صوفی بھکتی تحریک نے بہار کی تہذیبی شناخت، ادبی روایت و سماجی ہم آہنگی کو نئی جہت عطا کی
••10 views•6 منٹ پڑھیں
خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں دو روزہ قومی سمینار کا آغاز، دانشوروں کا مشترکہ تہذیبی ورثے کے تحفظ اور فروغ پر زور
پٹنہ، 17 جولائی:(اے بی این ) بہار کے ادب، ثقافت، تہذیب اور سماجی زندگی پر صوفی بھکتی تحریک کے گہرے اور دیرپا اثرات کا تحقیقی جائزہ لینے، اس کے فکری، روحانی اور تہذیبی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور مشترکہ ہندوستانی ثقافت کے فروغ کے عزم کے ساتھ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں دو روزہ قومی سمینار کا شاندار آغاز ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں ملک کے ممتاز ادیبوں، مؤرخین، ناقدین، محققین اور دانشوروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوفی بھکتی تحریک نے مذہبی رواداری، انسانی مساوات، محبت، اخوت اور گنگا جمنی تہذیب کی ایسی مضبوط بنیادیں استوار کیں جنہوں نے بہار سمیت پورے برصغیر کی ادبی، ثقافتی اور سماجی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق نے استقبالیہ خطاب میں اس علمی اجتماع کو لائبریری کی نئی فکری جہت کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عہدِ ذمہ داری کے صرف ایک ماہ کے اندر اس نوعیت کے قومی سمینار کا انعقاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا بخش لائبریری ایک بار پھر اپنی درخشاں علمی روایت کی جانب گامزن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک یہ ادارہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز رہا اور اب اسی تابناک روایت کو نئے عزم، نئی توانائی اور نئے وژن کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔ سمینار کا افتتاح معروف افسانہ نگار، شاعر اور دانشور شفیع مشہدی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد خدا بخش لائبریری کو ایسی فعال، متحرک اور بصیرت افروز قیادت نصیب ہوئی ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی شناخت کو مستحکم کرے گی بلکہ اسے قومی سطح پر ایک بار پھر فکری و تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے انسانیت، محبت، رواداری، باہمی احترام اور بھائی چارے کی ایسی قدریں پروان چڑھائیں جن کی عصری معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اپنے فکر انگیز کلیدی خطبے میں ممتاز نقاد اور محقق پروفیسر صفدر امام قادری نے صوفی بھکتی تحریک کے تاریخی متون کی صحت اور مستند روایت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تاریخ نویسی کا سب سے بڑا تقاضا تحقیقی دیانت داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ودیاپتی کے متون نسبتاً قابلِ اعتماد ہیں، تاہم امیر خسرو اور کبیر سے منسوب متعدد متون اب بھی تحقیقی تنقید کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی نسل کے مؤرخین اور محققین سنجیدہ تحقیق کے ذریعے ان تاریخی ابہامات کو دور کریں گے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ممتاز مؤرخ پروفیسر رتنیشور مشرا نے کہا کہ اگرچہ صوفی بھکتی تحریک کی بنیادیں صدیوں پر محیط ہیں، تاہم سولہویں صدی میں اس نے اپنی فکری و سماجی معراج حاصل کی۔ اس تحریک نے عوامی زبانوں کو عزت و وقار بخشا، علاقائی ادبی روایت کو استحکام عطا کیا اور روحانی افکار کو عام انسان کی زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ودیاپتی نے میتھلی زبان کو ادبی عظمت عطا کی، جبکہ حضرت شیخ شرف الدین یحیٰ منیری نے روحانیت اور تصوف کے اعلیٰ افکار کو عوام تک پہنچایا۔ یہی ہمارا وہ تہذیبی سرمایہ ہے جس نے بے شمار اہلِ علم و دانش کو جنم دیا۔ حکومتِ بہار کے ایڈیشنل سکریٹری ندیم الغفار صدیقی نے اپنے خطاب میں قدیم علمی ذخیرے اور مخطوطات کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس علمی ورثے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اس قیمتی سرمایہ سے محروم ہو جائیں گی۔ انہوں نے تمام علمی اداروں سے اس سمت میں مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔ بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین امتیاز احمد کریمی نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے صرف مذہبی یا روحانی فکر ہی کو فروغ نہیں دیا بلکہ اس نے بہار کے ادب، تہذیب، معاشرت اور انسانی اقدار کو نئی معنویت عطا کی۔ ان کے مطابق روحانیت دراصل انسان کو خدا سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ انسان کو انسان سے بھی قریب لانے کا ذریعہ ہے۔گورنمنٹ اردو لائبریری کے سابق چیئرمین ارشد فیروز نے کہا کہ خدا بخش لائبریری ملک کا ایک ایسا علمی و تہذیبی ادارہ ہے جس کی آواز عالمی علمی حلقوں میں نہایت احترام کے ساتھ سنی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے وحدتِ انسانیت، مساوات، رواداری اور باہمی احترام کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی سماج کو منور کر رہی ہے۔ روزنامہ قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید نے کہا کہ صوفی بھکتی تحریک نے ہندوستان کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور مذہب، ذات، زبان اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت، محبت اور باہمی اخوت کا ایسا آفاقی پیغام دیا جو آج بھی یکساں طور پر مؤثر اور قابلِ عمل ہے۔ افتتاحی اجلاس کے دوران خدا بخش لائبریری کے ممتاز سہ ماہی تحقیقی جریدے کے تازہ شمارے کی بھی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ اپریل 2024 سے تعطل کا شکار اس جریدے کی اشاعت کو موجودہ ڈائرکٹر کی خصوصی دلچسپی اور نگرانی میں دوبارہ منظم کیا گیا اور اپریل تا دسمبر 2024 کا مشترکہ شمارہ مختصر مدت میں شائع کر دیا گیا۔ مزید اعلان کیا گیا کہ آئندہ خصوصی شمارے معروف محقق پروفیسر کلیم الدین احمد اور عظیم نقاد قاضی عبد الودود کے نام سے شائع کیے جائیں گے، جن کے لیے اہلِ قلم اور محققین سے تحقیقی مقالات طلب کیے گئے ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے علمی سیشن کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد اور پاٹلی پترا یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے صدر پروفیسر راجیش شکلا نے کی۔ اس اجلاس میں معصوم عزیز کاظمی نے گیا کی خانقاہوں اور صوفیائے کرام کی ادبی خدمات، پروفیسر محمد عارف نے عہدِ وسطیٰ کے بہار میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں صوفیا کے کردار، ڈاکٹر شیو کمار مشرا نے متھلا کے صوفی سنتوں کے سماجی اثرات اور پروفیسر تعبیر کلام نے تیرہویں اور چودھویں صدی میں بہار کے صوفیا کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کے فروغ پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے، جنہیں شرکائے سمینار نے بے حد سراہا۔آخر میں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق نے تمام مہمانوں، مقررین، محققین اور شرکائے سمینار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ علم کی شرکت ہی اس ادارے کا اصل سرمایہ ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ خدا بخش لائبریری مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ ایسے معیاری علمی، تحقیقی اور تہذیبی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہے گی، تاکہ بہار کی علمی و ثقافتی روایت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید استحکام حاصل ہو۔۔تقریب کی نظامت پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر افشاں بانو نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔اس موقع پر مشہور افسانہ نگار مشتاق احمد نوری ‘ مشہور صحافی ڈاکٹر ریحان غنی ‘ صحافی اسفر فریدی ‘ صحافی ڈاکٹر انوار الہدیٰ‘ ڈاکٹر ذاکر حسین کےعلاوہ معززین نے بھی شرکت کی۔