اردو کے تحفظ اور بقا کیلئے بزم سخن اور مشاعرے کا انعقاد وقت کے اہم تقاضے:امتیاز احمد کریمی
••8 views•7 منٹ پڑھیں
کیف عظیم آبادی کی شاعری میں تجربات و احساسات اور عصری حِسّیت نمایاں ہیں: ایس ایم پرویز عالم کیف کے کلام کے وجود کے ٹوٹنے ،بکھرنے اور منتشر ہونے کا احساس شدت سے نظر آتا ہے: پروفیسر توقیر عالم اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت کیف عظیم آبادی یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ (پریس ریلیز) کیف عظیم آبادی کا شمار دبستان عظیم آباد کے ان شعراءمیں ہوتا ہے ، جنہوں نے اپنی خوبصورت شاعری اور دِلکش آواز کے امتزاج سے شائقین شعر و سخن کے دل و دماغ پر انمٹ نقوش ثبت کئے۔کیف عظیم آبادی ایک مقبول و مشہور شاعر کے علاوہ ایک مخلص، خلیق، خوش مزاج، ملنسار اور انسانیت کے جوہر سے مزین شخص تھے۔ ان کے دل میں سب کے لئے محبت اور اپنائیت کا جذبہ تھا۔ اسی لئے وہ شعراءو ادباءمیں ہر دلعزیز تھے۔ وہ مشرقی قدروں کے علمبردار تھے۔ان خیالات کا اظہار محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ،اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام منعقد فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون واقع آڈیٹوریم میں کیف عظیم آبادی یاد گاری تقریب و بز م سخن پروگرام میں دانشورانِ اردو نے اپنے مقالہ میں مشترکہ طورپر کیا۔ تقریب کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ تقریب کی صدارت پروفیسر توقیر عالم،سابق پرووائس چانسلر ،مولانا عربی مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی ،پٹنہ نے کی۔ استقبالیہ و تعارفی کلمات اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے پیش کئے۔استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر موصوف نے تقریب میں تشر یف لائے تمام مہمانان، دانشورانِ اردو ،مُحِبّانِ اردو زبان و ادب اور شائقین شعر و سخن ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان اور اس ہال میں موجود خواتین و حضرات کا تہہ دل سے استقبال کیا۔ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر موصوف نے آج کی تقریب کے حوالے سے کہا کہ کیف عظیم آبادی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی ہے۔کیف عظیم آبادی کا شمار دبستان عظیم آباد کے ان شعراءمیں ہوتا ہے ، جنہوں نے اپنی خوبصورت شاعری اور دِلکش آواز کے امتزاج سے شائقین شعر و سخن کے دل و دماغ پرگہرے نقوش ثبت کئے۔ کیف نے ابتدا ہی سے ایک عام انسان کی زندگی گزاری۔ انہوں نے کہا کہ کیف عظیم آبادی کا مشاعروں سے بڑا گہرا اور اہم رشتہ تھا۔ مشاعرہ اُن کی زندگی کااہم حصہ تھا۔ انہوں نے مقامی، ریاستی، قومی اور بین الاقوامی ہر سطح کے مشاعروں میں کثرت سے شرکت کی اور خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ کیف کی شاعری میں شعری حسن اور تغزل کے ساتھ زندگی کی سچی آواز، تجربات و احساسات کی شدّت اور عصری حِسّیت نمایاں ہیں۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر توقیر عالم،نے کیف عظیم آبادی کے جدید اور خوبصورت لہجے کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ کیف عظیم آبادی داخلی تنہائی کے شاعر تھے۔یہ منفرد نوعیت کے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنے اشعار میں میں غربت، تنہائی،ویرانی، گمنامی، جذبات و احساسات کے علاوہ اپنے داخلی تجربات اور اجتماعی مسائل کو بھی سمونے کی بھی کاکامیاب کوشش کی ہے۔ان کے کلام میںوجود کے ٹوٹنے، بکھرنے اور منتشر ہو جانے کا احساس شدت سے نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیف عظیم آبادی نے اپنی شاعری میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔اس سے قبل مقالہ خواں کی حیثیت سے فخر الدین عارفی ، معروف افسانہ نگار ، ادیب و ناقد، پٹنہ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کیف عظیم آبادی سے اپنے دیرینہ تعلقات پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ جب سے میں با شعور ہوا کیف صاحب سے رابطہ رہا۔وہ مجھے بہت عزیز رکھتے تھے۔ کیف نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ قطعات، رباعیات،گیت ، دوہے اور قصیدے بھی لکھے۔ لیکن ان کے فن کا جوہر ان کی غزلوں میں نکھر کر سامنے آیا۔