ایس آئی آر ووٹ چوری کو لیکر ممبئی میں ، ٹھاکرے برادران کا زبردست احتجاج
Awaz E Bihar
••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
عرس البلاد ممبئ میں آج یہاں ایس آئ آر ووٹ چوری کو لیکر شیوسینا اودھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نو نرمان سینا نے زبردست احتجاج کیا اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کا کیا ۔اس موقع پر شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک بھر میں انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے گئے ہیں، جب کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں بھی ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے متاثرہ افراد سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔ممبئی میں احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اب ملک بھر میں لوگ ووٹ چور کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی تقرری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں جانبدارانہ انداز میں اس منصب پر فائز کیا گیا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کانگریس کے دورِ اقتدار میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا تھا جس میں اسے ملک کی اب تک کی سب سے بدعنوان حکومت قرار دیا جاتا تھا اور انڈیا اگینسٹ کرپشن کا نعرہ بلند کیا گیا۔ ان کے بقول، اب ملک میں انڈیا اگینسٹ ووٹ چور کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ اس موقع پر مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئ آر ) کے عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انتخابی عمل میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (اے وی ایم ) کے بجائے بیلٹ پیپر استعمال کرنے کی بھی اپیل کی۔راج ٹھاکرے نے کہا کہ اگر یہ دونوں اقدامات کیے جائیں تو انتخابی عمل سے متعلق حقیقت واضح ہو جائے گی۔ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل اور ایس آئ آر کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جا رہا احتجاجی مارچ ساوتھ ممبئ کے میٹرو سنیما سے شروع ہو کر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر پر اختتام پذیر ہوا۔احتجاج کے پیش نظر اہم مقامات پر سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے تھے، جب کہ ریلی کے مقام پر بینرز اور دیگر انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔ مظاہرے میں نوجوانوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ متعدد مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے درج تھے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔دریں اثنا، بی جے پی لیڈر رام کدم نے ادھو ٹھاکرے کے موجودہ موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے سابقہ مؤقف کی جانب توجہ مبذول کرائی۔کدم نے دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے نے 9 نومبر 2025 کو ایک مارچ نکالا تھا جس میں انتخابی فہرستوں سے مبینہ فرضی ناموں کے اخراج کا مطالبہ کیا گیا تھا۔رام کدم کے مطابق، اس احتجاج کو ستیاگرہ مورچہ کا نام دیا گیا تھا اور اس دوران ادھو ٹھاکرے نے انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے دعوے کے حق میں متعدد شواہد بھی پیش کیے تھے۔یوں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ایس آئی آر کے طریقۂ کار اور ووٹنگ کے نظام سے متعلق ٹھاکرے برادران اور بی جے پی کے درمیان سیاسی اختلاف ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو گیا ہے۔