سارن میں سیلابی تباہی کے بیچ راحت و بچاؤ آپریشن تیز، 19 ٹیمیں میدان میں
Awaz E Bihar
••1 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 2 اکتوبر:(اے بی این ) سارن ضلع کے مختلف بلاکس میں سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر راحت اور بچاؤ کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر آفت انتظامیہ محکمہ اور ضلع انتظامیہ کی مشترکہ نگرانی میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں بچاؤ ٹیموں اور ضروری وسائل کی مسلسل تعیناتی کی جا رہی ہے۔ نئے علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہونے کے پیش نظر این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی اضافی ٹیمیں بھی سارن بھیجی گئی ہیں۔ضلع میں پہلے سے این ڈی آر ایف کی 5 اور ایس ڈی آر ایف کی 3 ٹیمیں تعینات تھیں۔ راحت و بچاؤ آپریشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بیتیا سے این ڈی آر ایف کی 3، گوپال گنج سے 2، بھاگلپور سے 2 اور سپول سے ایک اضافی ٹیم سارن بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مدھوبنی، دربھنگہ، سمستی پور اور مشرقی چمپارن سے ایس ڈی آر ایف کی 4 ٹیمیں بھی روانہ کی گئی ہیں۔ اس طرح سارن میں اب این ڈی آر ایف کی 12 اور ایس ڈی آر ایف کی 7، مجموعی طور پر 19 ٹیمیں راحت و بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔ این ڈی آر ایف کی 12 ٹیموں میں مجموعی طور پر 360 تربیت یافتہ اہلکار تعینات ہیں۔ ان ٹیموں کے پاس 50 سے زائد کشتیاں، 480 لائف جیکٹس اور 360 لائف بوائز سمیت سیلابی علاقوں میں امدادی کارروائی کے لیے ضروری سامان موجود ہے۔ ہر این ڈی آر ایف ٹیم میں 30 تربیت یافتہ اہلکار، 5 کشتیاں، 30 لائف بوائز، 40 لائف جیکٹس اور 2 ڈیپ ڈائیو سیٹ فراہم کئے گئے ہیں۔ایس ڈی آر ایف کی اضافی ٹیموں میں بھی خاطر خواہ وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔ دربھنگہ سے آنے والی ٹیم میں 20 اہلکار اور 4 کشتیاں، مدھوبنی کی ٹیم میں 20 اہلکار اور 6 کشتیاں، سمستی پور کی ٹیم میں 19 اہلکار اور 6 کشتیاں، جبکہ مشرقی چمپارن سے آنے والی ٹیم میں 18 اہلکار اور 6 کشتیاں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ایس ڈی آر ایف کے 140 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار اور 36 سے زائد کشتیاں راحت و بچاؤ میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ سیلاب متاثرین تک راشن پہنچانے کے لیے فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک 3 ہزار سے زائد راشن پیکٹ ایئر ڈراپ کئے جا چکے ہیں، جبکہ شام تک 5 ہزار سے زائد پیکٹ ایئر ڈراپ کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع سے بھی سارن کے لیے بڑی مقدار میں راشن بھیجا جا رہا ہے۔پٹنہ سے 10 ہزار، سیوان سے 15 ہزار، بھوجپور سے 5 ہزار، بکسر سے 5 ہزار اور ویشالی سے 5 ہزار راشن پیکٹ سارن بھیجے جا رہے ہیں۔ اس طرح مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 40 ہزار راشن پیکٹ متاثرہ علاقوں کے لیے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو فوری عارضی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف اضلاع سے 75 ہزار پلاسٹک شیٹ سارن بھیجی جا رہی ہیں۔ ان میں دربھنگہ سے 25 ہزار، مدھوبنی سے 20 ہزار، سیتامڑھی سے 15 ہزار اور سمستی پور سے 15 ہزار پلاسٹک شیٹ شامل ہیں۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم، بچاؤ کارروائی اور ضروری خدمات کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ سیلاب کی صورت حال اور ضرورت کے مطابق مزید وسائل کی تعیناتی اور امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آفت زدہ افراد تک ہر ممکن مدد پہنچانے کے لیے انتظامیہ پوری طرح سرگرم ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے ٹول فری نمبر 1070 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