امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
Awaz E Bihar••20 ویوز•3 منٹ پڑھیں
دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان امن پر یقین رکھتا ہے اور کسی ملک کی زمین پر قبضہ نہیں چاہتا، لیکن امن کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی استحکام چاہتا ہے، لیکن اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کی قیمت پر نہیں اور خطرہ ہونے پر ملک اپنی سلامتی کے لیے ضروری قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ مسٹر سنگھ نے اتوار کے روز یہاں ایک کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملکوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے یا دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ملکوں کو واضح پیغام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک کی دہشت گردی پرور پالیسی جاری رہنے تک ہندوستان کو اس کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ مسٹر سنگھ نے قومی اتحاد کو قومی سلامتی کی ایک اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے مذہب، ذات، زبان اور خطے کی بنیاد پر تقسیم سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ہندوستان کے نقطہ نظر کے بنیادی اصول 'وسودھیو کٹمبکم‘ اور 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس سمیت احترام، بات چیت، خوشحالی، سلامتی اور ثقافت کو پانچ اسٹریٹجک ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار اور 'وشو بندھو‘ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ 'ویکسین میتری کے تحت 100 سے زیادہ ملکوں کو 30 کروڑ سے زیادہ کووڈ ویکسین فراہم کی گئی ہیں۔ ہندوستان نے ادویات، ڈیجیٹل ادائیگیوں، مہارت اور وسائل کے ذریعے بھی ترقی پذیر ملکوں کی مدد کی ہے۔ دفاعی خود انحصاری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات 2013-14 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں ریکارڈ 38,424 کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ اب 2029 تک 50,000 کروڑ روپے کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سال 2026-27 کا دفاعی بجٹ 7.85 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں سے کیپٹل پروکیورمنٹ بجٹ کا تقریباً 75 فیصد یعنی 1.39 لاکھ کروڑ روپے گھریلو صنعت سے خریداری کے لیے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بدلتے ہوئے انداز کو دیکھتے ہوئے سائبر، خلائی، الیکٹرانک اور انفارمیشن وارفیئر کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، ڈرون، خود مختار نظام، کوانٹم اور ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا۔ 509 دفاعی سامان اور نظاموں کو دیسی کاری (انڈیجنائزیشن) کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ڈی پی ایس یو کی 5,417 اشیاء کی فہرست میں سے تقریباً 3,300 کی دیسی کاری مکمل ہو چکی ہے۔ دفاعی شعبے میں 16,000 سے زیادہ ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپس، یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے جڑے ہوئے ہیں۔ اتر پردیش اور تمل ناڈو کے ڈیفنس کوریڈورز میں تقریباً 70,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ 'سرجن کے تحت تقریباً 33,000 درآمد شدہ اشیاء کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے تقریباً 15,700 کی دیسی کاری کی جا چکی ہے۔ آئی ڈیکس کے تحت اس سال مارچ تک 676 اسٹارٹ اپس اور انوویٹرز شامل ہوئے اور 551 معاہدے طے پائے۔ دفاعی وزیر نے اعلان کیا کہ روایتی میزائل سسٹمز کی ڈی آر ڈی او کے ذریعے تیار کردہ ٹیکنالوجی اہل ہندوستانی صنعتوں کو دی جائے گی تاکہ نجی کمپنیاں ان کی پیداوار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کو تحقیق و ترقی اور صنعت کو پیداوار میں زیادہ کردار دے کر ہندوستان کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بنایا جائے گا۔