جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

Awaz E Bihar•21 اگست، 2026 کو 05:03 PM•7 ویوز•7 منٹ پڑھیں

پروفیسر منوج کمار جھا
بیسویں صدی نے اپنی ابتدا بارود اور بیڑیوں سے کی تھی۔ استعمار اپنے عروج پر تھا، دنیا کے تین چوتھائی انسان کسی دوسرے ملک کی ’ملکیت‘ تھے، اور پھر دو عالمی جنگوں نے وہ کر دکھایا جو اس سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہوا تھا موت کی صنعتی پیداوار۔گیس چیمبر، قالین بمباری، ہیروشیما۔ ایسے قحط جو فطرت نے نہیں، پالیسیوں نے پیدا کیے۔ ایسی تقسیمیں جن کی لکیریں کسی دور بیٹھے افسر نے نقشے پر کھینچ دیں اور جن کا خون ہمارے شہروں اور گاؤں نے بہایا۔اس ملبے کے درمیان انسانیت نے ایک خواب تراشا اور اس خواب کا نام اس نے آنے والی صدی رکھا۔اکیسویں صدی محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں تھی، وہ ایک افق تھی۔ ایک وعدہ۔ کہا گیا کہ جب یہ صدی آئے گی تو جنگیں ماضی کی بات ہوں گی، بھوک کیا ہوتی ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے عجائب گھر جانا پڑے گا، ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا، ہر بیمار کا علاج ہوگا، اور مشینیں انسان کو محنت کی زنجیروں سے آزاد کرکے اسے فن اور غوروفکر کے لیے فرصت دیں گی۔ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، الما آتا کا یہ عہد کہ ’’سنہ 2000 تک سب کے لیے صحت‘‘، نوآبادیوں کی آزادی، فلاحی ریاست کا تصور یہ سب اسی ایک افق کے مختلف نام تھے۔یہ خواب صرف منشوروں میں نہیں تھا، وہ ہماری مقبول تخیل کی فضا میں گھلا ہوا تھا۔ 2001: اے اسپیس اوڈیسی نے صدی کے ہندسے کو ہی مستقبل کا مترادف بنا دیا تھا۔ اور ہمارے یہاں؟ نندن، پراگ اور چمپک کی سائنس فکشن کہانیوں میں اڑنے والی گاڑیاں اور روبوٹ تھے، اسکول میں ہر بچے نے کبھی نہ کبھی ’’سنہ 2000 کا ہندوستان‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا تھا۔ دوردرشن کی اسکرین پر وہ ہندوستان دکھائی دیتا تھا جو خواندہ ہو رہا تھا، ویکسین لگوا رہا تھا، نہریں اور سیٹلائٹ ایک ساتھ بنا رہا تھا۔ ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ ایک نعرہ ضرور تھا، مگر اس کے پیچھے ایک حقیقی اجتماعی آرزو بھی تھی۔ صدی بدلتے ہی انٹرنیٹ آیا اور کہا گیا کہ اب دنیا ایک گاؤں ہے، علم مفت ہے، اور اقتدار کے پاس کوئی ایسا راز نہیں بچے گا جسے وہ عوام سے چھپا سکے۔ایک پوری نسل اس یقین کے ساتھ پروان چڑھی کہ تاریخ کی سمت صرف ایک ہےاوپر کی طرف۔ آج، اس صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر جانے کے بعد، سب سے بے چین کرنے والی بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے خواب پورے نہیں ہوئے۔ بے چین کرنے والی بات یہ ہے کہ خواب وہی ہیں۔ شاید ’’جو لوگ تاریخ سے نہیں سیکھتے وہ اسے دہرانے کے لیے مجبور ہوتے ہیں‘‘ کا اصل مفہوم یہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ صرف المیوں کی صورت میں واپس آتی ہے جنگ، نفرت، بے دخلی۔ مگر وہ اپنی نامکمل آرزوؤں کی صورت میں بھی لوٹتی ہے۔ ہر نسل انہی مطالبات کو نئے سرے سے اٹھاتی ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کچھ نیا مانگ رہی ہے۔اور یہ کہنا غلط ہوگا کہ ترقی نہیں ہوئی۔ ہوئی اور بہت ہوئی۔ اوسط عمر میں اضافہ ہوا، چیچک کا خاتمہ ہوا، قحط نایاب ہوئے، اربوں لوگ انتہائی غربت سے باہر آئے، ہر جیب میں ایک کمپیوٹر موجود ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اتنی ساری مادی کامیابیوں کے باوجود ہم کسی بہتر مقام پر نہیں ہیں۔خوشحالی بڑھی اور عدم تحفظ بھی بڑھا، رابطے بڑھے تو تنہائی بھی بڑھی۔ معلومات میں اضافہ ہوا اور فہم میں کمی۔ ہم نے وسائل تو حاصل کر لیے، مگر مقصد کھو دیا۔ اس عدم مطابقت کی جڑ میں ایک ہی بات ہے انسان اب اپنے آپ میں مقصد نہیں رہا، اسے کسی اور کے مقصد کا وسیلہ بنا دیا گیا ہے۔سیاست کے لیے وہ ووٹر ہے ایک عدد، ایک مساوات، ایک ہجوم جسے مشتعل کیا جا سکتا ہے۔ بازار کے لیے وہ صارف ہے ایک بٹوا، قرض لینے کی ایک صلاحیت، ایک ہدف بنایا جانے والا اشتہار۔ اور ٹیکنالوجی کے لیے وہ اس سے بھی کم ہے صرف توجہ، جسے چند سیکنڈ میں ٹکڑوں میں تقسیم کرکے نیلام کیا جا سکتا ہے، اور ڈیٹا، جسے اس کی رضامندی کے بغیر خود اسی کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔تینوں نے مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دی ہے جہاں انتخاب تو بے شمار ہیں، مگر آزادی بہت کم۔ کون سا برانڈ، کون سی ایپ، کون سا پلیٹ فارم یہ انتخاب کرنے کی آزادی ہے؛ مگر اپنے کام کی شرائط، اپنے شہر کی ہوا، اپنے بچوں کے نصاب، اپنے وقت کی رفتار طے کرنے کی آزادی تقریباً نہیں۔ گیگ ورکر کو ایک الگورتھم کام دیتا ہے اور ایک الگورتھم ہی اسے نکال باہر کرتا ہے، اور وہ اپیل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں کوئی انسان موجود ہی نہیں جس سے بحث کی جا سکے۔ یہی ہمارے عہد کی سب سے بڑی غربت ہے وسائل کی کمی نہیں، اختیارِ عمل کی کمی۔ یہ احساس کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے؛ ہم اسے خود انجام نہیں دے رہے۔آدھی رات کو کیے گئے اس وعدے کہ اب ہم اپنی تقدیر سے ملاقات کریں گے، اور گاندھی کا وہ جملہ کہ ہر آنکھ کے ہر آنسو کو پونچھنا ہے ہم نے ان دونوں کو یادگاری دنوں کی آرائش بنا دیا، اپنی عملی ترجیحات کا حصہ نہیں رہنے دیا۔ امبیڈکر نے متنبہ کیا تھا کہ 26 جنوری 1950 سے ہم ایک تضاد میں داخل ہو رہے ہیں سیاست میں ایک شخص، ایک ووٹ؛ لیکن سماجی اور معاشی زندگی میں ایک شخص کی قدر ایک جیسی نہیں۔ وہ تضاد آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔اور جمہوریت؟ وہ صرف انتخابات کا نام نہیں ہے۔ وہ بحث و مباحثہ ہے، اختلافِ رائے کے لیے جگہ ہے، اداروں کی خودمختاری ہے، اطلاعات کا حق ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ اقتدار سے سوال پوچھنے کی قیمت نہیں چکانی پڑے گی۔ ان پیمانوں پر، ہر جماعت اور ہر دور کو ملا کر دیکھیں تو ہماری کارکردگی غیر یکساں رہی ہے۔ شہری کب ہجوم میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ہجوم کب مستفید میں اس فاصلے کو مٹانا ابھی باقی ہے۔ تقدیر سے ہماری ملاقات ابھی ادھوری ہے۔
