جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

Awaz E Bihar•28 اگست، 2026 کو 03:58 PM•61 ویوز•7 منٹ پڑھیں

پروفیسرمحمد عبدالواحد
ایم۔اے، پی ایچ۔ڈی(انگریزی) پٹنہ یونیورسٹی
عالم (عربی)، فاضل فارسی (شمسی)
سابق وائس چیرمین، بہار اردو اکادمی، پٹنہ
حافظ منزل، پروفیسر کالونی، تری پولیا،
پٹنہ۔۷
موبائل:9431459473
آج ریاست بہار کی بیشتر اردو تنظیمیں (مثلاً انجمن ترقی اردو بہار، بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی کمیٹی ۔۔۔) نیم جاں ہو چکی ہیں۔ از سر نو فعال ہونے کے لئے وہ سب حکومت وقت سے گرانٹس (Grants) کی منتظر ہیں۔ ان میں بس ایک اردو ڈائرکٹریٹ ہے جہاں آج بھی اردو اپنی پوری طاقت و توانائی کے ساتھ زندہ اور تابندہ ہے۔ مگر برا ہو ’اردو مزاج‘ کا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ بھی اب سرکاری مال (ٹیکس دینے والوں کی امانت) کو ذاتی ملکیت سمجھنے لگے ہیں۔ وہ اسے مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہیں اور اسے اپنا استحقاق (Privileges) بھی تصور کرتے ہیں۔ بہ طورثبوت آپ اس دعوتی کارڈ کا معائنہ کرلیں جو ۲۹؍اور ۳۰؍اگست ۲۰۲۶ء کو ہونے والے جشن اردو کے سلسلے میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں ایڈیشنل سکریٹری اور ڈائرکٹرسید محمد پرویز عالم کی کارکردگی کے حوالے سے درج ذیل حقائق نوٹ کئے جا سکتے ہیں۔
جشن کا افتتاح (۲۹؍اگست بوقت ۳۰:۵ بجے شام) شری وجے کمار چودھری، نائب وزیر اعلیٰ بہار کریں گے جس کے لئے۱۲ (بارہ) ’مہمانان اعزازی‘ (Guests of honour) منتخب کئے گئے ہیں۔ ان میں ۷؍ قد آور مسلم اشخاص یہ ہیں--بہار سرکار کے وزیر محمدزماں خاں، سنی وقف بورڈ کے صدر محمد ارشاد اﷲ، پروفیسر ارتضیٰ کریم، بہار قانون ساز کونسل کے رکن آفاق احمد خاں، شیعہ وقف بورڈ کے صدر ارشاد علی آزاد اور عامر سبحانی، صدر بہار الیکٹری سٹی ریگولیٹری کمیشن، پٹنہ وغیرھم۔
اوپر کے انتخاب پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ’’مال سرکار کا اور مرزا کھیلے ہولی‘‘ والی کہانی نہایت ہی کامیابی کے ساتھ دہرائی جارہی ہے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ شری سمراٹ چودھری اور محکمۂ کابینہ سکریٹریٹ کے اڈیشنل چیف سکریٹری شری اروند کمار چودھری کو اس طرح کے غیر منصفانہ رویے اور لوٹ کھسوٹ کی نفسیات سے باخبر کیا جائے۔ پرویزعالم سے پوچھا جائے کہ کیا انہیں نچلے طبقہ کے ایک۔دو مسلمان کو بھی شامل کرنے سے روکا گیا تھا؟ کیا ام۔ایل سی شری غلام غوث، ام۔ایل اے شری اخترالایمان، سابق ایم پی ڈاکٹر اعجاز علی، عربی و فارسی یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر عالمگیر، پندار کے ایڈیٹر عبدالخالق احسانی، انقلاب کے ایڈیٹر اسفر فریدی، بہار اردو اکادمی کے سابق نائب صدر غیاث الدین راعی اور بہار ودھان پریشد کے سابق ایکٹنگ چیرمین اور بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے موجودہ چیرمین سلیم پرویز میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو ’مہمانان اعزازی‘ کی لسٹ میں جگہ پاسکے؟ سچائی تو یہ ہے کہ پرویز عالم جیسے لوگوں نے نہ صرف اردو کے کاز کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ مسلمانوں میں ذاتی تقسیم کو بھی ہوا دی ہے۔
اب ذرا آگے بڑھیں تو یہ طرفگی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ ۲۹؍ سے ۳۰ ؍اگست تک کے سبھی اجلاس میں صدر نشیں، مہمانان خصوصی اور مہمانان اعزازی کی حیثیت سے صرف انہیں کو جگہ دی گئی ہے جو مسلمانوں میں اعلیٰ طبقوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ ان اسماء پر غور کریں:
پہلا اجلاس۔ صدارت:شفیع مشہدی
مہمان خصوصی: پروفیسر اعجاز علی ارشد
مہماناعزازی:پروفیسر ڈاکٹر توقیر عالم
دوسرا اجلاس۔ صدارت:ڈاکٹر شائستہ یوسف
مہمان خصوصی:محترمہ ذکیہ مشہدی
مہمان اعزازی: ڈاکٹر دبیر احمد
تیسرا اجلاس۔ صدارت:پروفیسر عبدالصمد
مہمان خصوصی:معصوم مرادآبادی
مہمان اعزازی: ایس۔ایم اشرف فرید
