اتوار، 4 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایودھیا مندر میں چوری کی تحقیقات پر جے رام رمیش کے سوالات، نگرانی کرنے والوں کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا؟
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

ایودھیا مندر میں چوری کی تحقیقات پر جے رام رمیش کے سوالات، نگرانی کرنے والوں کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا؟

Awaz E Bihar
•4 اکتوبر، 2026 کو 03:46 PM•3 ویوز•4 منٹ پڑھیں

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانوں کی مبینہ چوری کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ مندر کے انتظامات کی نگرانی کے ذمہ دار افراد کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ مبینہ طور پر چوری کے 105 واقعات سی سی ٹی وی میں قید ہوئے ہیں۔
مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چندا چوری، آستھا دھوکا کے عنوان سے ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت اس معاملے میں غیر معمولی نرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور مرکزی تفتیشی بیورو جیسی مرکزی ایجنسیوں کا اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف جارحانہ انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسٹر رمیش نے پوچھامودی حکومت ایودھیا کے رام مندر سے نذرانے چوری کرنے والوں کے تئیں اتنی نرمی کیوں برت رہی ہے؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے مبینہ چوری کے 105 واقعات سامنے آئے ہیں اور سوال کیا کہ تحقیقات ان لوگوں تک کیوں نہیں پہنچیں، جو مندر کے انتظامات کے ذمہ دار ہونے کے باوجود مبینہ طور پر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے شبہ میں ہیں۔
مسٹر رمیش نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان معاملات میں صرف 79.85 لاکھ روپے کی مبینہ برآمدگی ہی کیوں ہوئی۔ انہوں نے پوچھاچوری کے 105 واقعات کے مقابلے میں صرف 79.85 لاکھ روپے برآمد ہونے کے بعد معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟
کانگریس رہنما نے خاص طور پر چمپت رائے اور انیل مشرا کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ انہیں ملزم کے بجائے گواہ کیوں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے پوچھاچمپت رائے اور انیل مشرا ملزم کیوں نہیں ہیں اور وہ گواہ کیسے ہیں؟
رمیش نے چوری کا پتہ چلنے اور ایف آئی آر درج ہونے کے درمیان مبینہ 21 دن کے وقفے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، چوری شدہ رقم کی ویڈیو 4 جون کو چمپت رائے تک پہنچی، 5 جون کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی، جبکہ ایف آئی آر 25 جون کو درج کی گئی۔
انہوں نے پوچھا21 دن کی اس تاخیر کی مکمل حقیقت ملک کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی؟
کانگریس رہنما نے کہا کہ مبینہ چوری کے پیمانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اعلیٰ سطح پر ملی بھگت، لاپروائی یا تحفظ کے بغیر 105 واقعات جاری رہ سکتے تھے۔ انہوں نے پوچھا105 واقعات کے باوجود صرف 8 ملزم کیسے ہوسکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ تحقیقات صرف ان لوگوں کی شناخت تک محدود نہیں ہونی چاہئیں جو مبینہ طور پر انفرادی چوری میں ملوث تھے، بلکہ ان لوگوں کی جواب دہی بھی طے ہونی چاہیے جن کی نگرانی میں مبینہ طور پر یہ واقعات پیش آتے رہے۔ رمیش نے سوال کیا، ''کیا تحقیقات کا مقصد صرف چھوٹے پیمانے پر نذرانے چرانے والوں کو پکڑنا تھا یا ان لوگوں کی جواب دہی بھی طے کرنا تھا جن کی سرپرستی اور نگرانی میں یہ سب مبینہ طور پر جاری رہا؟'' مسٹررمیش نے دہرایا کہ کانگریس نے ابتدا ہی سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ، غیر جانب دار اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہانذرانے رام کے نام پر دیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 105 واقعات کے باوجود تحقیقات مبینہ طور پر چوری کی گئی مجموعی رقم تک کا تعین نہیں کر پائی ہیں تو تحقیقات کو جلد ختم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت واقعی مبینہ چوری کے ذمہ دار تمام افراد کی شناخت کرنا چاہتی ہے یا تحقیقات کے زیادہ ذمہ داری رکھنے والے لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ہی معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ مسٹر رمیش نے پوچھاوزیر اعظم، ملک کے لوگوں کے عقیدے سے جڑے اس معاملے پر آپ کی خاموشی کب ٹوٹے گی؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اقتدار کا تکبر خود تباہ کن ہوتا ہے اور مبینہ طور پر نذرانوں کی چوری کے معاملے میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

More from قومی

آئینی اداروں کو کمزور کرنا اس کے ڈی این اے میں ہے: شیوراج
قومی

آئینی اداروں کو کمزور کرنا اس کے ڈی این اے میں ہے: شیوراج

4 اکتوبر، 2026
ایس آئی آر ووٹ چوری کو لیکر ممبئی میں ، ٹھاکرے برادران کا زبردست احتجاج
قومی

ایس آئی آر ووٹ چوری کو لیکر ممبئی میں ، ٹھاکرے برادران کا زبردست احتجاج

4 اکتوبر، 2026
 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026