تو اس صدی کا مثبت ایجنڈا کیا ہو؟اگر خواب وہی ہیں تو کم از کم راستہ نیا ہونا چاہیے۔ مجھے چار نکات نظر آتے ہیں۔پہلا انصاف، رحم نہیں۔ غریب کو دی جانے والی سہولت خیرات نہیں، اس کا حق ہے۔ فلاح کو ’’مفت خوری‘‘ کہنے والی زبان کو مسترد کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، غذائیت، رہائش اور باعزت اجرت یہ حقوق ہیں، احسان نہیں۔دوسرا دوبارہ تقسیم۔ صرف کیک کو بڑا کرنے سے کام نہیں چلے گا اس کی تقسیم کا طریقہ بھی بدلنا ہوگا۔ دولت اور وراثت پر مناسب ٹیکس، زمین تک رسائی، عوامی خدمات میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، اور مشترکہ وسائل، پانی، جنگلات، اسپیکٹرم، ڈیٹاکو نجی قبضے سے محفوظ رکھنا ہوگا۔تیسرا،انسانی خودمختاری کی بازیابی۔ اس صدی کا نیا سوال یہ ہے کہ جب مشین سوچنے لگے تو انسان کے پاس کیا بچے گا؟ جواب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کو روک دیا جائے، بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ اس کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی توجہ پر حق، اپنے ڈیٹا پر حق، الگورتھم کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق، کام کے بعد دستیاب نہ رہنے کا حق۔ اور سب سے بڑھ کر، ایسا کام جس میں انسان کو اپنی عقل اور تخلیقی صلاحیت استعمال کرنے کی جگہ ملے۔چوتھا،معاشرے کی بالادستی۔ گزشتہ صدی کی بحث دو ہی قطبوں کے درمیان پھنسی رہی ریاست یا بازار۔ دونوں اوپر سے نیچے کی طرف چلنے والے نظام ہیں، دونوں انسان کو ایک اکائی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ تیسرا قطب معاشرہ ہے تعاون، یونین، پنچایت، محلہ کمیٹی، عوامی کتب خانہ، یونیورسٹی، کسان تنظیم، وہ تمام جگہیں جہاں لوگ بغیر منافع اور بغیر حکم کے مل کر کچھ کرتے ہیں۔ سوراج کا اصل مفہوم یہی تھا—صرف حکمران کو بدل دینا نہیں، بلکہ اپنے اوپر اپنا راج قائم کرنا۔آخر میں: آزادی کوئی تاریخ نہیں، ایک مسلسل عمل ہے۔ 1947 میں جو حاصل ہوا وہ ایک موقع تھا، تکمیل نہیں۔ ہر نسل کو یہ لڑائی نئے سرے سے لڑنی ہوتی ہے کبھی استعمار کے خلاف، کبھی عدم مساوات کے خلاف، اور آج ان پوشیدہ طاقتوں کے خلاف جو ہمیں صارف، تماشائی اور محض ایک ڈیٹا میں تبدیل کر دینا چاہتی ہیں۔
ترنگا لہراتے ہوئے یہ یاد رکھنا ہی شاید حقیقی جشن ہے کہ خواب ابھی باقی ہے، اور اسی لیے زندہ ہے۔

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026
بریگیڈیر محمد عثمان : جن پر پورے ہندوستان کو فخر ہے
مضامین

بریگیڈیر محمد عثمان : جن پر پورے ہندوستان کو فخر ہے

13 جولائی، 2026