کیا اوپر کی غیر عادلانہ اورتعصب زدہ Pick and choose کی نفسیات میں اردو کے لئے خیر خواہی پوشیدہ ہے؟ کیا ایڈیشنل سکریٹری تصدیق کریں گے کہ اس انتخاب میں ایڈیشنل چیف سکریٹری کی مرضی (Approval) بھی شامل ہے؟ بے جا نہ ہوگا اگر یہاں علامہ اقبال کو یاد کر لیا جائے ؎
ہونکو نام جو ’اردو‘ کی تجارت کر کے
کیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کے
روح اقبال سے معذرت کے بعد میں نے قبروں، کی جگہ پر ’اردو‘ لکھ دیا ہے۔ ممکن ہے کہ اردو کے حق میں میری یہ جرأت مندانہ رائیگاں نہ جائے۔
اردو کی بدنصیبی کو ذرا آگے بھی دیکھئے۔ زیر بحث ’دعوتی کارڈ‘ کے مطابق ’جشن‘ کی کامیابی کے لئے کل ۱۷ (سترہ) شعرا مدعو کئے گئے ہیں۔ ان میں صرف ۴ (چار) ہی ریاست بہار کے ہیں، جیسے:
مظفر ابدالی، خورشید اکبر، صدف اقبال اور شنکر کیموری
بہار میں اردو کے شیدائیوں کو اختیار ہے کہ وہ پرویز عالم سے پوچھیں کہ دوسری ریاستیں کیا اپنے سرکاری خزانے کو اسی طرح سے لٹاتی ہیں؟ اب تک تو اس کی کوئی نظیر سامنے نہیں آئی ہے۔ آج بہار میں اردو جس حالت زار سے دو چار ہے اس کا مداوا کیا یہی ہے ک اپنوں کی ناقدری کر کے غیروں کی عزت افزائی کی جائے؟ اس سے تو ان کے عزم اور حوصلے پست ہوں گے جو سالوں بھر اردو کی شمع کو اپنے خون سے جلائے رکھتے ہیں مگر جب کچھ پذیرائی اور انعام و اکرام کا موقع آتا ہے وہ یکسر نظر اندازکردئے جاتے ہیں۔ ان حالات میں ان کی بے چارگی بس یہی کہہ سکتی ہے کہ ؎
جب پڑا وقت گلستاں پہ خوں میں نے دیا
جب بہار آئی توکہتے ہیں ترا کام نہیں
پی کے جو مست ہیں، ان کے لئے پیمانے ہیں
اور پیاسوں کے مقدر میں کوئی جام نہیں
سرسری نظر بھی ڈالیں تو احساس ہو جائے گا کہ اردو ڈائرکیٹریٹ نے اپنے گھر میں اتنے مہمان جمع کر لئے ہیں کہ صاحب خانہ کے لئے برائے نام ہی جگہ رہ گئی ہے۔ یہ بہار کے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، ناقدوں اور دوسرے شائقین اردو کے ’خون اور پیاس‘ کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ بہ نظر غائر دیکھیں تو ہر اجلاس کے مقالہ نویسوں / مقالہ خوابوں کے ساتھ بھی درج بالا سلوک کو ہی روا رکھا گیا ہے۔ چنانچہ مقالہ پیش کرنے والوں کی کل تعداد ۱۸(اٹھارہ) ہے جن میں صرف ۷ (سات) کا تعلق ریاست بہار سے ہے۔ اب ان میں پس ماندہ کلاس کے لکھاریوں کی تعداد تلاش کریں تو یہاں بھی وہ چھ۔سات پر ہی سمٹ گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ’جشن اردو‘ اردو بولنے والوں کی اکثریت کی نظر میں ـ’وجہ ماتم‘ ہے۔ جو بھی سعی کی گئی ہے وہ سب فروغِ اردو سے کہیں زیادہ صرف اپنے لئے ملک کے مختلف گوشوں میں ’حلقہ‘ بنانے کی کوششیں ہیں۔
بہر حال، ’جشن‘ کا مشاعرہ مقابلتاً بہار ارد کادمی کے اس کل ہند مشاعرہ سے بہتر ہے جو۲۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو پٹنہ کے کرشن میموریل ہال میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس وقت محکمہ اقلیتی فلاح، حکومت بہار کے سکریٹری (عامر سبحانی آئی اے ایس) نے تو اکادمی کے دونوں نائب صدور کے تمام حقوق کو بحق خود ضبط کر لیا تھا۔مستزادیہ کہ انہوں نے اکادمی کے دعوتی کارڈ پر بیرون ریاست کے ہی صرف ۱۲ شاعروں کا نام چھپنے دیا۔ ان باتوں سے دکھی ہو کر دانش مرکز (رجسٹرڈ) کے جنرل سکریٹری قوس صدیقی صاحب نے مشاعرہ کے بائکاٹ کی اپیل کی تھی اور عوام و خواص میں پمفلٹ کی کاپیاں بھی تقسیم کروائی تھیں۔ پمفلٹ اور دعوتی کارڈ کی کاپیاں آج بھی راقم الحروف کے پاس موجود ہیں۔
مناسب ہے کہ تحریر کے آخر میں فیض احمد فیضؔ کے شعر زیریں کا اضافہ کیا جائے جس سے میں نے اکتساب فیض کیا ہے ۔ممکن ہے کہ اس سے اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر حقوق العبادپہ شیخوں مارنے والوں کا ضمیر کچھ بیدار ہو سکے ؎ ؎
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

٭٭٭


















شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026
بریگیڈیر محمد عثمان : جن پر پورے ہندوستان کو فخر ہے
مضامین

بریگیڈیر محمد عثمان : جن پر پورے ہندوستان کو فخر ہے

13 جولائی، 2026