جمعرات، 8 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بہار میں صنعتی ترقی کا بڑا منصوبہ، پانچ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

بہار میں صنعتی ترقی کا بڑا منصوبہ، پانچ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف

Awaz E Bihar
•8 اکتوبر، 2026 کو 06:11 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 8 اکتوبر:(اے بی این ) بہار میں خود روزگار اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے بدھ کو باپو سبھاگار میں وزیراعلیٰ ادیمی یوجنا کے تحت منتخب مستفیدین کے تعارفی پروگرام اور مالی امداد کی تقسیم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پہلی، دوسری اور تیسری قسط کے تحت 7 ہزار سے زائد مستفیدین کے بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی گئی، جبکہ ریاست کے تمام اضلاع میں ایم ایس ایم ای مراکز کا بھی افتتاح کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا ہدف بہار کے ایک کروڑ خاندانوں کو کاروبار سے جوڑ کر معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ ادیمی یوجنا کے تحت 45 ہزار کاروباری افراد تیار کیے جا رہے ہیں، جن پر ریاستی حکومت 3,500 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس اسکیم میں خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں، درج فہرست ذات و قبائل اور انتہائی پسماندہ طبقات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پی پی پی ماڈل کے تحت پانچ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں صنعتوں کے لیے 20 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب کرانے کی سمت میں بھی کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بہار کے نوجوان روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ دوسروں کو روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاست میں تیار ہونے والی مصنوعات کو سرکاری خریداری میں ترجیح دینے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم، سڑک، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ دیہی سڑکوں کے علاوہ ہائی ویز اور ایکسپریس ویز کے نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ پٹنہ میٹرو منصوبے کو بھی عملی شکل دی جا رہی ہے۔تعلیم کے شعبے میں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں 700 مقامات پر سرسوتی ودیا نکیتن ماڈل اسکول قائم کیے گئے ہیں، جہاں طلبہ کو نیٹ (NEET) اور جے ای ای (JEE) جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کی سہولت ملے گی۔ ’ودھیارتھی ساتھی‘ ایپ کے ذریعے طلبہ کو ہفتے کے ساتوں دن، 24 گھنٹے آن لائن ٹیوٹر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں 211 ڈگری کالج قائم کیے جا چکے ہیں اور اگلے سال سے ان میں سائنس کی تعلیم شروع کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔سیاحت کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں ریاست کے 20 اہم مقامات پر روپ وے تعمیر کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔ مرین ڈرائیو سے سون پور کے درمیان روپ وے کی تعمیر کے لیے ایک نجی کمپنی نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے میں بجلی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے آئندہ ایک سال میں تمام زرعی فیڈروں کو 100 فیصد شمسی توانائی سے جوڑنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایم ایس ایم ای شعبے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے، جس میں سے کم از کم دسواں حصہ بہار کو ملنے کی امید ہے۔ اس سے ریاست میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے اس تعاون کے لیے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بہار میں صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ آئندہ پانچ برسوں میں صنعتوں کے لیے 20 ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب کرانے کی سمت میں کام کیا جائے گا، تاکہ سرمایہ کاروں کو بہتر بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بہار میں تیار ہونے والی مصنوعات کو سرکاری خریداری میں ترجیح دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پرچیز پریفرنس ایکٹ کے تحت ریاست میں تیار ہونے والی اشیاء کی 25 سے 40 فیصد تک سرکاری خریداری کا ہدف ہے۔ اس اقدام سے مقامی صنعت کاروں کو بازار دستیاب ہونے اور ان کی مصنوعات کی مانگ بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تقریب میں بہار ایم ایس ایم ای پالیسی 2026 سمیت مختلف صنعتی پالیسیوں اور اسکیموں سے متعلق کتابچوں کا اجرا بھی کیا گیا۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

More from بہار

کسی تخلیق کے صنفی مزاج کو سمجھ کر ترجمے کا کام کیا جانا چاہیے:پروفیسر احمد بدر
بہار

کسی تخلیق کے صنفی مزاج کو سمجھ کر ترجمے کا کام کیا جانا چاہیے:پروفیسر احمد بدر

8 اکتوبر، 2026
 کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے
بہار

کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے

7 اکتوبر، 2026
وزیر اعظم کی قیادت میں ملک وکست بھارت کی جانب گامزن: سمراٹ چودھری
بہار

وزیر اعظم کی قیادت میں ملک وکست بھارت کی جانب گامزن: سمراٹ چودھری

7 اکتوبر، 2026
مترجمین کو ترجمے کے دوران لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں سے مستعدرہنا چاہےے :پروفیسر علی رفاد فتیحی
بہار

مترجمین کو ترجمے کے دوران لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں سے مستعدرہنا چاہےے :پروفیسر علی رفاد فتیحی

7 اکتوبر، 2026
لوک سبھا انتخابات سے پہلے اساتذہ کو ساتواں پے کمیشن دلانے کا دعویٰ، پرشانت کشور کا بڑا اعلان
بہار

لوک سبھا انتخابات سے پہلے اساتذہ کو ساتواں پے کمیشن دلانے کا دعویٰ، پرشانت کشور کا بڑا اعلان

6 اکتوبر، 2026
پی ایم رہائش منصوبہ کے تحت مکانوں کی تعمیر میں تیزی لانے کا ہدف
بہار

پی ایم رہائش منصوبہ کے تحت مکانوں کی تعمیر میں تیزی لانے کا ہدف

6 اکتوبر، 2026