونا چاہیے؟ یہ سوال صرف بینکوں سے نہیں بلکہ پورے مالیاتی نظام سے جواب طلب کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے احکامات کو محض اصولی گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے عملی رہنمائی بھی فراہم کی۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ سائبر فراڈ کے متاثرین کو طویل قانونی پیچیدگیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بین الاداراتی کمیٹی کو مشترکہ ذمہ داری (Shared Liability Framework) اور متاثرین کے لیے مناسب مالیاتی معاوضے (Victim Compensation Framework) کے نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایسے واقعات میں بینکوں، مالیاتی اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور دیگر متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری کس حد تک بنتی ہے۔ اس سوچ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سائبر فراڈ کے خلاف تحفظ صرف مجرم کو سزا دینے تک محدود نہ رہے بلکہ متاثرہ شہری اور ادارے کو بروقت معاوضہ اور ریلیف بھی فراہم کیا جائے۔اسی طرح عدالت نے یہ بھی محسوس کیا کہ منظم سائبر جرائم کی تحقیقات میں مختلف ریاستوں اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں ای-زیرو ایف آئی آر (e-Zero FIR)، ریاستی سطح پر سائبر کرائم کوآرڈینیشن مراکز کے قیام، شکایات کے فوری اندراج، مشتبہ بینک کھاتوں کو بروقت منجمد کرنے اور متاثرین کی رقوم کی واپسی کے پورٹلز (Grievance Redressal Modules) کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے روایتی پولیسنگ کافی نہیں، بلکہ تیز رفتار، مربوط اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ قانونی نظام ناگزیر ہے۔عدالتِ عظمیٰ کی اس پیش رفت سے قبل بھی مختلف قومی ادارے اس خطرے کی جانب مسلسل توجہ دلا چکے تھے۔ان تمام سرکاری اقدامات کا مجموعی پیغام نہایت واضح ہے۔ اگر کسی ادارے میں مالیاتی اختیارات چند افراد تک محدود ہوں، اگر بڑی ادائیگیوں کے لیے دوہری یا سہ رخی تصدیق لازمی نہ ہو، اگر زبانی یا واٹس ایپ ہدایات پر فوری عمل کر لیا جاتا ہو، اور اگر ملازمین کو تصدیق کے بجائے اندھی اطاعت کی تربیت دی جاتی ہو، تو جدید سائبر حملوں کو روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں تحریری طریقۂ کار، داخلی نگرانی، اختیارات کی تقسیم، مسلسل تربیت اور جواب دہی کا مضبوط نظام موجود ہو، وہاں مجرموں کے لیے کامیابی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں جدید قانونی تقاضے اور اسلامی تعلیمات ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام نے امانت، دیانت، تحریر، شہادت، تحقیق اور احتیاط کو مالی معاملات کی بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ جدید انتظامی سائنس شفافیت، داخلی کنٹرول، اختیارات کی تقسیم اور مسلسل نگرانی پر زور دیتی ہے۔ اگر ان دونوں زاویوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایسا مالیاتی ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف قانون کی نظر میں مضبوط ہو بلکہ اخلاقی و دینی اعتبار سے بھی قابلِ اعتماد ہو۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر سیکیورٹی کو صرف کمپیوٹر کے شعبے تک محدود نہ سمجھا جائے۔ ہر کاروباری ادارہ، تعلیمی تنظیم، رفاہی ادارہ، دینی ادارہ اور خاندانی کاروبار اپنے مالیاتی طریقۂ کار کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ ہر بڑی ادائیگی کے لیے واضح ضابطہ بنایا جائے، اختیارات کو ایک فرد کے بجائے متعدد ذمہ داران میں تقسیم کیا جائے، ملازمین کی باقاعدہ تربیت ہو، اور انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ کسی مشتبہ حکم کی تصدیق کرنا ان کی ذمہ داری ہے، نہ کہ نافرمانی۔اگر قرآنی تعلیماتِ امانت و تبیّن، نبوی ہدایات، عدالتی احکام، جدید قانونی ضابطے اور مؤثر انتظامی اصول ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں گے تو بہت سارے ڈیجیٹل فراڈ ناکام ہوں گے بلکہ ایک ایسا معاشی ماحول وجود میں آئے گا جہاں اعتماد بھی محفوظ ہوگا، امانت بھی اور قومی معیشت بھی۔ ڈیجیٹل دور میں محفوظ وہی ادارہ ہے جو صرف اپنی مشینوں کو نہیں بلکہ اپنے نظام، اپنی سوچ اور اپنے اصولوں کو بھی محفوظ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امانت کی صحیح حفاظت کرنے اور اپنے مالیاتی معاملات کو شریعت و قانون کی روشن تعلیمات کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