تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیےہر ممکن کوشش کریں گے: سمراٹ
••10 views•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 20 ستمبر:(اے بی این ) وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے مالی امداد سے محروم اساتذہ کو یقین دلایا ہے کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور ان کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کی جائے گی اور مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ افسران کو اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔شری کرشن میموریل ہال میں مالی امداد سے محروم اساتذہ کی جانب سے منعقدہ اعزاز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ نئی نسل کے مستقبل کے معمار ہیں۔ حکومت نے ہمیشہ اساتذہ کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی یہ احترام برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے طلبہ ہی کل بہار کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان اور خوشحال بہار کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حکومت، اساتذہ اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بہار کی تاریخی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مگدھ کی سرزمین نے ملک کے نظامِ حکومت کو نئی سمت دی ہے۔ 2005 کے بعد ریاست کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق 2024 میں جھارکھنڈ کا بجٹ ایک لاکھ 39 ہزار کروڑ روپے تھا، جبکہ بہار کا بجٹ 3 لاکھ 17 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دی ہے۔ اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ 15 جولائی کو ریاست کے 211 نئے ڈگری کالجوں میں ایک ساتھ تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئیں اور تقریباً 2500 اسسٹنٹ پروفیسروں کی تقرری کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بہار کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر نہ جانا پڑے اور ریاست میں ہی انہیں بہتر تعلیمی مواقع اور معیاری اساتذہ دستیاب ہوں۔ ریاست میں 700 ماڈل اسکول قائم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً 3.5 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ’ودیارتھی ساتھی‘ ایپ سے 75 ہزار اساتذہ کو جوڑا گیا ہے اور رات کے اوقات میں بھی تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار طلبہ آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سمراٹ چودھری نے کہا کہ حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایک کروڑ خواتین کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کی سمت میں بھی کام کیا جائے گا۔ انہوں نے خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں نچلے درجے کے ملازمین سے لے کر وائس چانسلر تک خواتین کی نمائندگی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نالندہ یونیورسٹی کو دوبارہ قائم کیا گیا ہے، جبکہ وکرم شیلا یونیورسٹی کے قیام کے لیے 220 ایکڑ زمین مختص کی جاچکی ہے۔ حکومت کا مقصد تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا اور طلبہ کو بہتر مستقبل فراہم کرنا ہے۔تقریب میں قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، رکن قانون ساز کونسل پروفیسر ڈاکٹر نول کشور یادو اور نیرج کمار سمیت متعدد عوامی نمائندگان اور بڑی تعداد میں مالی امداد سے محروم اساتذہ موجود تھے۔