کیف کی آواز دلکش اور سحر انگیز تھی۔ وہ اپنی جادوئی آوازکے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا۔ ان کی شناخت ایک کامیاب غزل گو شاعر کی حیثیت سے مقبول و معرو ف تھی۔ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی، ایسوسی ایٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج، کولکاتانے اپنے مقالے میں کہا کہ کیف عظیم آبادی کا نام عروض سخن کی تزئین کاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والوںمیں سر فہرست ہے۔انہوں نے شعری و ادبی شناخت کو استحکام و استقلال بخشا ہے۔انہوں نے اپنے شاعرانہ جمال و کمال کوفنکاری کے ساتھ پیش کیا۔کیف کی شاعری سہل پسندی کے باوجود نئے پیکر اور نئے استعارات سے پر ہیں۔ کیف نے تقریباً چار دہائیوں تک علمی وادبی، تہذیبی و ثقافتی اور شعری تقاریب میں نمایاں رہے اور ان میں ان کی شرکت باعث اعزاز و توقیر سمجھا جاتا تھا۔کیف کی غزلوں کا رنگ و آہنگ رواں دواں، سادہ اور سلیس ہے۔ ڈاکٹر خالدہ نازنے کہا کہ مقبول و معروف شاعر کے علاوہ ایک مخلص، خوش مزاج او رملنسار شخصیت کے مالک تھےاور یہی ان کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت کی وجہ رہی۔وہ اپنی خوبصورت شاعری کی طرح اپنی دلکش اور پرکیف آواز کے لئے مشہور تھے۔ ان کے اشعار تعزل سے بھر پور ہیں۔کیف عظیم آبادی کی شاعری میں عصری حسیت، ترقی پسند رجحانات ہیں او رپرانی روایات کا احساس بھی۔ وہ اپنے جذبات و خیالات کو نئے نئے انداز میں پیش کرنے کے ہنر سے بخوبی واقف تھے۔ کیف عظیم آبادی نے خارجی حقائق کو داخلی کائنات میں سمونے کی کوشش کی ہے۔وہ روایت آشنا اور اپنے عہد کی حقیقتوں کا ادراک رکھنے والے با شعور انسان تھے۔ کیف عظیم آبادی کی اس تقریب میں بحیثیت سامعین شریک بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئر مین امتیا ز احمد کریمی نے بھی کیف عظیم آبادی پر اپنے خیالات کا اظہار بہت ہی جامع اور عالمانہ انداز میں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ نئ نسل کو کیف عظیم آباد کی زندگی سے درس اور عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ کس طرح انہوں نے اپنا کاروبار اور ذریعہ معاش جاری رکھتے ہوئے اپنے علم، اپنی زبان اور اپنی شاعری کے ذریعہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے کہا اردو کے حوالے سے اس زبان کی اہمیت و افادیت اور مشاعرے کی ضرورت اور تقاضے پر بھی بڑی جامع مددل گفتگو کی طلباو طالبات کی پیش کش کے تحت پٹنہ یونیورسٹی کی طالبہ نغمہ پروین اور طالب علم محمد کمیل نےبھی کیف عظیم آبادی پر مختصر مقالہ پیش کیا۔اس موقع پر کیف عظیم آبادی کی صاحبزادے احمد قیس اور صاحبزادی ڈاکٹر زر نگار یاسمین کو شال کرکے اعزاز بخشا گیا ۔ تقریب کے دوسرے سیشن میں بزم سخن کے تحت کولکاتا کے مشہور و معروف شاعرحلیم صابرکی صدارت اور معروف شاعر اثر فریدی کی نظامت میں مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس میںڈاکٹر فرحت حسین خوشدل، رئیس اعظم حیدری، ڈاکٹر التفات امجدی، مصلح الدین کاظم، اسرار عالم سیفی، منور رانا دانا پوری،اویناش بندھو،تحسین روزی اور انجم آرا نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ محفل سخن میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے کیف عظیم آبادی کی مشہور غزل کے چند اشعار ترنم میں بطور خراج عقیدت پیش کئے ۔ موصوف ڈائرکٹر کی اس غنائیت اور سحر انگیز آواز سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم ، اردو ڈائرکٹوریٹ پٹنہ نے بحسن و خوبی انجام دئے۔تقریب میں بڑی تعداد میں محبان اردو شریک ہوئے۔خاص طور سے پروفیسر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر زر نگار یاسمین،محمد آصف،ڈاکٹر سرورحسین،ڈاکٹر نصر اللہ نستوی، امتیاز کریم، مرغوب اثر فاطمی، نیاز نذر فاطمی، معین گریڈیہوی، ممتاز فرخ، منیر سیفی، ڈاکٹر قیصر زاہدی، سید پرویز انجم، اصغر حسین کامل، محمد عارف انصاری، ارشدرضا، صابر سہرساوی سمیت بڑی تعداد میں کالج و یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات، قدردانِ اردو، صحافت سے تعلق رکھنے والی شخصیتیں ،پٹنہ ضلع میں مامور اردو عملے سمیت سینکڑوں افراد تقریب میں موجود تھے۔تقریب کا اختتام شاہ عالم،اردو ڈائرکٹوریٹ کے تشکراتی کلام پر ہوا۔